بسنت رت آئی

 بسنت رت آئی
 بسنت رت آئی

  

سارے  بر صغیر میں چاند اور سورج کے ملے جلے لحاظ سے جس سال کا عام رواج ہے اور جو پنجاب، بنگال، بھارت، سری لنکا اور یہاں کے تمام علاقوں میں یکساں مقبول ہے اور اسے مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ وہ سال پنجابی میں بکرمی سال یا دیسی سال  کے نام سے جانا جاتا ہے۔سکھ لوگ اسے نانک شاہی سال بھی کہتے ہیں۔اس سال کا ہر مہینہ انگریزی سال کے مہینے کے وسط سے شروع ہوتا ہے۔برصغیر کے مختلف علاقوں میں سال کی ابتدا مختلف مہینوں میں ہوتی ہے۔پنجاب میں چیت پہلا مہینہ ہوتا ہے جو چاند کی پہلی تاریخ سے شروع ہوتا ہے۔ سال کے بارہ مہینے چیت، وساکھ، جیٹھ، ہاڑ، ساون،بھادوں،اسوج، کاتک، ماگر،  پوہ،  ماگھ اور پھاگن ہیں۔ اس سال کو چھ رتوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ رت پنجابی میں موسم کو کہتے ہیں۔ پہلے دو مہینے چیت اورو ساکھ بہار کی رت ہے جو ”بسنت“رت کہلاتی ہے۔یہ قدرے ٹھنڈا موسم ہوتا ہے مگر یہ رت سردی کے ختم ہونے کی نوید ہے اور اس رت میں آہستہ آہستہ سردی ختم ہوتی جاتی ہے۔ اس موسم میں ہرے ہرے کھیتوں میں آپ کو پیلے پیلے پھول نظر آتے ہیں۔ پیلا رنگ بسنتی رنگ بھی کہلاتا ہے۔ اس رت یا موسم میں فصلوں کی کٹائی بھی ہوتی ہے اور فصلوں کی کٹائی پر پنجاب بھر میں کسان لوگ جشن مناتے اور میلے ٹھیلوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ میلے بسنت میلے کہلاتے ہیں۔کہتے ہیں حضرت نظام الدین اولیا اپنے بھتیجے کی بے وقت موت سے بہت مغموم تھے انہیں خوش کرنے کے لئے حضرت امیر خسرو بسنتی کپڑے پہن کر اور بسنتی پھول لئے رقص کرتے ان کے پاس آئے جس پر حضرت نظام الدین مسکرائے۔ اس واقعے کی یاد میں صدیوں سے ان کے مزار پر ہر سال بسنت میلے کا باقاعدہ انعقاد ہوتا ہے اور صرف اسی دن مزار کے احاطے میں رات کو قوالی کی بزم سجائی جاتی ہے۔ 

دوسرے دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ، سخت گرمی کے مہینے ہیں، جو”گرمی  یا گرشمہ“رت کہلاتے ہیں۔ ان مہینوں میں گرمی اپنی شدت پر ہوتی ہے، پہاڑوں پر برف پگھلتی ہے اور ہاڑ کے مہینے میں دریاؤں میں سیلاب آتے ہیں۔ پنجاب میں ہندو زیادہ تر شادیاں ان مہینوں میں کرتے تھے۔ ساون بھادوں کے دو مہینے ”بارش یابرسا“ رت کہلاتی ہے۔ یہ برسات کا یا مون سون کا موسم ہے۔ یہ موسم سخت گرم اور شدید حبس کا موسم ہوتا ہے۔ بارشوں کی بہتات ہوتی ہے۔برسا رت کے بعد اگلے دو مہینے اسوج اور کاتک کا موسم”خزاں یا شاراد“ رت کہلاتا ہے یہ خزاں کا موسم ہے۔اس موسم میں بھی فصلوں کی کٹائی ہوتی ہے اور ہمالیہ کے پہاڑوں پر بہت سے درخت اپنا رنگ بدلتے ہیں۔مگھر اور پوہ کے مہینے ”ہیمنت“ رت کہلاتے ہیں۔ اس موسم میں گرمی ختم اور خوشگوار موسم کی ابتدا ہوتی ہے اس موسم کو سال کا بہترین موسم تصور کیا جاتا ہے۔ موسم بتدریج  سرد ہونا شروع ہو جاتا ہے۔آخری دو مہینے ماگھ اور پھاگن کو ”ششرا“ رت کہتے ہیں۔یہ انتہائی سردی کا موسم ہوتا ہے۔ یہ وہ موسم ہے کہ جس کے بعد نیا سال پھر شروع ہوتا ہے، ایک بار پھر بسنت کی رت آ جاتی ہے۔

