نیو کلیئر امریکہ اور نیو کلیئر ایران!

نیو کلیئر امریکہ اور نیو کلیئر ایران!
نیو کلیئر امریکہ اور نیو کلیئر ایران!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

امریکیوں نے جب سے ایٹم بم ایجاد کیا ہے، وہ اب تک اس کے سحر سے باہر نہیں نکل سکے۔ 1945ءکے بعد جب بھی کسی جگہ دنیا میں امریکی مفادات پر زد پڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ امریکی ایڈمنسٹریشن کو وہاں ہیرو شیما یاد آتا ہے۔ ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں اپنے دشمن جاپان کی بربادی، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے حکمرانوں کے لئے ایک ناسٹلجیا بنی ہوئی ہے۔ وہ 6 اگست اور 9 اگست 1945ءکے ان دلدوز لمحات کو دوبارہ دیکھنے کے آرزو مند رہتے ہیں، جن کی وجہ سے امریکہ کہ جو 1939ءسے پہلے ایک عام سی طاقت تھی۔ ایکدم دنیا کی سپر پاور بن کے سامنے آئی۔
پھر 1949ءمیں روس نے بھی بم کا تجربہ کر لیا۔ اس کے بعد برطانیہ، فرانس اور چین بھی نیو کلیئر کلب میں شامل ہوگئے، لیکن پھر بھی امریکہ کے سر پر اولین جوہری قوت ہونے کا بھوت سوار رہا....1962ءمیں اگر روس، کیوبا میں دور اندیشی کا مظاہرہ نہ کرتا تو آج کی دنیا وہ نہ ہوتی کہ جو ہے۔ خروشچیف نے اپنی اَنا پر اصرار نہ کر کے دنیا کو ایک خوفناک تباہی سے بچا لیا.... لیکن امریکہ اب بھی اپنی اسی عاقبت نا اندیشانہ روش پر چل رہا ہے....اور اس کی حماقت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وہ آج بھی کیوبا کے تتبع میں ایران کے درپے ہے۔
1998ءمیں بھارت اور پاکستان جب جوہری اہلیت کے حامل بنے تو امریکہ کو ان دنوں سے کوئی ”بڑا خطرہ“ محسوس نہیں ہونا تھا، لیکن وہ مستقبلِ دیدہ میں ایران کے نیو کلیئر پاور بننے سے از بس خوفزدہ اور ہراساں ہے۔ اسرائیل کسی کو جو تیل کی مشرق وسطیٰ کی مارکیٹ میں امریکی مفادات کی پاسبان، ایک آو¿ٹ پوسٹ ہے، وہ نہیں چاہتی کہ اس کے ہمسائے میں کسی ایسی طاقت کے ہاتھ یہ جوہری قوت آجائے، جو اس کے اپنے اسلحہ خانے میں عشروں سے موجود ہے.... تازہ ترین تبصروں کے تناظر میں دیکھیں تو تمام مغربی مبصر، ایران کی اس ”بلنڈر“ کے خلاف یک آواز ہو کر چلاّ رہے ہیں۔
مئی 1998ءسے بھی پہلے جوہری دنیا ساری غیر جوہری دنیا کو یہ باور کروا رہی تھی کہ جوہری ہتھیار، ان کے لانچ کرنے کے وسیلے اور زہریلی گیسیں، ہمہ گیر تباہی والے اسلحہ جات (WMDs) ہیں، ان کے نزدیک بھی نہ جانا، لیکن اسی دنیا کا اپنا حال یہ رہا ہے کہ وہ ہر سال اپنے اسلحہ خانوں میں ان WMDs کا برابر اضافہ کئے چلی جا رہی ہے۔ چنانچہ پہلے بھارت اور پھر پاکستان نے جوہری دنیا کے اس نہایت غیر معقول بلکہ ”واہیات“ واویلے پر کان نہ دھرا اور 1998ءمیں جوہری کلب میں شامل ہوگئے۔ اب ان دنوں جنوبی ایشیائی ممالک کو یہ اہلیت حاصل کئے 15 برس ہو چکے ہیں اور باوجود اس کے اس دوران بہت سے نازک مقامات بھی آئے، پھر بھی ان دونوں ممالک نے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنے میں اپنے پیشرو، پانچوں جوہری ممالک کی سی بربادی کا ثبوت دیا ہے۔
اب ایران 9 واں ملک ہے جو جوہری راہ پر گامزن ہے (آٹھواں ملک اسرائیل تو بھارت اور پاکستان سے بھی کئی برس پہلے غیر اعلانیہ طور پر نیو کلیئر طاقت بن چکا ہے، لیکن اس پر کوئی مغربی ملک پابندیاں نہیں لگاتا.... اس کا چیلنج ہے کہ کوئی لگا کر تو دیکھے!)
