معافی مانگنے کے باوجود توہین عدالت میں سزائیں دینے کی نظریں موجود ہیں

معافی مانگنے کے باوجود توہین عدالت میں سزائیں دینے کی نظریں موجود ہیں
معافی مانگنے کے باوجود توہین عدالت میں سزائیں دینے کی نظریں موجود ہیں

  

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ کر خود کو عدالت کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا جس کے بعد عدالت نے ان کی معافی قبول کرکے ان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس خارج کر دیا۔ الطاف حسین کو یہ نوٹس ان کی 2 دسمبر 2012ءکی تقریر کی بناءپر جاری کیا گیا تھا۔ اس تقریر میں انہوں نے کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کا حکم جاری کرنے والے عدالت عظمیٰ کے بینچ کے فاضل ارکان کے لئے ناروا اور دھمکی آمیز الفاظ استعمال کئے تھے۔ گزشتہ روز الطاف حسین کے وکلاءنے ان کی طرف سے غیر مشروط معافی نامہ عدالت میں پیش کیا جسے قبول کر لیا گیا۔

توہین عدالت کا معاملہ دراصل عدالت اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے جس میں کوئی تیسرا فریق نہیں ہوتا۔ یہ ایک طے شدہ عدالتی اصو ل ہے کہ اگر کوئی شخص درخواست کے ذریعے بھی کسی فرد کی طرف سے کئے جانے والے توہین عدالت کے اقدام کی نشاندہی کرے تو درخواست گزار کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ عدالت اگر خیال کرے کہ ملزم کے اقدام سے توہین عدالت کا پہلو نہیں نکلتا تو اس کے خلاف کارروائی ختم کر دی جاتی ہے۔ تاہم یہ بھی طے شدہ اصول ہے کہ کوئی شخص اگر توہین عدالت کے اپنے اقدام پر عدالت سے غیر مشروط معافی طلب کرے تو اس کا مطلب اقبال جرم لیا جاتا ہے۔ ایسی عدالتی نظائر بھی موجود ہیں جب معافی طلب کرنے والے ملزموں کو بھی توہین عدالت کے قانون ک تحت سزائیں سنائی گئیں۔ لیکن یہ اسی وقت ہوتا ہے جب ملزم کے جرم کی سنگینی عدالتی رحم سے بڑھ کر ہو۔ 90ءکی دہائی میں عدالت عظمیٰ کے جسٹس غلام مجدد مرزا کی سربراہی میں قائم فاضل بینچ نے قرار دیا تھا کہ جب ملزم غیر مشروط معافی طلب کرکے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دے تو عدالت کو چاہئے کہ اسے معاف کر دیا جائے۔ اسی طرح مسرور احسن بنام اردشیر کاﺅس جی کیس میں عدالت عظمیٰ نے توہین عدالت کے حوالے سے ایک لینڈ مارک ججمنٹ دی تھی جس میں قرار دیا گیا تھا کہ توہین عدالت کے قانون کا استعمال انتہائی ناگزیر حالات میں کیا جانا چاہئے۔ خود عدلیہ کے ارکان کی رائے ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی کا مقصد ملزم کو سزا دینا نہیں بلکہ اسے جرم کا احساس دلا کر راہ راست پر لانا یا پھر عدالتی احکامات پر عملدرآمد کروانا ہے۔ توہین عدالت کے قانون کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے ایک چیف جسٹس نے تو واضح طور پر یہ ہدایت کر رکھی تھی کہ اس قانون کو محض ڈراوے کے لئے استعمال کیا جائے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ توہین عدالت کے قانون میں مجرم کے لئے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ قید (بلامشقت) کی سزا مقرر ہے جو بہت سخت سزا نہیں ہے۔ عدالتیں اس جرم پر دھڑا دھڑ سزائیں دینا شروع کر دیں تو لوگوں کا خوف ختم ہو جائے گا اور عدالتی تضحیک کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی لئے عدالتیں اس قانون کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کرتی ہیں۔ عدالتی نظائر کی روشنی میں توہین عدالت کے ارتکاب پر اسی صورت میں معافی مل سکتی ہے جب ملزم غیر مشروط طور پر معافی طلب کرے اور اپنے مجرمانہ اقدام کے حوالے سے کوئی وضاحت پیش نہ کرے۔ اس حوالے سے رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کیس کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اس کیس میں ملزم نے پہلے اپنے اقدام کی وضاحت پیش کی اور پھر معافی مانگی جسے عدالت نے قبول نہیں کیا۔ الطاف حسین نے بغیر کسی ”اگر مگر“ کے عدالت سے معافی طلب کی اور اپنے تضحیک آمیز الفاظ واپس لئے۔ الطاف حسین نے انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کیا جس سے ان کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دوسرے سیاستدانوں کے لئے ایک اچھی مثال بھی قائم کی ہے۔ دوسری طرف عدالت نے بھی مثبت رویہ کا اظہار کرکے انصاف کو توقیر بخشی۔ عدالت عظمیٰ کی طرف سے الطاف حسین کی معافی قبول کرنے کے اقدام کو قانونی اور عوامی حلقے احترام کی نگاہ سے دیکھیں گے۔

مزید :

تجزیہ -