صوبے کو نوکریوں میں نظر انداز کرنے پر سندھ کا وفاق سے احتجاج کا فیصلہ 

صوبے کو نوکریوں میں نظر انداز کرنے پر سندھ کا وفاق سے احتجاج کا فیصلہ 

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ سرکار نے سال 19-2018 میں بھی صوبے کو نوکریوں میں نظر انداز کرنے پر وفاق سے احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔اس ضمن میں وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو نے  اپنے پالیسی بیان میں کہا ہے کہ وفاق نے ایک بار پھر سندھ کو وفاقی نوکریوں میں نظرانداز کردیاہے۔ وفاق نے سال دوہزار18 اور 19 میں سندھ  کو کوٹا کے تحت 30 ہزار نوکریاں کم دیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب سے 10 ہزار اور کے پی سے 96 ہزار اضافی بھرتیاں کی گئیں۔وفاق نے کوٹے کو نظر انداز کرتے ہوئے پنجاب اور کے پی کے نوجوانوں کو سندھ سے زیادہ نوکریاں دیں۔ پنجاب کو کوٹے سے دس ہزارتین ملازمتین زیادہ دی گئیں۔ کوٹے کے تحت سندھ کی ایک لاکھ 12 ہزار817 ملازمتیں بنتی ہیں جبکہ سندھ کو 81 ہزار 403 نوکریاں دی گئیں۔کراچی کو پونے دو سالوں میں اعلانات کے سوا ایک ٹکا بھی نہیں ملا۔ وزیراعظم خود کوایک اورٹیکہ لگوائیں تاکہ سندھ کے نوجوا نون کو وفاق میں حق مل سکے۔ محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ وفاق نے نوکریوں کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں میں بھی سندھ کو نظرانداز کردیا ہے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے سندھ میں غیر ملکی قرضوں سے صرف دوسڑکوں کے منصوبے دیئے۔ زیادہ سڑکیں پنجاب اور کے پی کو بناکر دی گئی ہیں۔

مزید : صفحہ اول