’اگر خاتون اس عمر میں پہلی مرتبہ ماں بنے تو یہ دماغی و جسمانی صحت کیلئے مفید ہوتا ہے‘ جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے بچے پیدا کرنے کی بہترین عمر بتادی، ہمارے تمام اندازے غلط ثابت کردئیے

’اگر خاتون اس عمر میں پہلی مرتبہ ماں بنے تو یہ دماغی و جسمانی صحت کیلئے مفید ...
’اگر خاتون اس عمر میں پہلی مرتبہ ماں بنے تو یہ دماغی و جسمانی صحت کیلئے مفید ہوتا ہے‘ جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے بچے پیدا کرنے کی بہترین عمر بتادی، ہمارے تمام اندازے غلط ثابت کردئیے

  


سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک)یہ خیال عام پایا جاتا ہے کہ ماں بننے کے لئے نوجوانی کی عمر ہی بہتر ہے اور 35سال کی عمر کو پہنچنے سے قبل خاندان مکمل ہو جائے تو یہ بہترین ہے، لیکن سائنسدانوں نے حالیہ تحقیقات کے بعد خواتین کو حیرت انگیز مشورہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ دراصل 35 سال میں پہلی بار ماں بننا مفید ترین ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنسدانوں نے نومبر میں ایک تحقیق مکمل کی ہے، جس میں معلوم ہوا ہے کہ 35 سال کی عمر میں بچے کو جنم دینے والی خواتین ادھیڑ عمری اور بڑھاپے میں زیادہ صحت مند رہتی ہیں جبکہ ان کی ذہنی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ اس تحقیق کے دوران خواتین کو دو گروپوں میں تقسیم کرکے بچے کی پیدائش کی عمر اور ماں کی صحت کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا گیا۔ ایک گروپ میں 15سے 24سال کی عمر کے دوران بچے کو جنم دینے والی خواتین شامل تھیں جبکہ دوسرے میں 35 سال کے بعد بچے کو جنم دینے والی خواتین شامل تھیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جن خواتین نے 35سال کی عمر کے بعد بچے کو جنم دیا ان میں مسائل کو حل کرنے، الفاظ سیکھنے کی مہارت، ذہنی چستی اور یادداشت زیادہ بہتر تھی، مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی ذہنی صحت زیادہ اچھی تھی۔

ویب سائٹ وائرل نووا کی رپورٹ کے مطابق تحقیق کاروں نے بتایا ہے کہ اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن حمل کے دوران ہارمون ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کا خراج متعدد فوائد کی اہم وجہ ہے۔ جب 35 سال سے زائد عمر کی خواتین حاملہ ہوتی ہیں تو یہ ہارمون ان کے لئے جسمانی و ذہنی صحت کے حوالے سے مفید ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ابتدائی عمر کی بجائے درمیانی یا بعد کی عمر میں جسم کو ان کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...