امریکی صدر اوباما کی دوسری ٹرم میں امریکی سینیٹ کی ”غیر ملکی روابط کی کمیٹی“ کا اجلاس ہونے والا ہے، جس میں نئے وزرائے خارجہ اور دفاع کی نامزدگی پر کھل کر بحث و مباحثہ ہوگا۔ امریکہ نے گزشتہ 8، 10 برسوں میں ساری دنیا میں طاقت کا جو توازن درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے، اس اجلاس میں اس پہلو پر بھی بحث کی جائے گی اور اپنے سب سے بڑے ”دردِ سر“ یعنی ایران کے مسئلے پر مباحثہ ہوگا کہ وہ (امریکہ) آنے والے چند ہفتوں میں ایران کے ساتھ کیا کچھ کرنا چاہتا ہے۔
ایران کے نیوکلیئر ہو جانے کے عواقب و نتائج کے تناظر میں عالمی عسکری تاریخ کا کوئی بھی طالب علم ایران کے خلاف کی جانے والی امریکی حرکات کی حماقت پر ضرور متعجب ہوگا.... دیکھئے ناں 1945ءمیں جب امریکہ نیو کلیئراز ہوا تھا تو وہ جامے میں پھولے نہیں سماتا تھا، لیکن اب اس کا حال یہ ہے کہ صرف 70 سال سے بھی کم عرصہ گزرا ہے کہ وہی جوہری قوت اس کے گلے کا ہار بنی ہوئی ہے.... امریکہ کے گھمنڈ نے اگرچہ سوویت یونین کو توڑ کر روس بنا دیا، لیکن ایک دوسرا سوویت یونین، چین کی شکل میں منظر عام پر آگیا۔ کہتے ہیں ایک اکیلا اور دو گیارہ.... اب روس اور چین مل کر امریکہ کا گھمنڈ خاک میں ملا سکتے ہیں۔ شام کی خانہ جنگی میں چین اور روس کی یہی ”جوڑی“ کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، ورنہ شام کو عراق اور لیبیا بنانے میں امریکہ کو کوئی زیادہ زیادہ دیر نہیں لگنی چاہئے تھی۔ صدام حسین کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور معمر قذافی کو خاک و خون میں نہلا دیا گیا۔ اب بشار الاسد کی باری تھی، لیکن یہاں جب چین اور روس کی ”جوڑی“ درمیان میں آ کر کو دی تو ناٹو نے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے سے انکار کر دیا.... میرا تجزیہ ہے کہ جس طرح 1980ءکے عشرے میں افغان جہاد نے پاکستان کو جوہری قوت بنا دیا تھا، اسی طرح شام کی جنگ بھی ایران کو نیو کلیئرائز کر دے گی!
امریکہ اور اسرائیل آئے روز ایران پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، لیکن ایران کو عراق اور لیبیا بنانے سے پہلے امریکی دماغ اب مندرجہ ذیل سوالات پر سوچنے کے لئے مجبور ہوگئے ہیں:
٭....امریکہ اگر ایران پر حملہ کرتا ہے اور ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو ایرانی آبادیوں پر اس حملے کے اثرات کا کیف و کم کیا ہوگا۔
٭....کیا ایران پر حملہ کرنے سے پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، امریکہ کو اس حملے کا جواز فراہم کرنے کی اجازت دے گی؟.... کیا روس اور چین سلامتی کونسل کی اس طرح کی قراداد کو ویٹو نہیں کر دیں گے؟
٭....آئی اے ای اے(IAEA) کے اندازوں کے مطابق، اسرائیل کے پاس ایک سو سے لے کر ڈیڑھ سو تک ایٹم اور ہائیڈروجن بم موجود ہیں.... ایران کو اگرچند برسوں کی مہلت اور مل گئی اور وہ جوہری اہلیت کا حامل بن گیا تو کیا اسرائیل کے یہ 150 جوہری وار ہیڈز خود اسرائیل کی (رقبے کے لحاظ سے) ایک چھوٹی سی ریاست کو ملیامیٹ نہیں کر دیں گے؟
٭....آج اگر امریکہ، ایران پر حملہ آور ہوتا ہے تو ایران کا ردعمل کیا ہوگا؟.... ایران اپنے ردعمل میں کس حد تک آگے جاسکتا ہے؟.... امریکہ کے جو مفادات مشرق وسطیٰ میں ہیں، وہ کتنے زد پذیر ہوں گے؟.... اور ایرانی جوابی اقدامات کا اثر یورپ اور امریکہ کی شاہرگ یعنی تیل کی سپلائی لائن پر کیا ہوگا؟

ممکن ہے آپ ایران کے ان بظاہر ”اندھا دھند“(Reckless) اقدامات کو ایران کی خودکشی کے مترادف قرار دیں، لیکن ایرانیوں کے سامنے افغانوں کی استقامت اور بے مثال مزاحمت کی حالیہ مثال تو سامنے موجود ہے۔ ایران دیکھ رہا ہے کہ امریکہ، ناٹو اور ایساف نے مل کر گیارہ برس میں افغانوں کا کیا بگاڑ لیا ہے؟....2014ءکے بعد افغانستان کی اس13 سالہ جنگ کی جب بیلنس شیٹ شائع ہوگی تو امریکہ کو معلوم ہوگا کہ اس نے افغانستان پر حملہ کر کے اپنے ”دشمن“ کو مزید مضبوط، مزید خود اعتماد اور مزید ”خطرناک دشمن“ بنا لیا ہے۔
آج امریکہ2014ءمیں افغانستان سے نکلنے کی سٹریٹجی کے دردِ سر میں مبتلا ہے.... کبھی سوچتا ہے کہ 31 دسمبر 2014ءکو 6000 امریکی ٹروپس افغانستان میں سٹیشن رکھے، کبھی 10,000 ٹروپس کی تجویز پر غور کرتا ہے اور کبھی 20,000 فوج کو چھوڑنے کا پلان بناتا ہے.... لیکن طالبان کی دعا یہ ہے کہ کاش امریکہ20,000 ٹروپس ان کے وطن میں چھوڑ کر جائے تاکہ ٹارگٹ جتنا بڑا ہوگا، اس پر اتنے ہی زیادہ کارگر وار ہو سکیں گے.... بالکل اسی طرح اگر امریکہ، ایران پر بھی آج فزیکل حملہ کر دیتا ہے تو ایران کی ٹیرین(Terrain)، اس کی آب و ہوا اور ایرانی قوم میں وہ سب خصوصیات پائی جاتی ہیں جو حملہ آوروں کا استقبال بڑی خندہ پیشانی سے کریں گی.... ایران کے کوہ و دمن اور دشت و صحرا بھی امریکیوں کو افغانستان کی یاد دلا دیں گے.... اور ابھی تو افغانستان میں کئی ہزار امریکی ٹروپس موجود ہیں۔ ایرانی گوریلا فورسز وہاں امریکی ٹروپس کی خوب ”دیکھ بھال“ کر سکتی ہیں اور اس طرح افغانستان میں ایک دوسرا محاذ کھل سکتا ہے۔ ایران اپنے ہمنواو¿ں (شام، لبنان اور عراق) سے مل کر امریکیوں کا قافیہ تنگ کر سکتا ہے۔ امریکہ کا پانچوا بحری بیڑا بحرین میں صف بند ہے، شاید وہ آبنائے ہر مز کو کھلا رکھنے میں کچھ نہ کچھ کامیابی حاصل کر لے، لیکن اس کے بعد دنیا بھر میں تیل کے قحط کا جو عالمی بحران پیدا ہوگا، دنیا اس کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرائے گی۔
ایران، پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ ماضی میں ایران.... پاکستان روابط کی تاریخ کتنی بھی دھندلی کیوں نہ ہو، افغانستان کی جو سرحد پاکستان سے ملتی ہے، ایران کی پاکستان سے ملنے والی سرحد بھی تقریباً اتنی ہی طویل ہے۔ ایران پر امریکی حملے سے پاکستان کے استحکام کو جو خطرہ ہوگا، وہ ہمارے موجودہ ڈولتے، ڈگمگاتے پاکستان کو مزید زود پذیر (Vulnerable) کر دے گا اور میرا خیال نہیں کہ امریکہ، پاکستان کے ان خدشات سے بے خبر نہ ہوگا۔ اس کی فضائی قوت کا بڑا چرچا ہے، لیکن ہر دنیاوی قوت کی ایک حد ہوتی ہے، اگر کسی قوت کی حد نہیں ہے تو وہ خدا کی ذات ہے اور خدا اپنی خدائی میں کسی بھی دوسری قوت کی شرکت برداشت نہیں کرتا!

مزید :

کالم -