آئین شکنی پر سزا ملنی چاہیے

آئین شکنی پر سزا ملنی چاہیے
آئین شکنی پر سزا ملنی چاہیے

  

معزز قارئین! ہمارا پیارا ملک جب سے معرّض وجود میں آیا ہے، اس وقت سے اب تک آئے دن کبھی عوام کو اپنی ”نادانیوں“کے سبب اور کبھی خواص کو اپنی ”دانائیوں“کی بناء پر کوئی نہ کوئی پریشانی اور کوئی نہ کوئی مسئلہ گھیرے ہی رکھتا ہے۔ جیسا کہ آج کل ہمارے سابق چیف آف آرمی سٹاف، جنرل پرویز مشرف کو ایک منتخب اور جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹنے کے شوق نے غدّاری جیسے سنگین مقدمے میں عدلیہ کے سامنے بے بس کر کے دل کے عارضے میں مبتلا کر دیا ہے، اس بارے میں کہا تو یہی جا رہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دل کا عارضہ بھی اُسی طرح کامصنوعی اور عارضی ہے جیساکہ آصف علی زرداری کو اپنے دور صدارت میں میمو سیکنڈل کیس میں دھر لئے جانے کے خوف سے کچھ روز کے لئے لاحق ہوا تھا۔

بہر حال اس سلسلے میں ہماری دلی آرزو ہے کہ پاکستان کی آزاد عدلیہ کے دستِ باکرامت کے ذریعے تاریخِ پاکستان کے حساس ترین اور تاریخی نوعیت کے اس مقدمے کا فیصلہ جو بھی ہو، کھلے بندوں اور عدل و انصاف پر مبنی ہونا چاہیے، جو کہ نہ صرف پوری دنیا میں مُلک و ملت کے لئے عزّت و افتخار کا باعث بنے، بلکہ جب تک دنیا ہے اور پاکستان دنیا کے نقشے پر موجود ہے، عدلیہ کا یہ فیصلہ ملک و ملّت کے مفادات سے ہٹ کر سوچنے والوں کے لئے حکمرانوں کو غلط مشورے دینے والے چاپلوسوں کے لئے اور حدّ پرواز سے تجاوز کرنے والے قانون شکنوں کے لئے سبق آموز بھی ثابت ہو (آمین)۔

قارئین کرام! اس وقت ہم موجودہ ملکی و ملّی حالات کے تناظر میںاپنے ایک انتہائی قریبی اور برادر اسلامی مُلک ترکی کی ایک عدالت میں، گزشتہ پانچ برس سے چلنے والے ایک تاریخی مقدمے اور اس کے فیصلے کی مختصر سی رُوداد ،اس امید کے ساتھ اپنے پیارے قارئین کی نذر کر رہے ہیںکہ شاید اس میں ہمارے لئے بھی کسی قسم کی رہنمائی اور بھلائی کا پہلو نکل آئے کیونکہ اس مقدمے میں بھی سب سے بڑے ملزم ترکی کے سابق آرمی چیف جنرل الکار باشبوج ہیں، جنہیں ترک عدالت کی طرف سے 5۔اگست2013ءکو ترکی کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش کا جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سُنائی گئی ہے۔ترکی اخبارات کے مطابق ان کے ساتھ شامل4 دیگر جرنیلوںجنرل ولی کک کو عُمر قیدھورست تولین کو129 برس یلکن کک کو 86 برس اورڈوگو پرینک کو بھی 129 برس کی سزا دی گئی ہے .... ( تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فوج کی طرف سے ان چاروں حضرات کی معافی کی اپیلیں طیب اردوان کی حکومت نے 3جنوری2014ءکومسترد کر دی ہیں)، ان کے علاوہ اسی مقدّمے میں نامزد چالیس دیگر افراد کو بھی مختلف النوع سخت قسم کی سزائیں دی گئی ہیں۔ سزا پانے والے ان لوگوں میں سکیولرازم کے حامی صحافی، دانش ور، سابق جج اور اپوزیشن کے با اثر سیاستدان بھی شامل ہیں۔

