فاروق آباد کے فاؤنٹین ہاؤس میں گزرے چند لمحے

فاروق آباد کے فاؤنٹین ہاؤس میں گزرے چند لمحے
فاروق آباد کے فاؤنٹین ہاؤس میں گزرے چند لمحے

  

جب مجھے فاؤنٹین ہاؤس لاہور کے ایم ایس ڈاکٹر عمران مرتضیٰ نے بتایا کہ فاروق آباد میں بنائے گئے فاؤنٹین ہاؤس میں ایک فِش فیسٹیول منعقد کیا جا رہا ہے تو مَیں نے ان کی اس اطلاع  کو  ایک پُرخلوص دعوت ہی جانا اور دِل ہی دِل میں طے کر لیا کہ اِس فیسٹیول میں ضرور شرکت کروں گا۔پھر ان کا فون آ گیا۔انہوں نے احباب کو فاروق آباد لے جانے کے لئے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کر رکھا تھا،لیکن مجھے ہمیشہ اپنی سواری پر سفر کا مزہ آتا ہے،چنانچہ مَیں نے فِش فیسٹیول میں شرکت کی حامی بھر لی، جب مَیں نے انہیں بتایا کہ لانگ ڈرائیو کا لطف لینے کی آرزو رکھتا ہوں تو انہوں نے حکم دیا کہ اہل ِ خانہ کو بھی ساتھ لے آؤں۔ فاروق آباد کے فاؤنٹین ہاؤس  میں بچوں کی تفریح کا بہت سامان ہے۔ تفریح سے زیادہ، مَیں چاہتا تھا کہ بچوں کو ذہنی امراض میں مبتلا لوگوں سے ملواؤں تاکہ انہیں اپنی اِس زندگی سے مزید پیار ہو جائے جو ان کے بقول ابھی بہت سی محرومیوں کا شکار ہے۔ مریضوں کو دیکھ کر ان کے دِل میں درد کی دولت پیدا ہونے کا صد فی صد چانس تھا، محروموں کی محرومیوں کو دیکھ کر ہمیں اپنی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی پیار آنے لگتا ہے۔

فاروق آباد کے لئے نکلنے سے پہلے مَیں نے شیخوپورہ میں موجود اپنے دوست شہباز خان کو اپنی آمد کی اطلاع دے دی تھی، سو انہوں نے بھی فاؤنٹین ہاؤس دیکھنے کا اشتیاق ظاہر کیا۔شہباز خان ایک نہایت درد مند آدمی ہیں۔ انہوں نے زندگی کا سفر زیرو سے شروع کیا۔ آج وہ شیخوپورہ کے ہیرو ہیں۔ وہ شیخوپورہ کے ایک پوش علاقے میں غریبوں کے بچوں کے لئے بہت سے سکول چلا رہے ہیں۔ انہوں نے نہایت کم فیس رکھی ہوئی ہے،لیکن تعلیم کے معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔انہوں نے دن بھر مزدوری کرنے والے بچوں کے لئے الگ سے ایک سکول قائم کر رکھا ہے،جہاں شام کے وقت انہیں تعلیم دی جاتی ہے۔ وہ پچھڑے ہوئے لوگوں سے پیار کرتے ہیں، کمزوروں کو گلے لگاتے ہیں، چھوٹوں کو بڑا ہونے کا احساس بخشتے ہیں۔

ہم نے ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیا

خاکساری اپنی کام آئی بہت

سگیاں پل سے ہوتے ہوئے ہم پھول منڈی پہنچے،پھول منڈی سے کوٹ عبدالمالک اور وہاں سے خان پور نہر عبور کرنے کے بعد شیخوپورہ پہنچ گئے، اپنے گھر سے تقریباً 55کلو میٹر کا سفر کرنے کے بعد ہم فاروق آباد کے فاؤنٹین ہاؤس کے سامنے کھڑے تھے۔ یہ شاندار ادارہ سر سبز و شادات کھیتوں کے بیچوں بیچ ایستادہ ہے۔بیرونی چار دیواری بتا رہی تھی کہ اندر کیا کچھ ہو گا۔مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی ایک شاندار فِش فارم دکھائی دیا، جس میں بہت سے لوگ جال ڈال کر کھڑے ہوئے تھے اور مچھلیاں پکڑ رہے تھے،  گھڑ سواری کے لئے گھوڑے کھڑے ہوئے تھے۔ میرے بچوں کی تو باچھیں کِھل گئیں۔ ایک طرف بندر کا تماشا دکھایا جا رہا تھا۔ ایک شاندار گدھا گاڑی دکھائی دی،جس پر قیمتی قالین بچھا ہوا تھا اور لوگ اس پر سواری کا لطف لے رہے ہیں۔ کچھ آگے پہنچے تو ڈاکٹر عمران مرتضیٰ اپنی بیگم عائشہ عمران اور فاؤنٹین ہاؤس کے دیگر مہمانوں کے ساتھ دھوپ میں براجمان تھے۔کورونا ایس او پیز کے مطابق سب دو دو میٹر کے فاصلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہر چہرے پر ماسک تھا اور سامنے ایک کمرہ تھا جس میں تازہ پکڑی ہوئی مچھلیاں تڑپ رہی تھیں۔ میرا خیال تھا کہ یہاں ہمیں مچھلی کھلائی جائے گی، لیکن ڈاکٹر عمران مرتضیٰ صاحب نے بتایا کہ یہ ساری مچھلی صاف کرنے کے بعد یہاں موجود تمام مہمانوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ گھر جا کر جیسے جی چاہے، پکایئے اور کھایئے۔

