کیا آپ عمرہ پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

کیا آپ عمرہ پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

  

 فرمان باری تعالی ! اور اللہ کی خوشنودی کیلئے حج اور عمرہ کو پورا کرو (البقرہ)

عمرہ کو حج اصغر بھی کہا جا تا ہے۔حج اسلام کا پانچواں رکن ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب استطاعت عاقل بالغ تندرست مسلمان مرد اور عورت پر زندگی میں ایک دفعہ فرض قرار دیا ہے جبکہ عمرہ صا حب استطاعت مسلمان کو زندگی میں ایک دفعہ کرنا سنت موکدہ ہے عمرہ کے لغوی معنی زیارت کے ہیں۔ اور زیارت کرنے والاعامر اور معتمر کہلاتا ہے شریعت کی اصلاح میںعمرہ کی میقات سے احرام باندھ کر بیت اللہ کا طواف اور صفامرہ کی سعی کرنے کا نام عمرہ ہے ۔حج ا ور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے خاص مہمان ہوتے ہیں ۔ حج اور عمرہ کرنے والوں پرواجب ہے کہ اپنے حج اور عمرہ میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو اپنا مقصد بنائیں۔محض عمرہ کرنے سے حج فرض نہیں ہو جاتا۔ حج تو پہلے ہی صاحب استطاعت مسلمان پر فرض ہے ۔ عمرہ پر جانے سے پہلے دنیاوی اغراض اور مباہات سے دور رہیں۔نمازبروقت اور با جماعت اداکریں اور لوگوں کے ساتھ اخلاق حسنہ سے پیش آئیں۔ گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ کریں جو گناہ سر زد ہو چکے ہوں ان پر شرمسارہوں او´ر آئندہ گناہ نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ لوگوں کے حقوق لوٹا دےں ، کسی کا دل دکھایا ہو تو اس سے معافی طلب کرےںتمام گناہوں سے دور رہے اپنے عمرہ کیلئے حلال اور پاک مال میں سے خرچ کریں کہ اللہ تعالیٰ پاک چیزوں کو پسند فرماتا ہے اور قبول فرماتاہے۔ جھوٹ سے پرہیز کریں ،غیبت سے بچےں اور بغیر علم کے کوئی دینی بات نہ کہیںاور یہ سوچیں کہ آپ کس کے دربار پر حاضری دینے جا رہے ہیں آپ کو اپنے گھر کس نے بلایا ہے ۔

عمرہ کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ عمرہ پر جانے سے قبل اللہ تعالیٰ کے گھر کی حاضری کیلئے مکمل تیاری کریں اپنا ذہن تیار کریں عمرہ کے احکامات اور مناسک سیکھیں۔ عمرہ کے متعلق لٹریچر کا مطالعہ کریں ۔ پا کستان سے جا کر جو پہلا عمرہ ادا کیا جا تا ہے وہ آپ کا واجب عمرہ ہوتا ہے۔اسی طرح مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آکر جو عمرہ ادا کیا جاتا ہے وہ بھی وا جب عمرہ ہوتا ہے۔مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران جو عمرے ادا کیے جاتے ہیں وہ نفلی عمرے کہلاتے ہیں۔ نفلی عمرہ زندہ اور فوت شدہ عزیزوں کیلئے بھی کیا جا سکتا ہے۔ حج کیلئے ایک خاص وقت معین ہے جبکہ عمرہ ماسوائے 9ذی الحجہ سے13ذی الحجہ پورے سال میںاداکیا جا سکتا ہے۔ایام حج میں عمرہ ادا کرنا مکروہ ہے۔عمرہ کی فضیلت کے بارے میں چند احادیث مبارکہ کا ترجمہ درج ذیل ہے۔

1۔حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا رمضان المبارک میں عمرہ کرنا مستحب اور افضل ہے(بخاری ، مسلم )۔

2۔حضرت ابو داﺅد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا رمضان کے عمرہ کا ثواب ایک حج کے برابر اور اس حج کے برابرجو میرے ساتھ کیا ہو۔(صیح بخاری)۔

3۔حضرت ابن مسعود اور حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا لگاتا ر حج و عمرہ فقراور گناہوں کو ایسے دور کرتے ہیں جیسے آگ کی بھٹی لوہے کی میل کو دور کرتی ہے۔(ترمذی ، نسائی )۔

4۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے۔(بخاری ، مسلم )۔

5۔حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو شخص احرام کی حالت میں مرے گا وہ روز محشر لبیک پکارتا اُٹھے گا۔(نسائی ) عمر ہ پر جانے والوں کو حج اور عمرہ میں فرق بھی معلوم ہوناچاہیے۔ حج اور عمرہ میںیہ فرق ہے :حج فرض ہے عمرہ سنت ہے،حج کی میقات حرم ہے جبکہ عمرہ کی میقات حِل ہے۔حج کیلئے ایک خاص وقت معین ہے۔ عمرہ کیلئے خاص وقت معین نہیں ہے۔حج کے ایام 8ذی الحجہ سے 12ذی الحجہ تک ہو تے ہیںعمرہ9 ذی الحجہ سے13 ذی الحجہ تک کرنا مکروہ ہے، عمرہ کے مناسک حرم شریف خانہ کعبہ میں ادا کیے جاتے ہیں۔

