کشمیر پر متنازع بیان، انتہا پسند ہندوﺅں کاعام آدمی پارٹی کے دفتر پر حملہ

کشمیر پر متنازع بیان، انتہا پسند ہندوﺅں کاعام آدمی پارٹی کے دفتر پر حملہ
کشمیر پر متنازع بیان، انتہا پسند ہندوﺅں کاعام آدمی پارٹی کے دفتر پر حملہ

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) انتہا پسند ہندوﺅں نے عام آدمی پارٹی کو کشمیر میں ریفرنڈم کے بیان پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس کے دہلی آفس پر حملہ کردیا۔بی بی سی کے مطابق،دہلی کے نواحی علاقے کوشامبی میں انتہا پسند ہندو ﺅں نے پارٹی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی ہے۔حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی اور ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس نے حملے کی مذمت کی ہے لیکن آر ایس ایس کے ترجمان رام مادھو نے کہا کہ وہ کشمیر پر بھوشن کے بیان کی بھی مذمت کرتے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق تقریباً تیس سے چالیس نوجوان کوشامبی میں پارٹی کے دفتر پر جمع ہوئے اور وہاں نعرے بازی اور توڑ پھوڑ کی لیکن اس کارروائی میں کسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔دہلی کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اروند کیجری وال نے اپنی حفاظت کے لیے سکیورٹی لینے سے انکار کردیا تھا اور دہلی سیکریٹریٹ سے بھی پولیس کی نفری ہٹا دی گئی تھی۔لیکن اس واقعے کہ بعد دہلی سیکریٹیریٹ کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔حملہ آوروں کا کہنا ہے کہ وہ بھوشن پرشانت کے اس بیان پر احتجاج کر رہے تھے کہ کشمیر میں داخلی سلامتی کے لیے فوج کی تعیناتی پر حتمی فیصلہ ایک ریفرینڈم کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔

بھوشن کے بیان پر تمام سیاسی پارٹیوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے اس قومی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا تھا۔ خود کیجری وال نے بھی اس بیان سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بھوشن کی ذاتی رائے ہے۔

بھوشن نے دو سال پہلے بھی کہا تھا کہ کشمیریوں کو زبردستی ہندوستان کے ساتھ نہیں رکھا جانا چاہیے۔

شدید سیاسی رد عمل کے بعد پیر کو بھوشن نے ایک وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کو چیلنج نہیں کر رہے تھے اور اپنی پارٹی کے اس نظریہ سے اتفاق رکھتے ہیں کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔بدھ کے حملے کے بعد عام آدمی پارٹی کے رہنما دلیپ کمار پانڈے نے کہا کہ حملہ آوروں کا تعلق ’ہندو رکشا دل‘ سے تھا۔اس تنظیم کے سربراہ وشنو گپتا نے کہا کہ جب ماضی میں پرشانت بھوشن نے کشمیر کی علیحدگی کی بات کی تھی تو ’میں نے خود انہیں پیٹا تھا اور مجھ پر ابھی مقدمہ چل رہا ہے۔۔۔ ہم اس طرح کی زبان برداشت نہیں کریں گے۔‘

خود بھوشن نے کہا کہ ’یہ لوگ عام آدمی پارٹی کی کامیابی سے اتنا پریشان ہوگئے ہیں کہ اس طرح کی حرکتوں پر اتر آئے ہیں۔۔۔ یہ فرقہ پرست اور فسطائی ذہنیت والے لوگ ہیں۔‘

مزید : ڈیلی بائیٹس