سابق وزیر خزانہ نے تحریک انصاف حکومت کی معاشی پالیسیوں کا کچا چٹھا کھول دیا

سابق وزیر خزانہ نے تحریک انصاف حکومت کی معاشی پالیسیوں کا کچا چٹھا کھول دیا
سابق وزیر خزانہ نے تحریک انصاف حکومت کی معاشی پالیسیوں کا کچا چٹھا کھول دیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا ہے کہ سال 2019میں مزید 10کروڑ افراد غریب ہوئے جس میں مزید اضافے کا امکان ہے ،ملک میں افراط زر اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا،مہنگائی میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ صنعتی شعبے میں 6 فیصد کمی اور کپاس کی فصل فیل ہو چکی ہے،ہائی اسپید ڈیزل کے استعمال میں 10فیصد کمی آئی ہے، تاریخ میں اتنا معاشی بحران پیدا نہیں ہوا۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ حکومت نے جنوری میں افراط زر کے جو اعدادو شمار شائع کیے اس میں اضافہ دکھایا گیا ہے لیکن وہ اعداد و شمار درست نہیں ہیں۔انہوں نےکہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے کے بعد بہت سارے فیصلے ایک ساتھ کیے گئے جس کی وجہ سے مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا،سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ الگ الگ راستے پر گامزن ہیں اور کوئی اشتراک نظر نہیں آ رہا،حکومت کے ریزرو میں اضافہ ہوا ہے لیکن جس طرح سے اضافہ ہوا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مزید 10کروڑ افراد غریب ہوئے اور 10لاکھ افراد بے روزگار ہوئے، ترقی کی رفتار مزید کم ہونے کا امکان ہے اور مزید افراد بے روزگار ہوں گے،ہمارا مڈل کلاس بھی اس وقت بہت زیادہ پریشان ہے۔ماہر معاشیات نے کہا کہ سٹیٹ بینک اپنی مرضی کی رپورٹ دے رہا ہے، مکمل رپورٹ سامنے نہیں لائی جا رہی،ملک میں افراط زر اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ صوبائی حکومتیں 330ارب روپے لے کر بیٹھی ہوئی ہیں انہیں وہ خرچ کرنا چاہیے، آئی ایم ایف خود کہہ رہا ہے کہ رقم خرچ کی جائے لیکن یہ خرچ نہیں کر رہے۔حکومتی روپوں میں اضافے کا طریقہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس ایک فیصد بڑھنے سے 130ارب روپے کا اضافہ ہوتا ہے اور حکومت کو 300ارب روپے حاصل کرنے ہیں تو دو فیصد سیلز ٹیکس لگا دے،کورونا وائرس کی وجہ سے تیل کی قیمت کریش کر گئی ہے یہاں بھی حکومت کو اچھا فائدہ ہو رہا ہے، افراط زر کی کمر توڑنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت کم کر دیں جس کا اثر ہر جگہ پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ معاشی بہتری یا خرابی کی ذمہ دار وزارت خزانہ ہوتی ہے۔ اگر حکومت شرح سود کم نہیں کرتی تو سرمایہ کاری مزید کم ہو گی۔ ایکسپورٹ پر حکومت نے انتہائی غلط اقدامات لیے،حکومت کو فرٹیلائزر کی سبسڈی دینی پڑے گی جو انہوں نے بہت کم کر دی ہے۔

مزید : قومی