حج کے مناسک خانہ کعبہ کے علاوہ منٰی عرفات اور مزدلفہ میں ادا کیے جاتے ہیں، حج کے تین فرض اور چھ واجب ہیںجبکہ عمرہ کے دو فرض اور دو واجب ہیں۔حج میں تلبیہ یعنی لبیک احرام باندھنے احرام کے نفل پڑھنے اورحج کی نیت کرنے کے بعد پکارنا شروع کی جاتی ہے۔ اور جمرہ عقبیٰ کی رمی کرنے سے قبل پکارنا بندکی جاتی ہے جبکہ عمرہ میں تلبیہ یعنی لبیک احرام باندھنے احرام کے نفل پڑھنے اورعمرہ کی نیت کرنے کے بعد پکارنا شروع کی جا تی ہے اور طواف بیت اللہ شروع کرنے سے قبل پکارنا بند کر دی جا تی ہے حج میں احرام ،احرام باندھنے ،احرام کے نفل پڑھنے اور حج کی نیت کرنے کے بعد قیام منٰی ، وقوف عرفات، وقوف مزدلفہ، رمی جمرہ عقبیٰ ،قربانی اور حلق /قصر کے بعد کھولا جا تاہے۔ عمرہ میں احرام ،احرام باندھنے احرام کے نفل پڑھنے اورعمرہ کی نیت کرنے کے بعد طواف بیت اللہ، صفا مروہ کی سعی ،اور حلق/قصر کے بعد کھولا جاتا ہے۔حج میں وقوف عرفات اور وقوف مزدلفہ ہے جبکہ عمرہ میں یہ نہیں ۔ حج میں طواف وداع ہوتا ہے عمرہ میں نہیں ہوتا۔ حج پانچ دنوںمیں مکمل ہو تا ہے جبکہ عمرہ تقریباََ پانچ گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے۔جب آپ عمرہ پر جانے کا ارادہ کر لیں تو پھر عمرہ کے مناسک اور مسائل سیکھنا واجب ہو جاتے ہیں۔

ہر سال پاکستان سے لاکھوں افراد جن میں خواتین کی معقول تعداد بھی شامل ہوتی ہے۔ عمرہ کی ادائیگی کی سعادت حاصل کرنے کیلئے حجازمقدس جاتے ہیں اور ہر سال یہ حقیقت مشاہدہ میں آتی ہے کہ عازمین عمرہ کی اکثریت مناسک عمرہ کی مکمل سمعی و بصری تربیت لئے بغیر ہی عمرہ پر روانہ ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر عازمین عمرہ مناسک عمرہ کی تر بیت حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے ہیں ۔ا ن کا خیال ہوتا ہے کہ وہا ں جائیں گے تو معلم ہمیں عمرہ کرا دے گا۔ وہ وقت گیا جب معلم ساتھ ہو کر عمرہ کراتے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہو تا ہے کہ سعودی عرب میں ان کے عزیز رشتہ دار موجود ہیں وہ ہمیں عمرہ کرادیںگے۔ یہ بات اور سوچ بالکل غلط ہے وہا ں کوئی کسی کو عمرہ نہیں کراتا ہے ہرایک کو اپنا اپنا عمرہ اور مناسک خود اداکرنا پڑتے ہیں۔ عمرہ سے واپسی پرچلتا ہے کہ مناسک عمرہ کی ادائیگی کے دوران لاعلمی کی بنا پر بہت سی غلطیاں سرزد ہو گئیں ہیں اور کئی مناسک ادا نہ ہو سکے اور نہ ہی ان غلطیوں کا دم یا کفارہ ادا کیا گیا۔ اس طرح ان کا عمرہ ناقص رہ جاتا ہے۔ پہلی بار عمرہ پر جانے والے مرد اور خواتین کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب روانگی سے قبل مناسک عمرہ کی ادائیگی کی سمعی و بصری تربیت لازمی لیکر جائیں تاکہ ان کا عمرہ صحیح طور پر ادا ہوسکے ۔عمرہ کے منا سک سیکھنا انتہائی ضروری ہیں۔

عازمین حج کی تربیت کیلئے تو حکومتی سطح اور پرائیویٹ سطح پرحج سیزن میں مناسک حج کے تربیتی پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے لےکن عازمین عمرہ کی تربیت کے لئے عمرہ سیزن میں حکومتی یا پرائیویٹ سطح پر مناسک عمرہ کی تربیت کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا۔ جبکہ عازمین عمرہ کی تعداد بھی عازمین حج سے زیادہ ہوتی ہے۔عازمین عمرہ کی تربیت بھی اتنی ہی لازمی اور ضروری ہے جتنی کہ عازمین حج کی۔ مناسک حج و عمرہ کی اہمےت اور ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے1978ئسے قائم شدہ بصری تربیت گاہ مناسک حج و عمرہ F-765 ، کالج چوک،سیدپور روڈ، سیٹلائٹ ٹاو¿ن، راولپنڈی میںعازمین حج و عمرہ کی سمعی و بصری تربیت کے انتظامات کئے جاتے ہیں۔ یہ تربیت گاہ راولپنڈی بلکہ پاکستان بھر میں اپنی نوعیت کی پہلی اور واحد تربیت گاہ ہے جہاں عازمین حج وعمرہ کو انتہائی جدید انداز میں مناسک حج و عمرہ کی عملی و بصری تربیت دی جاتی ہے ۔مناسک عمرہ کی سمعی و بصری تربیت کے پر وگرام عمرہ سیزن میں ہر اتوار کو صبح 10بجے منعقد ہوتے ہیں۔ یہ تربیت فی سبیل اللہ دی جاتی ہے ۔ تربیت گاہ میں عازمین عمرہ کو لیکچرز، ماڈل، چارٹوں، نقشوں، تصاویر، خاکوں،ٹی وی اوروڈیو معاونات کے ساتھ تربیت دی جاتی ہے جس میں عازمین عمرہ کومناسک عمرہ، احرام باندھنے کا عملی طریقہ،طواف بیت اللہ کرنے کا عملی طریقہ،صفامروہ کی سعی کرنے کا طریقہ اور مدینہ منورہ میں حاضری، مسجد نبوی کی زیارت اور بارگاہ رسالت میں صلوٰة و سلام پیش کرنے کے آداب اور طریقے بتائے جاتے ہیں۔ ہر پروگرام مکمل تربیت پر مبنی ہو تا ہے ۔ گروپ کی صورت میں جانے والے عازمین عمرہ پورے گروپ سمیت پیشگی وقت اور دن طے کر کے تربیت لیتے ہیں۔ تربیتی پروگرام کے دوران عازمین عمرہ کو عمرہ لٹریچر،اور ڈاکٹرریاض الرحمٰنؒ بانی بصری تربیت مناسک حج و عمرہ کا لکھا ہوا معروف کتابچہ ترتیب عمرہ بلامعاوضہ تقسیم کیا جاتا ہے ۔ خواہشمند عازمین عمرہ جوابی پتہ لکھا ہوا ڈاک کا لفافہ ارسال کر کے کتابچہ ترتیب عمرہ بلا معاوضہ منگوا سکتے ہیں۔ تربیت گاہ میں طواف کے سات چکروں اور سعی کے سات پھیروںکی دعاو¿ں کے کتابچے اور مناسک عمرہ کی تربیتی DVD/VCDبھی دستیاب ہوتی ہے خواتین عازمین کیلئے تربیت گاہ میں خواتین ماسٹر ٹرینر خواتین کو ان کے مخصوص مسائل کے بارے میں ایک علیحدہ نشست میں آگاہ کرتی ہیں ۔یہ تربیت گاہ عازمین حج و عمرہ کی تربیت اور راہنمائی کے لئے پورا سال کھلی رہتی ہے ۔عمرہ سیزن میں عمرہ پر جانے والوں کے لئے مناسک عمرہ کی تربیت کے پروگرام اور حج سیزن میں عازمین حج کیلئے مناسک حج کے سمعی و بصری تربیتی پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔

پاکستان سے ہر سال لاکھوں مسلمان عمرہ کی سعادت حاصل کر تے ہیں لیکن ان کی واپسی پر معاشرہ میں کوئی واضح مثبت تبدیلیاں نظر نہیں آتی ہیں جس کی مثال ، ملک میں لا قانونیت ، مہنگائی، کبھی آٹے کا بحران، کبھی چینی کا بحران،ہر سال رمضان المبارک میں ناجائز ذخیرہ اندوزی ،بلا وجہ مہنگائی، دونمبر مال ،ملاوٹ اور سیل کے نام پر دھوکہ دہی شامل ہے۔ اگر حکومت وقت ملک میں اسلامی نظام نافذ نہیں کرتی توعمرہ سے واپس آنے والے اپنے قو ل و فعل سے اپنے اوپر اسلامی اور شرعی احکام نافذ کرتے ہوئے اور ان پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنے آپ میںواضح تبدیلی ثابت بھی کریں۔نماز ، روزہ کی پابندی کریں، زکوٰة کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔اور اس تبدیلی کے اثرات ہمارے معاشرے پر بھی اثر انداز ہوتے نظر آنے چاہیں۔کہ ہمارے ملک میں قانون کا احترام کیا جا ئے امن و امان اور بھائی چارے کی فضا قائم کی جائے۔حقوق العباد کا خیال کیا جا ئے ۔بیروزگاری غربت اور مہنگائی کو ختم کیا جائے۔آخر میں عازمین عمرہ سے گزارش ہے کہ وہ جب حرمین شریفین اور مقامات مقدسہ پر اپنے لئے دعائیں کریںوہاں اپنے ملک کیلئے اور امت مسلمہ کیلئے بھی دعائیں کریں۔  ٭

مزید :

کالم -