تنقید کریں گے لیکن سعودی عرب کے دشمنوں کی خواہش پوری نہیں کرسکتے، کینیڈا نے بڑا اعلان کردیا

تنقید کریں گے لیکن سعودی عرب کے دشمنوں کی خواہش پوری نہیں کرسکتے، کینیڈا نے ...
تنقید کریں گے لیکن سعودی عرب کے دشمنوں کی خواہش پوری نہیں کرسکتے، کینیڈا نے بڑا اعلان کردیا

  

اوٹاوا (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں 47افراد کو دہشت گردی کے جرم میں پھانسی کی سزا دئیے جانے کے بعد کینیڈا نے جو فیصلہ کیا ہے اس کی وجہ سے سعودی عرب کے مخالف ممالک کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ دیگر مغربی ممالک کی طرح کینیڈا کی طرف سے بھی سعودی عرب میں 47 افراد کی پھانسی کی علی الاعلان مذمت کی گئی تھی لیکن جب سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے کی بات آئی تو کینیڈا نے واضح کر دیا کہ سعودی عرب پر کوئی اعتراض نہیں اور ہتھیاروں کا سودا طے شدہ معاہدے کے مطابق سر انجام پائے گا۔

مزید جانئے: ایران نے سعودی سفارتخانے پر حملے کی تحقیقات کیلئے چار فریقی ورکنگ گروپ تشکیل دیدیا

دو جنوری کو کینیڈا کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں سعودی عرب کو اختلاف رائے اور انسانی حقوق کے احترام کا مشورہ دیا گیا تھا، لیکن دوسری جانب کینیڈا کے وزیر خارجہ کے ڈائریکٹر برائے کمیونیکیشن ایڈم بیرے کی طرف سے یہ بیان بھی جاری کر دیا گیا ہے کہ کینیڈا کی حکومت سعودی عرب کو 15 ارب ڈالر (تقریباً 15 کھرب پاکستانی روپے) کے ہتھیاروں کی فروخت کا معاہدہ منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

اگرچہ کینیڈا کے وفاقی قوانین یہ اجازت دیتے ہیں کہ اگر کسی ملک کے انسانی حقوق ریکارڈ پر اعتراضات ہوں تو اس کے ساتھ ہتھیاروں کے معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے، مگر چونکہ حکومت کینیڈا نے سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کا معاہدہ خاصی تگ و دو کے بعد حاصل کیا تھا لہٰذا اس پر نظر ثانی کی قطعاً ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدے اور دوسری طرف اس پر تنقید اور اسے انسانی حقوق کا سبق پڑھانا دوہرا معیار ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -