تعلیمات اسلام پر عمل۔ عزت کا راستہ

تعلیمات اسلام پر عمل۔ عزت کا راستہ
تعلیمات اسلام پر عمل۔ عزت کا راستہ

  

موقف کی بار بار تبدیلی بعض اوقات کس قدر نفسیاتی الجھنیں پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے اس کا ادراک و احساس شاید وزیراعظم کو بھی نہیں اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی اس احساس سے یکسر عاری ہیں حالانکہ ان کی ساری زندگی کارزارِ سیاست میں بسر ہوئی ہے۔ وزیراعظم اگر اکثر مواقع پر ملکی دولت پر ہاتھ صاف کرنے والوں کو چور ڈاکو اور لٹیرے کہہ کر ان سے لوٹی گئی دولت قومی خزانے میں جمع کروانے تک چین سے نہ بیٹھنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں تو اب ان کے موقف میں یہ تبدیلی سامنے آگئی ہے کہ کرپٹ قومی مجرم لوٹا ہوا مال واپس کر دیں تو میں مستعفی ہو جاؤں گا بعینہٖ اسی طرح مولانا فضل الرحمن کبھی گرم اور کبھی سرد پھونکیں مارتے ہیں کہ ہماری لڑائی اسٹیبلشمنٹ سے نہیں بلکہ حکمرانوں سے ہے۔

عوام یہ سوچنے میں حق بجانب ہوں گے کہ وزیراعظم کا گزشتہ دو اڑھائی سالوں سے اختیار کردہ موقف درست اور صائب تھا یا اب ظاہر کردہ ارادہ ٹھیک اور قابل عمل ہے۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمن کے تازہ ارادے کو سادہ لوح عوام لائق تعریف قرار دیں یا انہیں فہم و ادراک سے عاری قرار دیا جائے لیکن ایک بات طے ہے کہ ملک کے بیس بائیس کروڑ عوام کا مہنگائی کے ہاتھوں  بڑتھہ بن گیا ہے۔ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ ایک ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چارپانچ بار اضافہ کرنے اور اسی طرح دوسری اشیاء صرف میں ہوشربا مہنگائی کے باوصف وزیراعظم قوم کو اب بھی صبر کی تلقین فرما رہے ہیں۔اس موقع پر مجھے پنجابی کی ایک بڑی خوبصورت کہاوت یاد آرہی ہے جو کچھ یوں ہے:

کھان پین نوں نور بھری تے دھون بھناؤن نوں جُما

اس کا مطلب یہ ہے کہ سیر سپاٹے موج میلے کریں مقتدر اور بالادست‘ گلچھرے اڑائیں ایلیٹ کلاس اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز لوگ لیکن گردنیں تڑوائیں بے چارے غریب عوام۔ لیکن کیوں؟ اس لئے کہ آپ تھوڑی دیر کے لئے تو کسی کو بیوقوف بنا سکتے ہیں ہمیشہ کے لیے نہیں کیونکہ اب عوام بہت حد تک باشعور ہو چکے ہیں ان میں تدبر کا فقدان بھی بہت کم رہ گیا ہے۔ وہ سوچ بچار کرنے میں اور اپنی آزاد رائے قائم کرنے میں بھی کافی حد تک مشّاق ہو چکے ہیں کیونکہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اسلام کی تعلیمات میں منصفانہ اقتصادیات کی بڑی اہمیت ہے۔ اسلام کا بنیادی سبق ہی یہ ہے کہ وہ وسائلِ رزق کو نجی ملکیت کا تصور نہیں دیتا بلکہ انہیں ایک امانت قرار دیتا ہے۔ اسلام کے نزدیک جو شخص یا حلقے خدائے بزرگ وبرتر کی نعمتوں سے مالا مال ہیں وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عنایات کے مالک نہیں بلکہ امین قرار دئیے گئے ہیں اور کسی مسلمان ملک کے حکمران کا بنیادی فرض ہی اسلام کی اقتصادی تعلیمات پر عملدرآمد ہے لیکن کیا وزیراعظم سینے پر ہاتھ رکھ کر عوام کو یہ بتانے کی پوزیشن میں ہیں کہ گزشتہ دو اڑھائی سال میں انہوں نے اسلام کی اقتصادی تعلیمات پر کس قدر عملدرآمد کیا یا کروایا ہے۔ تعلیمات اسلام میں عدل و احسان پر کس قدر زور دیا گیا ہے اس کا کسی کو اندازہ ہی نہیں۔

