بھارتی ریاست کیرالہ کے مکینوں کے گھر نلکوں میں بھی شراب آنے لگی لیکن دراصل یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ ایسا انکشاف کہ آپ بھی دم بخود رہ جائیں گے

بھارتی ریاست کیرالہ کے مکینوں کے گھر نلکوں میں بھی شراب آنے لگی لیکن دراصل یہ ...
بھارتی ریاست کیرالہ کے مکینوں کے گھر نلکوں میں بھی شراب آنے لگی لیکن دراصل یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ ایسا انکشاف کہ آپ بھی دم بخود رہ جائیں گے

  



نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی ریاست کیرالہ میں ایک عجب واقعہ پیش آیا ہے جہاں گھروں کے نلکوں سے پانی کے بجائے شراب آنے لگی جس پر لوگ حیران پریشان رہ گئے اور اس پریشان کن صورتحال کی وجہ سے کئی بچے سکول تو متعدد بڑے اپنی ملازمتوں پر نہیں جاسکے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پیر کی صبح پیش آنے والی یہ اچانک پریشانی لوگوں کیلئے اس وقت ایک درد سر بن گئی جب انھیں معلوم ہوا کہ جس کنوئیں کا پانی شراب سے آلودہ ہو گیا تھا وہ ان کو پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ تھا۔

ہوا کچھ یوں کہ محکمہ ایکسائز کے اہلکاروں نے 6 ہزار لیٹر غیرقانونی شراب کو ٹھکانے لگانے کی عجیب و غریب حکمت عملی اختیارکی اور اٹھارہ اپارٹمنٹس کے ایک پلازہ کے نزدیک بڑا سا گڑھا کھود کراس میں شراب انڈیل دیاتھا جو رستے رستے قریب ہی لگے واٹر پمپس میں جانے لگی اور پھر لوگوں کے نلکوں سے جاتے پانی کے ساتھ شامل ہوگئیں۔ایک مقامی شہری کے مطابق صبح صبح ان کے کرائے دار نے محسوس کیا کہ ان کے باورچی خانے کے نلکے سے شراب کی بو والا گدلی رنگت کا پانی آ رہا ہے۔

جوشی ملیاکل نامی شہری نے مزید بتایا کہ ’مختلف شرابوں کا چھ ہزار لیٹر یہ آمیزہ رس رس کر زیر زمین پانی کے ذخیرہ میں شامل ہو گیا جہاں سے پمپوں کے ذریعے اس اٹھارہ اپارٹمنٹس پر مشتمل بلڈنگ کوپینے کا پانی فراہم کیا جا رہا تھا۔انہوں نے بتایا کہ شراب ملے پانی کی سپلائی کی وجہ سے اس عمارت میں رہنے والوں کا کوئی بچہ سکول اور ان کے والدین کام پر نہیں جا سکے۔

پریشانی کی حالت میں لوگوں نے مقامی مونسپل حکام اور پولیس سے رابطہ کیا۔ اس صورتحال کے سامنے آنے کے بعد محکمہ ایکسائّز کے حکام کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انھوں نے فوری طور لوگوں کو پانی فراہم کا متبادل بندوست کرنے کی پیش کش کی۔

کیرالہ میں کنوو ں سے پانی کی فراہمی بہت عام ہے اور یہاں پائپ کے علاوہ کنویں پانی کی فراہمی کا ایک بڑا متبادل ہیں۔رپورٹس کے مطابق تین دن سے کنویں کی صفائی جاری ہے تاہم ابھی تک پانی صاف نہیں ہورہا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس