نئے پاکستان میں کرپشن کے نئے اعدادوشمار، پی آئی اے میں کتنا غبن ہوا؟ آڈٹ رپورٹ سامنے آگئی

نئے پاکستان میں کرپشن کے نئے اعدادوشمار، پی آئی اے میں کتنا غبن ہوا؟ آڈٹ ...
نئے پاکستان میں کرپشن کے نئے اعدادوشمار، پی آئی اے میں کتنا غبن ہوا؟ آڈٹ رپورٹ سامنے آگئی

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)نئے پاکستان میں کرپشن کے بھی نئے اعدادوشمار جاری ہونے لگے۔ پی آئی اے کھاتوں میں بے ضابطگیوں کی آڈٹ رپورٹ منظرعام پر آگئی۔ڈائریکٹوریٹ جنرل کمرشل آڈٹ اینڈ ایولیویشن (ساﺅتھ) کراچی نے 6ارب سے زائد کی 16 بڑی بے قاعدگیاں پکڑلیں۔

جنگ نیوز کے مطابق پی آئی اے کے کھاتوں میں 6ارب 8 کروڑ 54 لاکھ روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو اس سے آگاہ کردیا گیا ہے جبکہ پی آئی اے کے اعلی حکام نے آڈیٹرجنرل سے ان بے قاعدگیوں کو نظرانداز اور ان پر پردہ ڈال دینے کی درخواست کی ہے۔

جنگ نیوز نے دستاویزات کے حوالے سے بتایا ہے کہ پی آئی اے کے ایچ آر افسرنے آڈیٹرز سے مذکورہ بے قاعدگیوں کو نظرانداز کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس کے علاوہ ترقیوں اور تعیناتیوں میں قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا۔

پی آئی اے کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر 70 کروڑ روپے کا ٹھیکہ صرف دو ماہ قبل رجسٹر ہونے و الی کمپنی کو دیا۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل کمرشل آڈٹ اینڈ ایولیوایشن (ساﺅتھ) کراچی نے پی آئی اے کے اکاﺅنٹس کا آڈٹ کیا اور معاملات کی جانچ پڑتال کی۔

اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ پی آئی اے کا آپریٹنگ خسارہ 5 ارب 28 کروڑ 20 لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر کی تقرری بے قاعدہ ہے اور وہ 29 لاکھ 95 ہزار ر وپے کے خلاف قاعدہ دہرے فائدے اٹھارہے ہیں۔

ڈیپوٹیشن پر آئے افسران کے الاﺅنسز اور مالی فوائد کی وجہ سے ادارے کو 7 کروڑ 18 لاکھ 66 ہزار روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ دوہری ملازمتوں کے نتیجے میں 12 لاکھ 40 ہزار روپے کا نقصان علیحدہ ہے۔

ڈسٹرکٹ مینجر راولپنڈی کو دھوکہ دہی سے پیشگی ادائیگی کی گئی جس سے ادارے کو 16 لاکھ 38ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ آڈٹ رپورٹ سے موجودہ قائم مقام چیف انٹرنل آڈیٹر کی غیر اخلاقی اور پچھلی تاریخ میں ترقی پر بھی روشنی پڑتی ہے اس کے علاوہ بھی متعدد بے قاعدگیاں کی گئیں۔

رابطہ کرنے پر سی ای او ایئر مارشل (ر) ارشد محمود ملک نے پی آئی اے کے چیف ایچ آر افسر ایئر کموڈور عامر الطاف کے خط کی نقل فراہم کی جس میں کہا گیا ہے کہ حسابات کا آڈٹ اور اقدامات نامعلوم شکایات پر بدنیتی سے کی گئیں جس میں ادارے کے ناراض ملازمین ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو اخبارات غیر تصدیق شدہ خبریں پھلارہے ہیں ان کے ساتھ بھی سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے اپنے 4 فروری کے حالیہ خط میں بھی شکایتی خطوط کونظرانداز کرنے کی درخواست کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ 21? جنوری کو سپریم کورٹ نے ایئر مارشل ارشد محمود ملک کو فرائض کی ادائیگی سے روکنے کا سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرارر کھا اور اسے چیلنج کرنے کی ارشد محمود ملک کی پٹیشن مسترد کردی۔ عدالت ے پی آئی اے کے امور چلانے کا اختیار بورڈ آف گورنرز کو دے دیا۔

مزید : اہم خبریں /قومی