تجزیہ:چودھری خادم حسین

تجزیہ:چودھری خادم حسین

سعودی وزیر خارجہ کی آمد ،قیاس آرائیاں ،اصل ایجنڈا غائب

دوست ملک سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تو ساتھ ہی خبروں اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا اور یہ ثابت کیا جانے لگا کہ وہ یہاں جنرل (ر) پرویز مشرف کے حوالے سے بات کریں گے ۔اس سلسلے میں ہمارے دفترخارجہ نے وضاحت بھی کی لیکن اسلام آباد میں ہمارے ہم پیشہ بھائیوں نے خصوصی توجہ مبذول رکھی اس کے نتیجے میں اصل ایجنڈے کی طرف توجہ نہ دی گئی کہ سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کے سامنے صرف یہی ایک مسئلہ تو نہیں ہو سکتا،یقیناً باہمی تعلقات اور مفادات کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہو گی ۔سعودی عرب پاکستان کاآزمودہ دوست ملک ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کیلئے صرف یہی ایک کام ہو۔

جہاں تک سعودی وزیر خارجہ کی آمد ، ملاقاتوں اور مذاکرات کا تعلق ہے تو جو امر اوجھل ہوا وہ خطے کے حالات سے متعلق ہے اور اس میں خصوصی توجہ پاک ،ایران اور سعودی عرب ،ایران تعلقات کے حوالے سے ہے ۔پاکستان نے ایک برادر اسلامی ملک ہونے کے حوالے سے یہ کوشش کرنے کا فیصلہ کیا کہ اسلامی دنیا کے مسائل کی خاطر ہی سہی ،ایران اور سعودی عرب حکومت کے تعلقات میں بہتری آ جائے ۔گزشتہ دنوں یہ اطلاع تھی کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اپنے ذاتی مراسم کے حوالے سے اس سلسلے میں کوئی اقدام کریں گے ،یقیناً دوسرے امور کے علاوہ اس حوالے سے بھی بات ضرور ہوئی ہو گی اگرچہ اس سلسلے میں دونوں طرف سے کچھ بتانا مناسب نہیں ہو گا پاکستان کیلئے یہ ز یادہ اہم بھی ہے کہ ان دونوں اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت نہ صرف خطے بلکہ پاکستان پر زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے اس لئے اگر پاکستان کی کوشش سے تعلقات میں بہتری آ جائے تو یہ بہت اچھی پیش رفت ہو گی۔

جہاں تک جنرل (ر) پرویز مشرف کا سوال ہے تو ان کا معاملہ اب ڈاکٹروں اور عدالت کے حوالے ہے جو طبی رپورٹ گزشتہ روز پیش کی گئی اس میں سابق صدر کی بیماری شدید نوعیت کی بتائی گئی ہے ،دل کی تین شریانوں کے بند ہونے کے علاوہ گردوں کی تکلیف بھی ظاہر کی گئی ہے ۔یہ اب ہسپتال کے ڈاکٹروں پر منحصر ہے کہ وہ علاج کیلئے بیرون ملک کی تجویز دیتے ہیں یا نہیں اور اس سلسلے کے بعد عدالت پر منحصر ہو گا کہ وہ اس سلسلے میں اپنافیصلہ دے ،وزیر اطلاعات سینٹر پرویز رشید کا کہنا درست ہے کہ معاملہ اب عدالت کے اختیار میں ہے حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ،اس لیے انتظار ہی بہتر ہے ۔

متحدہ کے حوالے سے لکھنے سے گریز کی کوشش خود محترم الطاف حسین کامیاب نہیں ہونے دیتے اب انہوں نے نئی بات کر دی اور یہ فرما دیا کہ پرویز مشرف کو مہاجر ہونے کی بنیاد پر تنگ کیا جا رہا ہے وہ یہ بھول گئے کہ پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف بنانے والے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ہی تھے اور وہ بھی مہاجر ہی ہیں یہ الگ بات ہے کہ الطاف حسین پنجاب سے آنے والوں کو یہ درجہ دینے پر آمادہ نہیں ہیں ،پنجاب والے یہ بات کہنے سے گریز کرتے ہیں لیکن یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ بر صغیر کی تقسیم سے سب سے زیادہ متاثر مشرقی پنجاب والے ہوئے ۔یہاں سے آنے والے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پیاروں کو شہید کرا کے اور خواتین کو اغواءکرانے کے بعد آئے ادھر سے آنے والے یا تو جان سے گئے یا پھر مہاجر ہو کر آئے اور پیچھے کوئی نہیں رہا تھا ۔الطاف حسین اور متحدہ والے کب تک مہاجر کارڈ استعمال کریں گے ،اگر وہ سندھ دھرتی کی بات کرتے ہیں تو پھر ان کو سندھ کی بات کرنا چاہیئے ،اب جو انداز اختیار کیا گیا وہ بلاوجہ تنازعہ پیدا کرنے والا ہے ،حالانکہ مہاجر قامی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ کے حوالے سے پوری قام نے خیر مقدم کیا تھا کہ اب الطاف حسین کی جماعت یقیناً قومی سیاست کرے گی لیکن شاید وہ عوام کی توقع پوری نہیں کرنا چاہتے اور مسلسل اردو بولنے والے مہاجر کا لاحقہ استعمال کرتے چلے جا رہے ہیں ،ان کو یہ تو علم ہے کہ اردو قومی زبان ہے اور یہاں پنجاب میں تو بچے یہی زبان بولتے ہیں ان کے حقوق کی بات کون کرے گا ؟

تجزیہ

مزید : صفحہ اول