غیرمعمولی حالات، غیرمعمولی فیصلے

غیرمعمولی حالات، غیرمعمولی فیصلے
غیرمعمولی حالات، غیرمعمولی فیصلے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ایسا لگتا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاملات طے ہونے کے بعد کم از کم فی الحال تو دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل جائے گا۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد دوسرے عالمی ادارے اور کچھ دوست ملک یقینا پاکستان کی مدد کریں گے کیونکہ دوست ملکوں نے بھی آئی ایم ایف کی شرط لگا دی تھی۔ قوی امکان ہے کہ ڈالر بھی کچھ نیچے آ جائے گا۔ اسحاق ڈار کا 200 روپے کا ٹارگٹ تو شاید پورا نہ ہو۔ اب اس بحث میں نہیں پڑتے کہ اس صورتحال تک پہنچنے میں کس پارٹی کا کیا کردار رہا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ ریلیف وقتی ہے مستقل حل نہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک سال بعد پھراسی قسم کی صورت حال سے دوچار ہوں گے۔
پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے75 سال ہو گئے ہیں تقریباً  23 کروڑ آبادی ہے اور کافی بڑی اور مضبوط فوج اور پھر ہم نیوکلیئر پاور ہیں لیکن ہم ایک ناکام ملک بن چکے ہیں۔ کوئی شعبہ لے لیں ہم اپنے خطے میں بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔ 23 ویں بار ہم آئی ایم ایف سے مدد لے رہے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری معیشت سنبھلنے کی بجائے خطرناک صورت حال سے دو چار ہوچکی ہے آخر ہم کب تک دوست ملکوں سے مدد مانگیں گے۔ آج اور کل کے حکمران خود بھی یہی کہہ رہے ہیں لیکن کسی کے پاس کوئی حل نظر نہیں آتا۔ بچت کے لئے حکومت کچھ سطحی سی کوششیں کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی بنا دی ہے لیکن اب تک اس حکومت اور پی ٹی آئی کی حکومت کی بچت سکیمیں دیکھیں تو کچھ مذاق سا لگتا ہے۔ عمران خان نے کابینہ کی میٹنگ میں چائے منع کر دی تھی اور وزیراعظم ہاؤس میں کھڑی قیمتی گاڑیوں کی نیلامی کا اعلان کیا تھا۔ آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ اُن قیمتی گاڑیوں کی نیلامی سے کتنے ارب روپے کی بچت ہوئی تھی۔ اِس حکومت نے بھی کوئی انقلابی کام نہیں کیا۔ اِس حکومت سے تو توشہ خانے کے تحفوں کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ کاش یہ اِس سلسلے میں بھارتی حکومت کے فیصلے سے کچھ سیکھ لیتے۔


آج کل خیبرپختونخوا حکومت اور وفاقی حکومت کی طرف سے اِن غیرمعمولی حالات میں قیمتی گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ پریس میں آ چکاہے۔ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے والا ہے اور حکومت قیمتی گاڑیاں خرید رہی ہے۔ میں نے ایک پچھلے کالم میں حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ فیصلہ کریں کہ آئندہ کوئی افسر 1300 سی سی سے بڑی گاڑی استعمال نہیں کرے گا۔ تمام بڑی گاڑیوں کو نیلام کیا جائے اور ساتھ ہی محکموں میں فالتو گاڑیوں کو نیلام کیا جائے جن کا عموماً غلط استعمال ہوتا ہے اور نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگائی جائے لیکن ایسے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔


کروڑوں اربوں روپے ہر سال ترقیاتی کاموں کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو دیئے جاتے ہیں ان سے یقینا ترقیاتی کام بھی ہوتے ہیں لیکن پیسے کا ضیاع بھی بہت بڑھ گیا ہے کیونکہ ترقیاتی کام کرنے والے محکمے تو اِس میں اپنا حصہ وصول کرتے ہی تھے جو ہم نے بحیثیت قوم قبول کیا ہوا ہے، اب عوامی نمائندوں کا حصہ بھی اس میں شامل ہو گیا ہے۔ اول تو غیرمعمولی حالات کے پیش نظر ان ترقیاتی کاموں کو وقتی طور پر روک دینا چاہئے یامتعلقہ محکمے اور عوامی نمائندے کم از کم کچھ عرصے کے لئے کمیشن کے معاملے میں قوم پر رحم کریں۔ویسے بھی بلدیاتی انتخابات کروا کر ترقیاتی کام اُن کے ذریعے کئے جائیں۔ ایم این اے کا کام ترقیاتی کام کروانا نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں پالیسیاں بنانا ہے۔ ہم دوسرے اداروں کو کہتے رہتے ہیں کہ وہ اپنا اپنا کام کریں لیکن یہاں خود لوکل باڈیز کا کام ایم این ایز نے سنبھالا ہوا ہے۔
غیرملکی دوروں کی ضروریات اور وفد کے سائز پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری افسروں کا سب سے دلچسپ مشغلہ دورہ ہوتا ہے۔ اِس رحجان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے موجودہ حالات میں صرف بہت ضروری دوروں کی اجازت دی جانی چاہئے اور وزیراعظم اور وزراء کے دوروں میں یہ طے ہونا چاہئے کہ وہ فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام نہیں کریں گے اس سلسلے میں پریس کی تنقید کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں دورے کے اخراجات وزیر صاحب یا وزیراعظم صاحب نے جیب سے ادا کئے ہیں لیکن کوئی اِس بات کا یقین نہیں کرتا۔ یہ عمرے پر جہاز بھر کر لے جانے کی پریکٹس بھی مکمل طور پر ختم کر دینی چاہئے۔


سٹیل مل جیسے کئی ادارے سالوں سے مکمل خسارے میں جا رہے ہیں اور یہ بجٹ پر مسلسل بوجھ بنے ہوئے ہیں اِن کی نجکاری کر کے اربوں روپے وصول کئے جا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سٹیل مل کی نجکاری کا سودا کالعدم قرار دیا تھا لیکن آئندہ کے لئے تو کوئی پابندی نہیں لگائی تھی، حکومت کو اِس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ضلع اور ڈویژن کی سطح پر سرکاری افسروں کے گھر 20،20 کنال زمین پر محیط ہیں لیکن حیرت ہے کہ کوئی حکومت اِس معاملے میں فیصلہ کرنے سے گریزاں ہے۔ صوبائی سطح پر گورنر ہاؤس کئی کئی مربعوں میں پھیلے  ہوئے ہیں اور دیکھ بھال کے لئے تین تین سو ملازمین کام کر رہے ہیں۔ آزاد ی کے 75 سال بعدہمارے گورنر انگریز گورنروں کے جانشین بنے ہوئے ہیں۔آج کے حالات کا کسی کو احساس نہیں، قربانی صرف عام آدمی سے مانگی جاتی ہے۔ مرکز میں 78 وزراء اور مشیروں کی فوج بھرتی کر کے پی ڈی ایم نے ایک افسوسناک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ کابینہ زیادہ سے زیادہ تیس ارکان پر مشتمل ہونی چاہئے۔ باقی ارکان کی کم سے کم سرکاری سہولتیں،تنخواہ، گاڑی وغیرہ ختم کر دینی چاہئے۔جو پارٹیاں دباؤ ڈال کر اپنے بندوں کو ان حالات میں وزیر مشیر بنوانے میں مصروف ہیں انہیں قوم معاف نہیں کرے گی۔


اور سب سے بڑی بات سیاسی استحکام کے بغیر معیشت ترقی نہیں کر سکتی لیکن اِس معاملے میں کسی غیرملکی ادارے یا ملک کی مدد کی ضرورت نہیں، یہ کام ہم نے خود کرنا ہے۔ ذاتی دشمنیوں کی بجائے سیاست کو سیاسی عمل تک محدود رکھا جائے۔ ملک کے مستقبل کی خاطر سیاستدانوں کو وقتی مفاد اور انا کی قربانی دینی چاہئے۔ آخر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی سالوں کی شدید محاذ آرائی کے بعد 2006ء میں میثاق جمہوریت کیا تھا۔ گو اس میثاق پر سو فیصد عمل نہ ہو سکا تاہم اُس کی روح سیاسی عمل میں کارفرما رہی اور اِسی کے نتیجے میں ان دونوں پارٹیوں کی آخری حکومتوں میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا اور وقت پر انتخابات کے بعد پُرامن انتقال ِ اقتدار ہوا اور اسمبلیوں نے آئینی مدت پوری کی۔ اب ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کیا عمران خان اِن دونوں پارٹیوں کے لیڈروں کی  طرح سیاسی پختگی اوربڑے پن کا مظاہرہ نہیں کر سکتے؟غیرمعمولی حالات سے نمٹنے کے لئے لیڈرشپ کو غیر معمولی فیصلے کرنے پڑیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -