سابق آرمی چیف کے خلاف

سابق آرمی چیف کے خلاف

 عدالت میںزیر سماعت مقدمہ سے

 فوج کا کو ئی تعلق نہیں ،سیکرٹری دفاع

اسلام آباد (آئی این پی) سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) آصف یاسین ملک نے کہا ہے کہ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا شمار دنیا کے بہترین امراض قلب کے ہسپتالوں میں کیا جاتا ہے‘ اے ایف آئی سی میں باہر سے آکر بھی لوگ اپنا علاج کراتے ہیں‘ سابق آرمی چیف کے خلاف عدالت میں زیر سماعت مقدمہ سے فوج کا کوئی تعلق نہیں نہ ہی خصوصی عدالت کے ججوں میں کوئی فوجی ہے۔ وہ منگل کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ صحافیوں کی طرف سے اے ایف آئی سی میں دل کے امراض کی سہولتوں اور سابق صدر مشرف کو علاج کیلئے بیرون ملک منتقل کرنے کے حوالے سے مختلف سوالات کے جواب میں سیکرٹری دفاع نے کہا کہ اے ایف آئی سی کا شمار نہ صرف امراض قلب کے دنیا کے بہترین ہسپتالوں میں کیا جاتا ہے بلکہ اس ہسپتال کے معالجین بھی دنیا بھر میں مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے ایف آئی سی میں علاج سے سابق صدر مشرف کو بھی مطمئن ہونا چاہئے کیونکہ یہاں تو بیرون ملک سے آکر بھی لوگ اپنا علاج کراتے ہیں۔ خصوصی عدالت میں سابق صدر کے خلاف زیر سماعت مقدمہ کے بارے میں سوالات پر سیکرٹری دفاع نے کہا کہ آرٹیکل 6کے تحت یہ مقدمہ خصوصی عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس سے پاک فوج کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ سراسر ایک عدالتی معاملہ ہے جو عدالت میں ہی چل رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوج کی طرف سے مشرف کے خلاف اس مقدمہ کے دوران کسی طرح کی کوئی مداخلت نہیں کی جارہی۔ ایک اور سوال پر سیکرٹری دفاع نے کہا کہ نہ تو پاک فوج کو پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی خصوصی عدالت کے ججوں میں کوئی فوجی ہے

سیکرٹری دفاع

مزید : صفحہ اول