عبدالقادر ملا کی پھانسی پر احتجاج

عبدالقادر ملا کی پھانسی پر احتجاج
عبدالقادر ملا کی پھانسی پر احتجاج

  

آج پاکستان میں بحث وتمحیص کا دروازہ کھل گیا ہے اور دلائل سے گفتگو ہورہی ہے بنگلہ دیش ایک بار پھر موضوع بن گیا ہے۔16 دسمبر 1971ءپاکستان اور عالم اسلام کی تاریخ کا ایک خونچکاں باب ہے ایک ملک دو لخت ہوگیا حمود الرحمان کمیشن تھا اس کی رپورٹ پر عمل درآمد نہیں ہوا یہ کیس تو شاید درست ہوگا کہ پاکستان میں فوجی آمریت نے ملک کوتقسیم سے دوچار کردیا جنرل ایوب خان سے اس کا آغاز ہوا اور جنرل یحییٰ خان نے پاکستان کی تقسیم پر مہر ثبت کردی پاکستان کی تقسیم میں تین اہم اور بڑے کردار تھے ان کو فراموش نہیںکیا جاسکتا ہے جنرل یحیی خان بھٹو‘ اور شیخ مجیب الرحمان اور 1970ءکے انتخابات ان سب عوامل پر تفصیل سے کوئی بحث نہیں ہوئی اس کے لئے عدالتیں بھی سجائی گئیں اور سب نے شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپاکر حقائق سے فرار اختیار کیا اور عظیم حادثہ ہوگیا اگر حکمران پہلے سے فوجی مارشل لاءلانے والوں کو اپنے انجام تک پہنچادیتے تو یہ المیہ رونما نہیں ہوتا اور نہ دوسرے المیہ جنم لیتے۔

 اب ایک اور دلچسپ بحث پاکستان کے لیفٹ سیکولر اور قوم پرست حلقوں اور دانشوروں اور سیاستدانوں نے شروع کردی ہے کہ جماعت اسلامی کے عظیم رہنما عبدالقادر ملا کی پھانسی کا معاملہ بنگلہ دیش کا اپنا معاملہ ہے اس پر مداخلت اور احتجاج نہیں ہونا چاہیے اس مسئلہ پر بعض اخبارات میںکالم لکھے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے آئیے اس موضوع پر تجزیہ کریں اور دیکھیںکہ کون کتنے حقائق کے قریب ہے اور کون کتنا دور ہے۔ اس مسئلہ کو پاکستان کے سابق وزیراعظم بھٹو سے شروع کرتے ہیں جب اسے جنرل ضیاءالحق کے دور میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تو دنیا کے اکثروبیشتر حکمرانوں‘ سیاسی پارٹیوں نے حکومت سے احتجاج کیا ٹیلی گرام کے ذریعے اپیلیں کیں مسلم حکمرانوں نے براہ راست اپیلیں کیں لیکن ان کوپھانسی دے دی لیکن پاکستان کے عوام نے کسی اسلامی ملک یا غیر اسلامی ممالک کے جھنڈے نذر آتش کئے اور نہ سفارت خانوں پر حملے کئے احتجاج ہوا ۔

اس کے بعد دوسرے واقعہ کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ جب افغانستان میں سردار داﺅد کی حکومت کا تختہ الٹا گیا اور انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا تو پاکستان میں سب سے زیادہ احتجاج جناب عبدالولی خان اور بیگم ولی خان نے کیا اور اخبارات کے ریکارڈ پر ان کے بیانات موجود ہیں انہوں نے کہاکہ ہم اس قتل کا بدلہ لیں گے اس کے بعد جب طالبان نے جنرل نجیب کی لاش کو سڑکوں پر گھسیٹا اور بے دردی سے قتل کردیا اور اس کی لاش کو کابل کے چوراہے پر لٹکادیا تو پاکستان میں پشتون قوم پرست پارٹیوں نے زبردست احتجاج کیا بیانات دیئے مضامین لکھے گئے سیکولر اوربائیں بازو کے دانشور سراپا احتجاج تھے اس وقت ان میں سے کسی نے یہ موقف اختیار نہیں کیا کہ یہ تو افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے اس پر احتجاج نہیں کرنا چاہیے لیکن ایسا نہیں کیا گیا اس کے بعد ایمل کاسی کا معاملہ سامنے آیا اور انہیں گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا گیا اور اسے سزائے موت دی گئی تو پاکستان میں قوم پرست اس کے لئے سراپا احتجاج تھے۔ اس طرح ایران میں حکومت نے کئی بلوچوں کو مختلف جرائم کی وجہ سے پھانسیاں دیں تو بلوچ دانشوروں اور بعض اخبارات میں مضامین اور اداریے لکھے گئے اور احتجاج کیا گیا اس وقت ان میں کسی نے یہ موقف اختیار نہیں کیا کہ یہ ایران کا اندرونی معاملہ ہے اس پر احتجاج نہیں کرنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوا احتجاج کیا گیا ۔

اس وقت انہیں افغانستان ایران کی خودمختاری کا خیال نہیں آیا کہ یہ مداخلت بے جا ہے آج انہیں اور ان قوتوں کو جواپنے آپ کو لبرل سیکولر لیفٹ یا قوم پرست کہتے ہیں جماعت اسلامی کے ممتاز عالم دین اسکالر عبدالقادر ملا کی سزائے موت پر خوشی کے شادےانے بجارہے ہیں اور جماعت اسلامی کو نصیحت کررہے ہیں کہ اس طرح احتجاج نہیں کرنا چاہیے یہ بنگلہ دیش ایک آزاد ملک ہے اور اس میں مداخلت ہے اور یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے۔

 یہ ایک محدود سوچ ہے تنگ دائرے میں اس کا سفر شروع ہوتا ہے اور اسی میں گھومتا رہتا ہے دین اسلام کے حوالے سے ہمارے نزدیک یہ سرحدیں رکاوٹ نہیں ہےں دنیا کا کوئی کونہ ہو ہر کلمہ گو کے ساتھ ہمارا رشتہ جڑا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ہمارا دل دھڑکتا ہے اس لئے دنیا کے جس حصے میں خواہ وہ مسلمان ملک ہو یا غیر اسلامی ملک وہاں کسی بھی مسلمان پر ظلم ہوگا تو مسلمان کے ایمان کا تقاضہ ہے کہ وہ احتجاج کرے۔

اس کا ایمانی اور اخلاقی تقاضہ ہے کہ وہ یہ کرے اور اگر ایسا نہیں کرے گا تو وہ اپنے عقیدہ سے انحراف کا مرتکب ہوگا۔ عبدالقادر ملا کوئی آدمی نہیں تھا اور جو فرد جرم اس پر عائد کی گئی وہ ایک خود ساختہ ٹربیونل تھا اس لئے اس کی کوئی قانونی اور اخلاقی حیثیت نہ تھی بنگلہ دیش حکومت کا یہ عمل غیر انسانی رویہ تھا اس لئے جماعت اسلامی ہو یا کوئی اور پارٹی اس پر احتجاج کا حق ہے اور یہ کوئی مداخلت نہیں ہے۔

عبدالقادر ملا کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا اس پر احتجاج اس کا حق تھا اور اس قسم کی نصیحت کی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ اس طرح کا رویہ بنگلہ دیش میں مداخلت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا گیا یہ ایک غیر منطقی سوچ ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے شیخ حسینہ واجد ایک بھارت نواز وزیراعظم ہے اور اس کی حکومت بھارت اور روس کی مرہون منت ہے اور اس کے والد شیخ مجیب الرحمان کے انجام کو سامنے رکھنا ہوگا ایک نظریاتی جماعت تو اسلام پر ایمان رکھتی ہے اس کو پھانسی کے تختے پر کھڑا کرنے سے اس کا وجود ختم نہیں ہوجائے گا بلکہ اس کی قوت میں اضافہ کرے گا اور اپنے اس کالم کو عبدالقادر ملا کے اس وصیت پر ختم کروں گا جو انہوں نے پھانسی سے قبل اپنی کال کوٹھڑی میں تھے وہ شہادت پاکر امر ہوگئے اور ان کی آخری تحریر ہمیشہ جگمگاتی رہے گی انہوں نے لکھا

مجھے کپڑے فراہم کرلئے گئے ہیں نہانے کےلئے بالٹی میں پانی موجود ہے سپاہی کا حکم ہے کہ جلد از جلد غسل کرلوں لوگوں کا آنا جانا تلاوت میں خلل پڑرہا ہے‘ میرے سامنے مولانا مودودی کی تفسےر القرآن کا ترجمہ ہے“ غم نہ کرو افسردہ نہ ہو تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن پھر (فرقان) مزید لکھا ہے زندگی اور موت کے درمیان کتنی سانسیں ہیں یہ رب کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے اللہ تعالیٰ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے سازشوں کو ناکام کرے ہم نے جس راستے کاانتخاب کیا ہے اس پر ڈٹے رہیںگے کہ یہ راستہ سیدھے جنت کی طرف جاتا ہے“اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ عبدالقادر ملا کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ ٭

مزید : کالم