جنگل میں منگل کا سماں تھا۔بچے اپنی اپنی دلچسپی تلاش کر کے تِتر بتر ہو گئے۔مَیں شہباز خان صاحب کو ساتھ لے کر فاؤنٹین ہاؤس کی اس عمارت کے اندر چلا گیا، جس میں ذہنی امراض میں مبتلا افراد رکھے گئے تھے۔اندر جاتے ہی مجھے لطیفہ یاد آ گیا۔ ایک ملک کا وزیراعظم ایک پاگل خانے میں گیا۔ جب اس نے انہیں بتایا کہ مَیں اس ملک کا وزیراعظم ہوں تو وہاں موجود ایک شخص زور زور سے قہقہے لگانے لگا۔ وزیراعظم نے پوچھا کہ تم قہقہے کیوں لگا رہے ہو تو وہ بولا:”جب مَیں پہلی بار یہاں آیا تھا تو مَیں بھی یہی کہا کرتا تھا“۔

یہاں مجھے فیصل آباد میں مقیم اپنے ایک کم پڑھے لکھے دوست حاجی منظور کی بات بھی یاد آئی۔ انہوں نے ایک بار کہا تھا: ”پاگل اوہ اے جیہڑا گل، پا جا وے“۔ان کی شاید یہی بات میرے دِل میں رہ گی تھی اور مَیں نے ایک غزل کہی تھی جس کی ردیف ہی پاگل تھی۔ اس کا ایک شعر آپ پڑھ لیجیے:

جو زندگی کے معانی سمجھ گیا ناصر

تمام شہر نے اُس شخص کو کہا پاگل

ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ فاؤنٹین ہاؤس جیسے اداروں میں رہنے والے تو نہایت سچے لوگ ہوتے ہیں، جو ان کے دِل میں آتا ہے،کہہ دیتے ہیں۔ یہ من موجی ہوتے ہیں، اپنے دِل کی مانتے ہیں۔ان کا کوئی عمل دُنیا دکھاوے کے لیے نہیں ہوتا۔ان کے اندر بچوں کی سی معصومیت، سچائی اور شفافیت ہوتی ہے۔اور ہم لوگ…… ہم دُنیا دار لوگ کیا کرتے ہیں؟ اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے اپنے جیسوں کے گلوں پر چھری پھیر دیتے ہیں۔خود کو عقل مند ثابت کرنے کے لیے کم عقلی کے فیصلے کرتے ہیں۔اگر آج ہمارا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہے تو اس میں ذہنی امراض میں مبتلا ان افراد کا زیادہ حصہ ہے جو فاؤنٹین ہاؤس  جیسے اداروں سے باہر آزاد پھرتے ہیں۔

فاروق آباد کے فاؤنٹین ہاؤس کا ہر کمرہ کسی تھری سٹار ہوٹل کے کمرے  جیسا تھا۔ ڈاکٹر عمران مرتضیٰ یہ بات بار بار فخر سے بتا رہے تھے کہ  فاؤنٹین ہاؤس میں مریضوں کے لئے لائی جانے والی ہر چیز یہ سوچ کر لاتے ہیں کہ اگر ہم یہاں رہ رہے ہوتے تو کیسی چیزوں کی توقع رکھتے؟بس یہی ہمارا معیار ہے حتیٰ کہ فاؤنٹین ہاؤس کا سارا عملہ وہی کھانا کھاتا ہے جو مریضوں کو دیا جاتا ہے اور یہ بات تو سب سے زیادہ حیران کن ہے کہ فاؤنٹین ہاؤس سرکاری امداد سے نہیں، بلکہ مخیر خواتین و حضرات کے تعاون سے چلایا جاتا ہے یہ بتا کر انہوں نے مزید حیران کر دیا کہ انہیں فاؤنٹین ہاؤس کے لیے کبھی کسی کے سامنے جھولی نہیں پھیلانا پڑی۔ لوگ خود بخود آتے ہیں اور ضرورت سے بہت زیادہ دے جاتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ ذہنی مریض والدین لے کر آتے ہیں اور والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد مکمل طور پر صحت یاب ہو کر ان کے ساتھ رہے۔ اولاد  ذہنی امراض میں مبتلا اپنے والدین کو فاؤنٹین ہاؤس میں علاج کے لیے کم ہی لاتی ہے۔ اگر کوئی بیٹا یا بیٹی اپنے والدین میں سے کسی ایک کو فاؤنٹین ہاؤس  لے بھی آئے تو ہمیشہ کے لیے یہیں چھوڑ جاتی ہے، حتیٰ کہ ان کا کفن دفن بھی فاؤنٹین ہاؤس  کی انتظامیہ کو کرنا پڑتا ہے۔

میرے دوست شہباز خان کی شخصیت میں کوئی ایسا جادو ضرور ہے کہ ان سے ملنے والا ہر شخص پہلی ہی ملاقات میں ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر عمران مرتضیٰ بھی ان کی شخصیت کے سحر میں ایسے کھوئے کہ انہوں نے انہیں فوراً ہی فاؤنٹین ہاؤس  کی جنرل باڈی میں شامل کر لیا۔ یہی میرا مقصد  تھا۔ سہ پہر کے وقت ہم فاؤنٹین ہاؤس کی پُرسکون فضا سے باہر نکلے تو سڑکوں پر ہمارے عالم، فاضل اور عاقل لوگوں نے ایک اودھم مچا رکھا تھا۔ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ لگی ہوئی تھی۔ ان سب سے بچتے بچاتے ایک گھنٹے کے بعد ہم سب لاہور کے فاؤنٹین ہاؤس کے قریب واقع اپنے محلے میں پہنچ گئے جہاں ہمارا رین بسیرا ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ الحمد للہ

مزید :

رائے -کالم -