”اسلامی سزائوں کو بربریت کہنے والے خود ظالم ہیں“ وفاقی وزرا کی تنقید کے بعد علی محمد خان ایک مرتبہ پھر میدان میں آگئے، کھل کر بول پڑے

”اسلامی سزائوں کو بربریت کہنے والے خود ظالم ہیں“ وفاقی وزرا کی تنقید کے بعد ...
”اسلامی سزائوں کو بربریت کہنے والے خود ظالم ہیں“ وفاقی وزرا کی تنقید کے بعد علی محمد خان ایک مرتبہ پھر میدان میں آگئے، کھل کر بول پڑے

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے قبائلی نظام کو برا کہنے پر اپنی ہی پارٹی رکن اور وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو سخت جواب دے دیا۔گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی جسے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے پیش کیا تھا۔

فواد چوہدری نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے ملزمان کو سرِعام پھانسی کی قرارداد کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے قوانین تشدد پسندانہ معاشروں میں بنتے ہیں اور یہ انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، بربریت سے آپ جرائم کے خلاف نہیں لڑ سکتے ہیں۔

فواد چوہدری کا ایک اور ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ دنیا کی تاریخ میں یہ سب ہو چکا ہے، اس طرح کی سزائیں قبائلی معاشروں میں ہوتی ہیں جہاں انسان اور جانور ایک برابر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مہذب معاشرے مجرموں کو سزا سے پہلے جرم روکنے کی تدبیر کرتے ہیں، اس طرح کی سزائوں سے معاشرے بے حس ہو جاتے ہیں اور سزا اپنا اثر کھو دیتی ہے۔

فواد چوہدری کی مذکورہ ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ اللہ الحق ہے اور اس کا حکم الحق ہے، اسلامی سزائوں کو ظلم و بربریت کہنے والے خود ظالم ہیں۔دوسرا قبائلی معاشرہ دنیا کا سب سے مہذب معاشرہ ہے جہاں عورت کی عزت، بڑوں کا ادب اور پختون ولی ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ قبائلی معاشرہ وہ ہے جہاں سر قربان کیا جاتا ہے لیکن عزت نہیں، مجھے فخر ہے اپنے قبائلی معاشرے پر۔فواد چوہدری کے علاوہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد کی مخالفت کی ہے ساتھ ہی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نے بھی سخت مذمت کی ہے البتہ مسلم لیگ (ن) نے اس قرارداد کی حمایت کی ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد