صحافی سچ لکھتے ہیں

صحافی سچ لکھتے ہیں

  

گاﺅں میںاگرکوئی لڑکا ”مُخبریا ہو تو اُسے طعنہ دیاجاتاہے کہ تم بڑے رپورٹرہو۔یاکوئی پٹواری، تحصیل دار، تھانے دار یاکسی اور محکمے کاافسرکوئی جائز یاناجائز بات نہ مان رہاہوتو کہاجاتاہے کہ فلاں کابیٹاصحافی ہے ،اُسے کہووہ یہ کام کرادے گا۔ ”رپورٹر“ کی اصطلاح کو سمجھے بِناہم اُسے صحافی سمجھتے ہیں، حالانکہ صحافی اپنی ذات میں ایک یونیورسٹی ہوتاہے ، اور اُس کارپورٹرہونااُس صحافی کی ذات کاایک پہلوہوتاہے۔”روپورٹنگ“ خالصتاً اخباری زبان کا جزوِ لازم ہے۔ یہ ٹھیک کہتے ہیں کہ صحافت ایک طاقتورسمندرہے اور صحافی اُس سمندرکابے تاج بادشاہ ہوتاہے ۔ وہ ہراُس انسان کے مسائل کی گُتھی سلجھانے کی کوشش میں لگارہتاہے ،جِسے وہ سچ سمجھتاہے ۔ اخبارات اور ٹیلی ویثرن میں رپورٹنگ خصوصی اہمیت کاحامل سیکشن ہوتاہے ، جِسے اُس ادارے کا”دماغ“ کہاجاتاہے ، اور کوئی بھی انسان بنِادماغ کے انسانیت کے خاص رتبے پرفائز نہیں ہوسکتا۔ دراصل ہرمعاشرے میں بڑے بڑے ”دماغ“ ہی اُ س معاشرے کے استحکام میں اہم کرداراداکرتے ہیں، عموماً ایسے ”دماغوں “ کو مغربی دنیا،بلکہ اب تو مشرقی دنیامیں بھی ”تھنک ٹینک “ کہا جاتاہے۔

امریکی سی آئی اے ، روسی کے جی بی اور اسرائیلی موساد جیسی خفیہ ایجنسیاں بھی انہی ”دماغوں “ کی مرہونِ منت ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ان دماغوں کو اعلیٰ عہدوں پرفائز کرانے والی شخصیات یاتو میڈیاہوتاہے یاپھرکچھ ”یارِ غار “ یاپھر’مشترکہ مفادات“ ہوتے ہیں۔آج کے دورمیں میڈیاکسی بھی معاشرے میں مرکزی کردار اداکررہاہے۔ کچھ معاشروں میں تو سیاستدان ، بیورکریٹ اور دیگرافسران صبح اپنانام اخبارمیں چھپاہوانہ دیکھ لیں ، انہیں ناشتہ ہضم نہیں ہوتا ۔ ایسے اشخاص ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ ”صفِ اول “کے اخبارات کے رپورٹرز اُ ن کے دوست ہونے جائیں ، اور یہ سچ بھی ہے کہ کبھی کبھار دوستی ہررشتے پر مقدم ہوجاتی ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ اِسی دوستی میں ”بروٹس تم بھی “ جیسے مقامات بھی آتے ہیں۔ سچاصحافی صرف سچ کادوست ہوتاہے ۔ اِسی طرح کھَراروپورٹرصرف کھَری بات پر ہی یقین رکھتاہے۔

ہراخبارمیں وسعت کے اعتبار سے رپوٹرزرکھے جاتے ہیں ، کسی بھی ادارے کے مین اسٹیشن پر دس، کسی میں پندرہ تو کسی میں بیس رپورٹرز ہوتے ہیں ۔ اُس رپورٹنگ سیکشن کے ہیڈکو چیف رپورٹریاایڈیٹررپورٹنگ کہاجاتاہے ۔ اُس کے بعد ڈپٹی چیف رپورٹرہوتاہے، جبکہ ہررپورٹرکو اپنے علم، دلچسپی اور شوق کی بنِاپرایک خاص ”بیٹ “ دی جاتی ہے ، یعنی اُس رپورٹرکو ایک خاص محکمہ دیاجاتاہے اور یہ اُس کی ڈیوٹی میں شامل ہوتاہے کہ وہ سارادن اپنے محکمے سے متعلق اُن تمام ”معلومات“ پرنظررکھتاہے، جِسے ”خبر“بنایاجاسکے یاجو خبرکے معیار پرپورااُترتی ہو۔یعنی اگروہ شوبز رپورٹرہے تو اُسے معلوم ہوگاکہ فلم انڈسٹری کی زوال پذیری کی وجوہات کیاہیں ، کون سے فلم سٹارکا”ریٹ “ کیاچل رہاہے ، کون سی ایکٹریس ہٹ جارہی ہے، ٹی وی ڈراموں میں کیا نیا ”ٹرینڈ “ آیاہے ۔ سلطان راہی کون تھا، ویناملک کی شادی کِس سے کب ہورہی ہے، ریماچھٹیوں پرکب پاکستان آرہی ہے ، میراکاملک نوید سے رشتہ ٹوٹنے کی وجوہات کیاتھیں؟

 اِسی طرح اگروہ کرائم رپورٹرہوگاتو اُسے علم ہوگاکہ اُس کے شہرمیں کتنے پولیس سٹیشن ہیں، کتنے ایس پیزہیں، کس ڈی آئی جی کی ریپوٹیشن اچھی ہے، کون ساافسراچھاکرائم فائٹرہے۔کس قسم کاکرائم بڑھ رہاہے ،کرائم بڑھنے کی وجوہات کیاہیں ، ایک مہینے میں کتنے پولیس مقابلے ہوئے ، کتنے جعلی اور کتنااصلی مقابلے تھے ؟ اسی طرح پولیٹیکل رپورٹر، سِٹی رپورٹر، کورٹس رپورٹر، اور دیگرمحکموں کے ناموں پرہرروپورٹرکو ایک بیٹ دے دی جاتی ہے۔ عموماََ ہرادارے میں ہربیٹ کو ”کور“ کرنے کے لئے ایک سے زائد روپورٹرہوتے ہیں ، جبکہ ٹیلی ویثرن میں تو ہربیٹ کے دو سے پانچ تک رپورٹرزہوتے ہیں ،بلکہ ٹی وی میں تو کسی رپورٹرکو کوئی خاص بیٹ بھی نہیں دی جاتی، بلکہ جورپورٹرموجود ہو، اُسی کو ایونٹ کورکرنے کاکہاجاتاہے ۔ اِ س کافائدہ بھی ہے اور نقصان بھی۔ فائدہ یہ کہ ایک رپورٹرکومختلف محکموں کے بارے میں علم ہوتاہے اور نقصان یہ کہ کوئی خاص بیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اپنی انفرادی پہچان بنانے میں اُسے کافی وقت لگ جاتاہے۔ اخباری رپورٹرخاص طورپرکرائم رپورٹرکی ”سوشل لائف “ ڈسٹرب رہتی ہے ، دیرسے سونا، بے وقت کھانااور کسی بھی وقت ڈیوٹی پرجانا،جبکہ ٹی وی رپورٹرکی ویسے بھی سوشل لائف نہیں ہوتی ۔ سوشل لائف میں باقاعدگی رکھنے کے لئے کافی وقت انتظام کرنے میں گزرجاتاہے ۔ایک خاص ”نشہ “ ہوتاہے جو رپورٹرکو مست رکھتاہے، وگرنہ کبھی کبھی رکشے کاکرایابھی اُس کی جیب میں نہیں ہوتا،لیکن چندلمحے پہلے اُس سے انسپکٹرجنرل، چیف منسٹر، چیف سیکرٹری نے ہاتھ ملایاہوتاہے....شروع میں کہاتھاکہ سچاصحافی صرف سچ کا یار ہوتاہے، لیکن اُسے ہم اپنادوست سمجھتے ہیں ، لیکن وہ صحافی یارپورٹرجب کوئی خبرہمارے خلاف دیتاہے یاوہ خبرہمارے خلاف ہوتی ہے تو ہم فٹ سے اُس پرالزام دَھردیتے ہیں کہ وہ بلیک میلرہے، صحافی ایسے ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے کہ صحافی سچ کادوست ہے اور سچ لکھنااُس کی ڈیوٹی یاپھرشایداُس کے ضمیرکی آواز ہے۔ اسی لئے یاتوصحافی سے دوستی کرنے سے پہلے ہمیں خود کوٹھیک کرناچاہیے یاپھرصحافی کو دوست ہی نہیں بناناچاہیے ،کیونکہ ساری زندگی سچ کے سہارے کہاں گزرتی ہے ، یہ صرف کتابی باتیں ہیںیار!  ٭

مزید :

کالم -