سینیٹ الیکشن تحریک انصاف کیلئے کڑاامتحان ثابت ہوسکتا ہے

سینیٹ الیکشن تحریک انصاف کیلئے کڑاامتحان ثابت ہوسکتا ہے

  

تجزیہ :۔ شہباز اکمل جندران

سینیٹ الیکشن پاکستان تحریک انصاف کے لیے امتحان ثابت ہوسکتا ہے۔ مارچ کا الیکشن پی ٹی آئی کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ میں بیٹھنے کا موقع ہوگا۔پی ٹی آئی نے استعفے واپس نہ لیے تو ایک طرف پنجاب کی ممکنہ سینیٹ کی ایک سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑینگے ۔ تو دوسری طرف کے پی کے سے سینیٹ الیکشن سوالیہ نشان کی زد میں آجائیگا۔استعفوں کے باوجود سینیٹ کی نشستیں جیت کر پارلیمنٹ کا حصہ بننا، حکومت اور پارلیمنٹ کو قبول کرنے کے مترادف ہوگا۔سینیٹ الیکشن کا شیڈول فروری کے پہلے ہفتے میں جاری ہونے جبکہ الیکشن مارچ کے پہلے ہفتے میں منعقد ہونے کا قوی امکان ہے۔معلوم ہواہے کہ سینیٹ الیکشن کی صورت پاکستان تحریک انصاف کو پہلی بار ملک کے اپرہاﺅس میں بیٹھنے کا موقع مل رہا ہے۔پی ٹی آئی یہ موقع حاصل کرتی ہے۔ یا اسے گنوا تی ہے۔ اس کا فیصلہ اگلے چند دنوں میں متوقع ہے۔کیونکہ پاکستان تحریک انصاف نے تاحال قومی اور کے پی کے کے سوا صوبائی اسمبلیوں سے اپنے استعفے واپس نہیں لیے ۔ اگرچہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین معاملات تصفیے کی طرف چل رہے ہیں۔لیکن سردست پی ٹی آئی استعفے واپس لینے کو تیار نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے استعفے واپس نہ لینے کی صورت سینیٹ کا الیکشن تحریک انصاف کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق سینیٹ الیکشن کا شیڈول فروری کے پہلے ہفتے میں جبکہ الیکشن مارچ کے پہلے ہفتے میں منعقد ہونے کا قوی امکان ہے۔ 11مارچ 2015کو سینیٹ کے نصف 52ارکان اپنی تین سالہ مدت پوری ہونے کے بعد ریٹائرڈ ہوجائینگے۔ اور ان کی جگہ نئے ارکان کا چناﺅ ہوگا۔استعفے واپس لینے کے باوجود ارکان کی تعداد میں کمی کے باعث پی ٹی آئی قومی اسمبلی کے ممبران کے عوض سینیٹ کی کوئی نشست حاصل نہیں کرپائیگی۔ البتہ پنجاب میں مجموعی طورپر 371ارکان مل کر 7جنرل نشستوں کے لیے ووٹ کاسٹ کرسکیں گے۔پنجاب میں تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 30بتائی گئی ہے۔جبکہ 53ارکان مل کر ایک ووٹ ڈال سکیں گے۔ایسے میں پیپلز پارٹی ، ق لیگ اور آزاد ارکان کے تعاون سے پی ٹی آئی پنجاب سے سینیٹ کی ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ایک طرف خفیہ بیلٹنگ ہوگی۔ اور دوسری طرف ووٹنگ کا طریقہ کار ترجیحی ووٹنگ کا ہوگا اور ووٹر کو اپنے پسندیدہ امیدوار کو ایک ، دو ، پھر تین ،اوپر سے نیچے بتدریج مہریں لگانا ہونگی۔اور پہلے سات نمبروں پر سب سے زیادہ ووٹ ووٹ لینے والے ہی کامیاب ٹھہریں گے۔ایسے میں پی ٹی آئی نے استعفے واپس نہ لیے تو پنجاب سے سینیٹ کی ایک نشست پر امکانی کامیابی بھی ختم ہوجائیگی۔ جبکہ دوسری طرف پنجا ب اور قومی اسمبلی میں استعفوں کے باعث سینیٹ الیکشن میں حصہ نہ لینے پر پی ٹی آئی کے پی کے میں سینیٹ الیکشن میں کیسے حصہ لے پائیگی۔ کیونکہ کے پی کے سے تحریک انصاف نے استعفے نہیں دیئے ۔ اور اگر پی ٹی آئی قومی و پنجاب اسمبلی کے برعکس صرف کے پی کے کی بنیاد پر سینیٹ الیکشن لڑکے پارلیمنٹ کے اپر ھاﺅس میں پہنچتی ہے۔ توایک طرف یہ تضاد ہوگا۔تو دوسری طرف حکومت اور پارلیمنٹ کو قبول کرنے کے مترادف ہوگا۔ا ور پی ٹی آئی کے قومی و پنجاب اسمبلیوں سے استعفے بے معنی ہوجائینگے۔ ایسے میں سینیٹ کا الیکشن بلاشبہ پی ٹی آئی کے لیے امتحان ثابت ہوسکتا ہے۔ اور تحریک کے پاس اس امتحان سے بچنے کے لیے محض دو ماہ کا وقت ہے۔

مزید :

تجزیہ -