ترک عدالت نے ان کو یہ سزائیں منتخب اسلام پسند حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش کرنے اور اس مقصد کے لئے لادین دہشت گرد گروپوں سے روابط رکھنے ان کی سر پرستی کرنے اور مہلک ہتھیار جمع کرنے کی پا داش میں سنائی ہیں۔ ترکی کے اخبارات کا کہنا ہے کہ اس مشہور مقدمے میں ملوث پونے تین سو افراد گرفتار کئے گئے تھے، جن میں سے صرف 21 افراد کو شک کا فائدہ حاصل ہو کر رہائی مل سکی ہے۔ اس اہم ترین مقدّمے کا فیصلہ استنبول کے مغربی حصّے میں واقع ہائی سیکیورٹی جیل میں قائم کی گئی خصوصی عدالت میں سنایا گیا ہے۔سنا ہے کہ عدالت پر دباو¿ کے لئے، اس موقع پر مقدمے کے بڑے ملزم سابق آرمی چیف جنرل الکار باشبُو اور دیگر ملزمان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد جیل کے باہر موجود تھی، لیکن عدالت اس دباو¿ کو خاطر میں نہ لائی۔ترکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سزا سنائے جانے کے موقع پر جنرل الکار باشبو نے عدالتی فیصلے پر شدید غم و غصّے کا اظہار کیا اور وہ اول فول بکتے ہوئے کمرئہ عدالت سے باہر نکل گئے۔ بعد ازاں ترک وزیر اعظم طیّب اردوان نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ” یہ آزاد عدلیہ کا فیصلہ ہے اورجس کسی کو ان فیصلوں پر اعتراض ہے ، وہ اپیل کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے ،لیکن یہ یاد رکھا جائے کہ ان پر ایک قانونی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش کا جُرم ثابت ہو چکا ہے“۔

قارئین کرام! جیسا کہ ہم ابھی عرض کر چکے ہیں،اس وقت پاکستان میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال بپا ہے اور پاکستان کا ہرذی شعور باسی اس پس منظر کو اچھی طرح جانتاہے کہ 12۔ اکتوبر1999ءکو ہمارے چیف آف آرمی جنرل پرویز مشرف کی طرف سے اقتدار پر قبضے کا عمل صریحاً ناجائز تھا۔ انہوں نے آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی کی تھی، انہوں نے آئین کی بالا دستی قائم رکھنے اور اس کے تحفّظ کا حلف توڑ کر بد ترین عہد شکنی کا ارتکاب کیا تھا، وہ بندوق کے زور پر دس برس اقتدار پر ناجائز قابض رہے، ان کے دور اقتدار میں پاکستان عالمی، سیاسی، داخلی اور معاشرتی سطح پر جن انتہائی کٹھن آزمائشوںاور عدم استحکام کا شکار رہا، اس کی کسک 5 برس گزرجانے کے بعد آج بھی ہر باشعور اور اچھے حافظے کا مالک پاکستانی اپنے قلب میں محسوس کرتا ہے۔یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دس سالہ دَور حکومت میں پاکستان کسی سے بر سرِپیکار نہیں تھا، لیکن پھر بھی جنگ جیسی المناک صورتِ حال سے دوچار رہا انہوں نے اپنی رِٹ قائم کرنے کے نام پر پاکستان کے معصوم عوام کی جان و مال سے کھیلنے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، ظلم و بہیمیت کے اس ”کارِخیر“کا تسلسل ابھی تک تھمنے میں نہیں آ رہا انہوں نے روشن خیالی کے نام پر معصوم ذہنوں کو ایسا پراگندہ کر دیا کہ جس کی منزل ہلاکت اور تنزلی کے سوا کچھ نہیں۔

 انہوں نے نظامِ تعلیم کی اصلاح کے نام پر اسلام کو مَسخ کرنے اور اُمتِ مسلمہ سے ہمارا ناطہ توڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی انہوں نے امریکہ کی ایک گیدڑبھبھکی سے لرز کر افغانستان کی مُسلم حکومت کو تاخت و تاراج کر کے پاکستان کے خلاف طالبان کی شکل میں ایک خوفناک عفریت کو جنم دیا۔ انہوں نے امریکہ کی جھوٹی انٹیلی جنس رپورٹوں کی بناءپر ہزاروں مسلمانوں کو گرفتار کر کے امریکیوں کے حوالے کیا انہوں نے کفار کو خوش کرنے کے لئے صوبہ سرحد (پختونخوا) کے علاقے کا امن اور سکون غارت کر کے تسلسل کے ساتھ فوجی آپریشنز شروع کئے،جس کے ردّعمل میں ملک بھر میں دہشت گردی کی آگ پھیل گئی ان ہی کی وجہ سے ہزاروں افراد نے خود کش بم دھماکوں کی صورت میں پوری قوم پر دہشت کی چادر تان دی جب سے نواب اکبر بگٹی ان کی رعونت کا شکار ہوئے ہیں،تب سے بلوچستان سیخ پا ہے ان ہی کے حکم پر لال مسجد اور جامعہ حفصہ اسلام آباد کی سینکڑوں حافظ قرآن اور عالم دین معصوم بیٹیوں کو فاسفورس بموں سے زندہ پگھلا دیا گیا ۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے ارزاں مفادات کے لئے پاکستان کی باوقار عالمی اور ایٹمی حیثیت کو خاک میں ملا کے رکھ دیا انہوں نے اسلام کے حوالے سے درجہ¿ اعتبار پر متمکن پاکستان کی اسلامی سلطنت کو اپنے غاصبانہ اقتدارکے دوام کی خاطر، رسوا کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کی اس میں ایک ذرّہ بھی شک نہیں کہ ان کے بد ترین اقدامات کی وجہ سے پاکستان کا تعارف ایک دہشت گرد ملک کی حیثیت سے دنیا کے منظر نامے پر ابھرا۔

نائن الیون کے بعد امریکہ نے پورے عالمِ اسلام کو جس جنگ میں جھونکنے کی کوشش کی تھی، اس موقع پر مسلم ممالک کے اتحاد کی ضرورت تھی اس وقت ایٹمی طاقت اور عسکری قابلیت کے ناتے جنرل پرویز مشرف کا فرض تھا کہ وہ ایسے اتحاد کی نہ صرف کوشش کرتے ،بلکہ قیادت کرتے لیکن وائے بدقسمتی کہ انہوںنے چند حقیر مفادات کی خاطر پاکستان کو امریکہ کی زرخرید لونڈی بنا کر رکھ دیا یہ عجیب سیّدزادے تھے جو خود کو سیّد بتا کر تقریباً ہر خطاب میں راسخ الفکر مسلمانوں کی تضحیک میں راحت محسوس فرماتے تھے افسوس کہ انہوں نے اپنے غاصبانہ عہد کے خاتمے تک مسلسل10 برس نظریاتی کشمکش برپا کئے رکھی یہی وجہ تھی کہ ان کے دور میں اسلام خود ،اپنے نام پر حاصل کی گئی سر زمین پر اجنبی بن کر رہ گیا ان ہی کے منحوس دَور حکومت میں مساجد اور مدارس کو عوامی سطح پر دہشت گرد قرار دلوانے میں اسلام دشمن قوّتوں کو کامیاب پیش رفت حاصل ہوئی ان ہی کے منحوس دور کے باعث آج مسلمانوں بالخصوص اہلِ پاکستان کو دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے ۔

 قارئین کرام کے حافظے اگر سُن نہیں ہو گئے تو یاد کریں کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنے جبر و تسلط اور اقتدار کے دوام کے لئے ہر اس ادارے کو نشانہ بنایا جو انہیں اپنی راہ میں رکاوٹ محسوس ہوا ان ہی کے دَور میں پاکستان کے اسلامی قوانین کا حُلیہ بگاڑ کر ملک میں بے حیا معاشرت کو فروغ دیا گیا اور ان کے جبر و استبداد پر مبنی کہانیاں تاریخ کے انمٹ اوراق پر نقش ہو چکی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آمرِ مطلق کے خلاف غدّاری کا مقدمہ قائم کرنے کے اعلان کے بعد ملک بھر کی تقریباً تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور معزز وکلائے کرام نے نہ صرف اس امر کا خیر مقدم کیا، بلکہ بہ یک زبان یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ جس کسی نے بھی آئین کی پاسداری اور اس کی فرمانروائی کا حلف اُٹھا کر آئین کو پامال کیا ہے یقینا اُس نے غدّاری کی ہے۔

آئیے اب دیکھتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے ان تمام مذکورہ بالا غیر آئینی اقدامات و احکامات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے والوں ان کے سامنے مور پنکھی مجرے کرنے والوں ان کے سامنے کورنش بجا لانے والوں ان کو وردی کے ساتھ سو سو بار منتخب کرنے کا اعلان کرنے والے بزرجمہروں سپورٹروں معاونوں مددگاروں چاپلوسوں کی فوج ظفر موج کے ساتھ ہماری آزاد عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا ”حُسنِ سلوک“کرتے ہیں کہ آئندہ کسی طالع آزما کو حلف شکنی اور من مانی کر کے ملک کو دس دس برس تک تاریکیوں میں دھکیلنے کی جرا¿ت نہ ہو۔  ٭

مزید : کالم