جن افراد معاشرہ کو کسی مدد کی ضرورت ہے کسی محتاج کو کسی شے کی احتیاج ہو وہ اپنی عز ت نفس کو مجروح کئے بغیر اور شخصی طور پر کسی کا ممنون احسان ہوئے بغیر اپنی ضروریات پوری کرسکے۔ ماضی کی طرح بنکوں میں سود کا نظام آج بھی پورے شدو مد سے جاری ہے۔ کوئی غریب اپنی کسی جائز ضرورت کے تحت بنک سے قرض لے بھی لے تو بنک اس غریب کا خون تک نچوڑ لیتا ہے لیکن معیشت کے میدان میں حکمرانوں اور معاشرے کے مالدار طبقات نے کبھی کوئی کارہائے نمایاں انجام دینا گویا ہمیشہ شجر ممنوعہ ہی سمجھا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اداروں کا قیام تو ایک طرف اس حوالے سے لوگوں کی تربیت پر بھی توجہ نہیں دی گئی جو لمحہً فکریہ ہے۔ ایسے خیر کے کاموں میں حکمرانوں کے علاوہ جو حصہ طبقہً علما ڈال سکتا تھا بشمول مولانا فضل الرحمن حاملینِ جبّہ و دستار اور عباو قبا نے اس جانب غور کرنے کا مکلف اور پابند ہی خود کو نہیں بنایا مولانا فضل الرحمن کو یہ تو یاد ہے کہ کشمیر کو پاکستان سے الگ کرنے والوں کو تاریخ معاف نہیں کرے گی نیز یہ کہ کشمیر میں تحریک انصاف کی حکومت بنی تو پاکستان سے بھی بُرا حال ہو گا لیکن انہیں اسلام کی اقتصادی اور معاشی تعلیمات کا پتا ہی نہیں اس طرح وزیراعظم کو بھی یہ علم نہیں۔

آپ استعفیٰ دیں یا نہ دیں ایک بات طے ہے کہ جن لوگوں نے کرپشن کی ہے انہوں نے یہ ”نیک فریضہ“ اس لئے ادا نہیں کیا کہ وہ آپ کے کہنے پر ”لوٹے ہوئے پیسے“ واپس کر دیں، نہ ہی یہ ممکن ہے کہ اپوزیشن گرم اور سرد پھونکیں مار کر حکومت ختم کر دے۔ اسی طرح پاک فوج بھی اس ملک کی ایک حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا دانشمندی کہلائے گا اس پر الفاظ کے گولے برسا کر کوئی بھی مقصد براری نہیں کر سکتا۔ لہٰذا تعلیمات اسلام بالخصوص اقتصادی اور معاشی تعلیمات‘ عدل و احسان کی تعلیمات پر عملدرآمد حکومت خود بھی کرے اور مالدار طبقات کو اس کی تحریک بھی دے اور ان کی تربیت کا خصوصی طور پر اہتمام بھی کرے کیونکہ عوام کی حالت بہتر بنائے بغیر کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ موقف بھی یہی ہونا چاہیے اور مشن بھی یہی۔ موقف کی بار بار تبدیلی سے بہتر یہی ہے کہ تعلیمات اسلام سے رہنمائی لی جائے کیونکہ عزت کا راستہ یہ یہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -