اسحاق ڈار کی رہائش کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے بعد حامد میرنےحکومت کو ایسی تجویز پیش کر دی کہ حکومتی ایوانوں پر سکتہ طاری ہو جائے گا

اسحاق ڈار کی رہائش کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے بعد حامد میرنےحکومت کو ایسی ...
 اسحاق ڈار کی رہائش کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے بعد حامد میرنےحکومت کو ایسی تجویز پیش کر دی کہ حکومتی ایوانوں پر سکتہ طاری ہو جائے گا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کو محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے اس فیصلے پر بحث ہو رہی ہے،بعض تجزیہ کار اور سیاست دان حکومت کے اس فیصلے کو تحسین کی نظر سے دیکھ رہے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کی نظر میں حکومت کا یہ فیصلہ خلاف قانون اور سیاسی انتقام کا شاخسانہ ہے تاہم ایسے میں معروف صحافی اور سینئر تجزیہ کار حامد میر نے حکومت کو ایسی تجویز پیش کر دی ہے کہ جان کر ہی حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کے حکم پر لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے مکان ’ہجویری ہاؤس‘ کو محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال نے پناہ گاہ بنا دیا  ہےجبکہ دوسری طرف حکومت کے اس اقدام پر لندن میں موجود ن لیگی رہنمااسحٰق ڈار نے سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ27 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک بڑا واضح فیصلہ دیا جس کی بنا پر 28 جنوری کو اس گھر کی نیلامی نہیں ہو سکتی،حکومت نے دراصل اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کی خلاف ورزی کی ہے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے،ہم اس توہین عدالت کے خلاف جلد درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائیں گے۔انہوں نے کہا کہ1988 سے یہ گھر میرا ہے، ریاستی دہشت گردی کے تحت میرے اس گھر میں جو قدم اٹھایا گیا ہے بہتر ہے موجودہ حکومت اس سے باز آئے اور فوری طور پر اسے ختم کرے۔

حکومت کے اس اقدام پر ملک کے سینئر صحافی اور نجی ٹی وی کے مشہور اینکر حامد میر نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے حکومت کو تجویز دی ہے کہ اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں پرویز مشرف کا وسیع و عریض فارم ہاؤس بھی ضبط شدہ جائیداد ہے ،یہاں پر بھی ایک عظیم الشان شیلٹر ہوم بن سکتا ہے۔یاد رہے کہ حامد میر  کا سابق فوجی صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے سخت ترین  ناقدین میں شمار ہوتا ہے اور وہ اکثر و بیشتر اپنے ٹی وی پروگرامز اور اخباری کالموں میں پرویز مشرف کے اقدامات کی کھل کر مخالفت کرتے رہتے ہیں ۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد