موجودہ حالات اور میڈیا کی ذمہ داری

موجودہ حالات اور میڈیا کی ذمہ داری
موجودہ حالات اور میڈیا کی ذمہ داری

  

اشفاق احمد پاکستان کے ادیبوں میں ایک جداگانہ شخصیت کے مالک تھے۔ ادب کے ساتھ ساتھ ان کی تحریروں میں ایک خاص فلسفہ نظر آتا تھا۔اشفاق احمد ایک جملہ خاص طور پر بولا کرتے تھے۔ چاہے وہ دوستوں کی محفل ہو یا پھر ٹیلی ویژن پر کوئی پروگرام کہ پاکستان کو آج تک جتنا نقصان پہنچا ہے، وہ پڑھے لکھے لوگوں نے پہنچایا ہے،کسی جاہل نے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ مجھے اس بات کا کوئی اندازہ نہیں کہ جناب اشفاق احمد یہ بات کس تناظر میں کرتے تھے، لیکن آج پاکستان جس انتشار کا شکار نظر آتا ہے، اس میں یہ بات کلی طور پر درست نظر آتی ہے۔زبان و قلم کی آزادی ،اگرچہ پاکستان میں ہمیشہ ایک دلفریب نعرہ کی صورت میں استعمال ہوتی رہیہے۔ آمریت کا دور ہو یا جمہوریت زبان و قلم کی آزادی کے نام پر مہم جوئی جاری رہی۔ پرویز مشرف کے دور سے پہلے پاکستان میں آزاد صحافت صرف پرنٹ میڈیا میں موجود تھی اور اسی حوالے سے صحافت میں نظریاتی اور حقائق پر مبنی صحافت کا ایک ہی میدان تھا۔ پاکستان میں نظریاتی صحافت کے حوالے سے بڑے بڑے نام اور بڑی بڑی شخصیات موجود رہیں، جنہوں نے قلم کی آبرو قائم رکھی۔

پرویز مشرف کے دور میں جب پرائیویٹ چینل سامنے آئے تو پاکستان میں یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ Live نشریات اور Talk Show ،یہ سب افراد کے لئے ایک نئی چیز تھی۔ناظرین کے لئے بھی اور پروگرام کرنے والے افراد کے لئے بھی۔ پرنٹ میڈیا میں جب اخبار یا میگزین میں کوئی خبر یا کالم اشاعت کے مرحلے تک پہنچتا تھا تو اس سے قبل کئی ہاتھوں سے گزر کر اور ہر مرحلے پر تحقیق کے بعد قاری تک پہنچتا تھا، لیکن الیکٹرانک میڈیا کے آتے ہی اب فوری اور سب سے پہلے، کا کلچر سامنے آیا۔ اب نہ تحقیق کی ضرورت ہے اور نہ صداقت کی جستجو!کیمرے کے سامنے جو چاہے بیان کر دو نہ زبان اور نہ حقائق کی اہمیت! ہر چینل پر روزانہ کم از کم چار Talk Show اور پھر Breaking News کے نام پر ایک طوفان علیحدہ، یہ ساری باتیں بھی برداشت کی جا سکتی ہیں، لیکن ایک نیا سلسلہ کہ اب ہر شخص عالم فاضل ہے اور سینئر تجزیہ نگار بھی، جس شخص نے صحافت کا آغاز ایک دن قبل کیا وہ پروگرام کا میزبان ہونے کی وجہ سے عالم بھی ہے اور عظیم صحافی بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ Talk Show میں مہمانوں نے نام پر وہ جغادری موجود ہیں جو قرآن و سنت سے لے کر معیشت، سیاست اور دفاع ایسے اہم مسائل پر بے لگام گفتگو شروع کر دیتے ہیں،کیونکہ کیمرہ اور مائیک ان کے پاس ہے، اب وہ جو چاہے فرمائیں یہ ان کا حق ہے اور انہیں اس کی مکمل اجازت ہے۔ زبان و قلم کی آزادی کے نام پر کروڑوں پاکستانی ان نام نہاد عالم فاضل مہمانوں اور میزبانوں کے ہاتھوں میں یرغمال بن جاتے ہیں۔یوں لگتا ہے اب تجربے کی ضرورت ہے اور نہ ڈگری کی، جتنا بڑا زبان دراز، اتنا بڑا نام۔ بے باک صحافی اور دلیر دانشور وہی ہے جو نہ اخلاق کو اہمیت دے اور نہ سماجی رشتوں کو۔ یوں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے کہ اب پوری قوم ہر مسئلہ پر انتشار کا شکار نظر آتی ہے۔ وہ مسئلہ قومی ہویا مذہبی، معاشرتی، اس پر قوم کو تقسیم کر دیا گیا ہے اور یہ سب کچھ زبان و قلم کی آزادی اور علم و دانش کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ یہ علم اور انتشار پھیلانے والے وہی دانشور ہیں، جن کے بارے خود رب کائنات نے قرآن مجید کی سورۃ بقرہ میں فرمایا:(ترجمہ) وہ ان باتوں کو سیکھتے ہیں جو ان کو ضرر پہنچائیں اور انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچائیں۔ خود رسول کریم حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: (ترجمہ) اے خدا میں پناہ مانگتا ہوں، ایسے علم سے جو نفع نہ پہنچائے۔

لیکن ہے کوئی جو آج کے ان عالم فاضل دانشوروں کو سمجھائے کہ جس علم اور تجزیئے سے ملک و قوم میں انتشار پھیلے اور قومی اتحاد کے بجائے گروہی تقسیم کا باعث بنے، اس علم و دانش کا کیا فائدہ۔ 16دسمبر کے سانحہ پشاور کے بعد قوم میں سیاسی اور سماجی اتحاد کی ایک فضا قائم ہو گئی تھی۔ پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتیں ایک نکتے پر متحد نظر آ رہی تھیں کہ پاکستان سے دہشت گردی کی لعنت کو اب جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ تمام قائدین نے اکٹھے بیٹھ کر لائحہ عمل بھی طے کیا اور اس پر عمل کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ابھی غم زدہ اور صدمے سے نڈھال قوم اس حوالے سے پوری طرح خوش بھی نہ ہونے پائی تھی کہ مختلف چینلز پر علم و دانش کے نام پر نفاق و تقسیم کا گھناؤنا کھیل شروع ہو گیا۔ دہشت گردوں کے بجائے سیاسی قائدین کی پرانی تقریروں اور پرانے انٹرویوز کے اقتباسات بغیر سیاق و سباق کے دکھائے جا رہے ہیں۔ کسی کو دہشت گردوں کا ساتھی بتایا جا رہا ہے تو کسی کو سرپرست۔ کسی کو U Turnکا طعنہ دیا جا رہا ہے تو کسی کو دل سے دہشت گردوں کا حامی بیان کیا جا رہا ہے۔ ایک مقابلہ ہے زبان درازی کا اور انتشار پھیلانے کا۔ ملکی قائدین کو بدنام کرنے اور ان کے بارے بدگمانی پیدا کرنے سے موجودہ صورت حال میں کس کو فائدہ ہوگا، یہ کوئی مشکل سوال نہیں۔ نہ ہی اس کے جواب کے لئے کسی نام نہاد تجزیہ نگار کی ضرورت۔ قوم حالت جنگ میں ہے اور حالت جنگ میں قوم میں انتشار پھیلانے والا نہ پاکستان کا دوست ہو سکتا ہے اور نہ پاکستانی قوم کا۔ اپنی دانست میں وہ چاہے جتنا بڑا دانشور ہو یا پھر بڑا قانون دان۔ اگر بدزبانی اور یاوہ گوئی ہی علم و دانش کا معیار ٹھہر گیا ہے تو پھر آنے والے دن پاکستان اور پاکستانی قوم کے لئے بڑے بھاری نظر آ رہے ہیں۔ حضرت علی ہجویریؒ المعروف داتا گنج بخش اپنی کتاب کشف المحجوب میں تحریر فرماتے ہیں، اگر عالم کا علم اس کے اپنے کسب و فعل سے نہ ہو تو بھلا وہ کسی ثواب کا حقدار کیسے ہو سکتا ہے۔ ایسی باتیں وہی لوگ بناتے ہیں جو دنیوی عزت و منزلت اور جاہ و حشمت کی خاطر علم حاصل کرتے ہیں۔

2014ء کا سال اپنے اختتام سے پہلے پاکستان اور پاکستانی قوم کو بہت دکھ دے گیا ہے۔ آغاز سے لے کر اختتام تک قوم نے بہت دکھ جھیلے۔ دہشت گردی کے علاوہ سیاست اور مذہب کے نام پر پوری قوم کو تقسیم کر دیا گیا۔ سب سے بڑھ کر زبان و قلم کی آزادی کے نام پر زبان درازی اور یا وہ گوئی کے ایسے ایسے مناظر سامنے آئے کہ جس سے کروڑوں عوام جھنجلاہٹ اور مایوسی کا شکارہو گئے۔ عوام کی اکثریت اپنے بچوں اور اپنے ملک کے مستقبل بارے ناامیدی کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ کیا اس نئے سال میں آزادی کے نام پر انتشار کا یہ کھیل بند کیا جا سکتا ہے؟ مَیں سمجھتا ہوں کہ وقت آ گیا ہے کہ صحافت کے میدان کے اصل قائدین سامنے آئیں اور انتشار کے اس کھیل کو ختم کرائیں۔ جناب مجیب الرحمن شامی CPNE کے قائد ہیں اور ذاتی طور پر صحافت کی آزادی کی جنگ کے سرخیل بھی رہے ہیں ، ان سے بہتر کون جانتا ہے کہ صحافت کی آزادی کیا ہوتی ہے؟ سال نو میں اس بات کا فیصلہ ہوجانا چاہیے کہ زبان و قلم کی آزادی کیا ہوتی ہے اور آزادی کے نام پر Dirty Race کیا ہوتی ہے؟ قوم کو متحدہ رکھنا صرف سیاستدانوں اور فوج کا کام نہیں، ہر شخص کو اس کارخیر میں حصہ ڈالنا ہے اور میدان صحافت کے عالموں اور دانشوروں کو اس حوالے سے زیادہ حصہ ڈالنا پڑے گا۔

مزید :

کالم -