دہشت گردی مسلم اُمہ کا مسئلہ

دہشت گردی مسلم اُمہ کا مسئلہ
دہشت گردی مسلم اُمہ کا مسئلہ

  



پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ بہت پرانا ہے، لیکن اس مسئلے کا ادراک قومی سطح پر پہلی بار ہوا ہے۔ اس پرانے مسئلے کے بارے میں ایک نئی سوچ نے جنم لیا ہے، جس کی بدولت نئے سال میں اس مسئلے کے حل کے لئے امید پیدا ہوئی ہے۔ دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لئے ضرورت اس بات کی تھی کہ دشمن کی شناخت کی جاتی۔ دشمن کو دشمن سمجھا جاتا اور پھر دشمن کو شکست دینے کی تدابیر اختیار کی جاتیں۔ افسوس صد افسوس کہ سالہا سال پاکستانیوں کا خون پانی کی طرح بہتا رہا۔ ہم مذمت اور افسوس کرتے رہے اور وہ بھی بددلی کے ساتھ اور ہمیں اپنے دشمن کے بارے میں خبر نہ ہوئی۔ پشاور کے اوندہناک سانحے کے بعد پوری قوم پر آشکار ہوا کہ ہمارا دشمن کون ہے؟

ایسی بات نہیں کہ دشمن ہمیں نقصان نہیں پہنچاتا تھا یا پھر ماضی میں اس کے لگائے گئے زخموں کی شدت کم تھی۔ ماضی میں بھی دشمن نے ارض پاک کو اپنے ناپاک عزائم سے آلودہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن قومی سطح پر ان دہشت گردوں کو وہ مقام نہیں دیا جا سکا، جس کے یہ مستحق تھے۔ اس رویے کی متعدد وجوہات تھیں، لیکن ان میں ایک اہم وجہ ان دہشت گردوں کے وہ وکیل اور ہمدرد تھے جو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ جب بھی دہشت گرد پاکستانیوں کا خون بہاتے تو ان کے ہمدرد چیخنا چلانا شروع کر دیتے کہ یہ تو یہود و ہنود کی کارستانی ہے یا امریکہ کی مکاری کا نتیجہ ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ ان دہشت گردوں نے ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کر لی تو اس کے بعد ان کے وکلاء نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی۔ ای میل تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔اس پراپیگنڈے کا نتیجہ یہ نکلا کہ قوم ان دہشت گردوں کے بارے میں یکسو نہ ہو سکی۔ کنفیوژن کا شکار ہوئی اور اپنے دشمن کو شناخت کرنے سے قاصر رہی، جب ہم دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی بات کرتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو عناصر قوم میں کنفیوژن پیدا کرتے رہے اور دشمن کی شناخت نہیں ہونے دی کیا اُن اصحاب کو سہولت کار کے زمرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا؟ دہشت گردی کے بارے میں قوم کو کنفیوژ کرنے میں سیاست دانوں کے کردار سے بھی صرفِ نظر ممکن نہیں۔ کچھ سیاست دان مسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ کو امریکہ کی جنگ کہتے رہے اور کچھ دہشت گردوں کو بھائی کہتے ہیں اور بعض کھل کر بات کرنے سے کتراتے رہے۔ اس طرز عمل نے بھی عوام میں کنفیوژن پیدا کی۔

بھارت ہمارا دشمن ہے، عوام یہ بات بخوبی جانتے ہیں اس لئے بھارت کے ساتھ جنگ لڑنے میں ہماری مسلح افواج کو آسانی ہوتی ہے۔ پوری قوم مسلح افواج کے پیچھے کھڑی ہو جاتی ہے اور دشمن پر وار کرنے کے لئے ہر پاکستانی شہری بے قرار ہوتا ہے، اس طرح نہ صرف قوم کا بلکہ مسلح افواج کا مورال بلند ہو جاتا ہے، جس سے دشمن کو شکست دینے اور اس پر قابو پانے میں آسانی ہوتی ہے، اس کے برعکس ماضی میں دہشت گردوں کے خلاف عوامی سطح پر دشمن سمجھنے کی سوچ پیدا نہیں کی جا سکی، جس کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ مسائل کا شکار ہے۔ 2015ء میں اس طرح کے رویے اور سوچ ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔ ہماری قوم اور مسلح افواج دشمن کے خلاف صف آراء ہو چکی ہیں۔اب دہشت گردوں کو شکست دینا اور اُن پر قابو پانا ماضی کے مقابلے میں آسان ہو گیا ہے۔

پاکستان اپنے وسائل کے مطابق دہشت گردی کے مسئلے کا مقابلہ کر رہا ہے اور دہشت گردوں کو شکست دینے کے لئے پوری قوم پُرعزم، مستعد اور تیار ہے، ہمیں اپنی مسلح افواج پر بھی فخر ہے جس نے دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے عظیم الشان قربانیاں دی ہیں اور یہ قربانیاں اب بھی دی جا رہی ہیں، لیکن دہشت گردی کے مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ دراصل موجودہ دہشت گردی کسی ایک اسلامی ملک کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ پوری مسلم اُمہ کا مسئلہ بن چکی ہے۔ یہ تو ممکن ہے ہر ملک کے اپنے مسائل ہوں اور دہشت گردی کے مسئلے کی نوعیت مختلف ہو،لیکن تمام مسلم ممالک میں دہشت گردی کے مسئلے کے ضمن میں کافی مماثلت بھی پائی جاتی ہے۔دہشت گردی کا مسئلہ کئی مسلم ممالک میں شدت اختیار کر چکا ہے اور متعدد ممالک اس خدشے میں مبتلا ہیں کہ یہ مسئلہ اُن کے ہاں بھی پیدا نہ ہو جائے۔

طالبان، القاعدہ، داعش، بوکو حرام گو کہ مختلف تحریکیں ہیں، لیکن ان تحریکوں میں بہت سے پہلوؤں سے کافی مماثلث بھی پائی جاتی ہے۔ یہ تحریکیں بنیادی طور پر مذہبی تحریکیں ہیں۔ان تحریکوں کی مذہبی تشریح اِن کی اپنی ہے، جس سے روگردانی اِن کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ ان تحریکوں کے پیروکار عدم برداشت کے اصولوں پر گامزن ہیں۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے قتل و غارت بُرا نہیں سمجھتے۔ یہ لوگ بے گناہوں کا خون بہانے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں،جو ان تحریکوں میں قدر مشترک ہیں۔ ان تمام تحریکوں میں مماثلت کی وجہ سے یہ بات بھی ضروری ہے کہ ان تحریکوں کا مقابلہ تمام اسلامی ممالک مل جُل کر کریں۔ ان تحریکوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دہشت گردی کا مقابلہ مشترک طور پر کیا جائے۔ ان تحریکوں کی وجوہات بھی تلاش کی جائیں اور ان عوامل کا کھوج لگایا جائے، جن کی وجہ سے یہ تحریکیں وجود میں آئی ہیں۔ مسلمانوں پر جہاد کب فرض ہوتا ہے اور کون جہاد کا اعلان کرنے کا اہل ہے؟ ان معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو کی جائے۔ اسلامی ریاست کس طرح قائم کی جائے؟ اسلامی ریاست قائم کرنے کے لئے طریقہ کار کون سا اختیار کیا جائے اور علمائے کرام کا سیاسی معاملات میں کردار کیا ہو؟ان تمام معاملات پر بھی غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔مسلمان ممالک کے جید علمائے کرام ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں اور وہ ان تمام پہلوؤں کے بارے میں تفصیلی نقط�ۂ نظر پیش کریں تاکہ اسلامی ریاست کے تصور اور قیام کے بارے میں نوجوان نسل کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے کنفیوژن کا خاتمہ کیا جا سکے۔ قتال اور جنگ و جدل کے ذریعے اسلامی ریاست قائم کرنے کی جو کو ششیں کی جا رہی ہیں اُن کی صحیح اسلامی نقط�ۂ نظر سے کیا حیثیت ہے؟

موجودہ دور کے اِن تمام مسائل کا حل پیش کرنا مسلم اُمہ کے جید علمائے کرام کی ذمہ داری ہے۔ صدیوں سے علمائے کرام اسلامی تعلیمات سے عوام کو روشناس کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسلامی روح کو برقرار رکھنے اور اسلامی تعلیمات کو خالص اور اصلی حالت میں عوام تک پہنچانے میں علمائے کرام نے ہمیشہ ہی تاریخی کردار ادا کیا ہے، پُرتشدد اسلامی تحریکیں، مسلم اُمہ کے لئے جدید دور کا سب سے بڑا چیلنج ہیں۔ اِن تحریکوں کی موجودگی اور اِن کے پھیلاؤ کی وجہ سے مسلمان شکست و ریخت سے دوچار ہوں گے اور زوال کی مزید گہرائیوں تک پہنچنے سے انہیں کوئی بھی روک نہیں سکے گا۔ مسلمانوں کا خون پانی سے بھی ارزاں ہو چکا ہے۔

مسلم اُمہ کو اس تباہی سے بچانے کے لئے اسلامی ممالک کے علمائے کرام کو آگے آنا ہو گا۔ عوام کو اسلام کی اصل تعلیمات سے آگاہ کرنا ہو گا۔ پُرتشدد اسلامی تحریکوں کی اصلیت سے عوام کو روشناس کرانا ہو گا۔ پاکستان کے علمائے کرام جتنا وقت چندہ اور کھالیں جمع کرنے پر صرف کرتے ہیں اگر اس سے آدھا وقت بھی پُرتشدد اسلامی تحریکوں کی اصلیت بیان کرنے میں صرف کریں تو دہشت گردی کے مسئلے کی نوعیت ہی تبدیل ہو جائے۔ ان تحریکوں کو افرادی قوت دستیاب نہیں ہو گی تو یہ اپنی موت آپ مر جائیں گی۔ مسلمانوں کے اتحاد کی دعائیں مانگنے والے علمائے کرام کیا اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ سکیں گے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے، جس کا جواب تمام مسلمانوں کے مستقبل پر اثر انداز ہو گا اور ہر مسلمان اس سوال کا جواب جاننے کے لئے بے چینی سے انتظار کرے گا۔

مزید : کالم