پالستان کے دیہات میں آج بھی عام دیہاتی  دیسی کیلنڈر ہی استعمال کرتے ہیں۔ سورج نکلنے سے اگلے سورج نکلنے تک چوبیس گھنٹوں کا ایک دن شمار ہوتا ہے۔پورے دن کو پھر آٹھ حصوں میں بانٹا جاتا ہے،ہر حصہ ایک پہر یا ویلا کہلاتا ہے۔یہ ویلے کچھ اس طرح ہیں۔

پہلا  پہر۔۔۔۔۔دھمی ویلا۔۔۔۔۔صبح  6  بجے سے  9  بجے تک

دوجا  پہر۔۔۔۔۔ سویر ویلا۔۔۔۔۔نو بجے سے بارہ بجے تک

تیجا  پہر۔۔۔۔۔پیشی ویلا۔۔۔۔۔ بارہ بجے سے تین بجے تک

چوتھا  پہر۔۔۔۔۔ دیگر ویلا۔۔۔۔۔ تین بجے سے چھ بجے تک

پنجواں  پہر۔۔۔۔۔ نیماشاں ویلا۔۔۔۔۔ چھ بجے سے نو بجے تک

چھیواں  پہر۔۔۔۔۔ کفتاں ویلا۔۔۔۔۔ نو بجے رات سے بارہ بجے تک

ستواں  پہر۔۔۔۔۔ ادھی رات ویلا۔۔۔۔۔ بارہ بجے رات سے تین بجے تک 

اٹھواں  پہر۔۔۔۔۔  سرگی ویلا۔۔۔۔۔ تین بجے سے چھ بجے تک۔

اس کیلنڈر کی ابتدا شاید آٹھ قبل مسیح میں ہوئی تھی اور یہ اور اس سے جڑی بہت سی روایات آج بھی ہماری ثقافت، ہماری تہذیب کا حصہ ہیں۔ میں لاہور کا پرانا باسی ہوں جس کے بچپن اور جوانی کا زیادہ حصہ اندرون شہر اور مزنگ میں گزرا۔ یہاں مکان آپس میں جڑے ہوتے ہیں اور دھوپ مکانوں کے نچلے حصوں میں بہت کم آتی ہے۔ سردی سے بچنے  کے لئے دوپہر کے وقت یہاں کے مکین دھوپ کی تلاش میں گھروں کی چھتوں پر بسیراکرتے ہیں۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جو لوگ لاہور کے باسی تھے وہ جانتے ہیں کہ دوپہر کو جب سکولوں اور دفتروں سے گھر آئیں تو کھانے کا اہتمام بھی چھت پر ہی ہوتا تھا۔کھانا کھانے کے بعد عورتیں تو اپنا کام کاج کرتیں مگر مرد اور لڑکے پتنگ بازی میں مشغول ہو جاتے۔ یہ ایک کھیل تھا بہت صاف ستھرا اور خوبصورت کھیل۔کسی کی پتنگ کٹ جاتی تو وہ مسکراتا نئی پتنگ اڑانے لگتا۔ پیچ لگے تو ایک نے تو کٹنا ہوتا ہی ہے، لوگ یہ بات جانتے اور خوش دلی سے قبول کرتے تھے۔  پتنگ بازی اس شہر کے لوگوں کی کمزوری تھی اور آج بھی ہے۔ جوں جوں شہر پھیلتا گیا، پتنگ بازی کو بھی فروغ ملتا گیا۔ پھر کیمیکل ڈور آ گئی۔دوسری عجیب عجیب ڈوریں آ گئیں۔ اس تہوار کو جشن کی صورت دے دی گئی۔ دور دور سے لوگ آ کر اس میں حصہ لینے لگے۔

یہ لوگ ہار ماننے کو تیار ہی نہ تھے۔ انہوں نے اس کھیل کو عزت کا مسئلہ بنا دیا۔ خوفناک ڈوروں نے لوگوں کے گلے کاٹنے شروع کر دئیے۔ حکومت نے اس میں اصلاح کی بجائے اسے قاتل قرار دے دیا اور پھر سردار اسے قتل کر دیا گیا۔سردیوں میں قوس وقزح کی طرح نظر آنے والا آسمان اب بہت روکھا پھیکا نظر آتا ہے۔فروری کا مہینہ بسنت کا مہینہ ہے۔ یہ بہار کی آمد کا مہینہ ہے۔ یہ بسنتی پھولوں کا مہینہ ہے۔ یہ میرے شہر میں ایک عظیم جشن کا مہینہ ہے مگر اس کے چاہنے والے اس سے محروم  رہ رہے ہیں اور رہیں گے۔اس لئے کہ آج پتنگ بازی پر پابندی ہے مگر لاہور کے اصل باسیوں میں بہت کم لوگ ایسے ملیں گے جو بسنت پر پابندی کے حق میں ہوں۔کاش حکومت ڈور پر ایسی پابندیاں لگا دے کہ کسی کا نقصان نہ ہو مگر اس خوبصورت تہوار کو اس طرح برباد نہ کرے۔  

مزید :

رائے -کالم -