پنجاب میں مجسٹریسی نظام، پولیس اور لوکل گورنمنٹ

پنجاب میں مجسٹریسی نظام، پولیس اور لوکل گورنمنٹ
پنجاب میں مجسٹریسی نظام، پولیس اور لوکل گورنمنٹ

  


سول ایڈمنسٹریشن آرڈی ننس 2016ء کے تحت نظام میں ڈی سی او آفس کی جگہ ڈپٹی کمشنر آفس کام کرے گا۔ بلدیاتی اداروں کا کردار نچلی سطح پر عوام کے مسائل کے حل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور بلدیاتی حکومتوں کے فعال ہونے سے، عوام کو سروس ڈلیوری بہتر ہو گی اور ان کے مسائل مقامی سطح پر حل ہونے میں مدد ملے گی۔ پنجاب میں بلدیاتی حکومتیں 2 جنوری 2017ء سے فعال ہوچکی ہیں، جس کے بارے، پنجاب کابینہ نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا۔بلدیاتی حکومتوں کو با اختیار بھی بنایا جائے گا اور مالی خود اختیاری بھی دی جائے گی۔ اختیار اور ذمہ داری کے ساتھ، جوابدہی بھی ہو گی۔صوبائی مالیاتی کمیشن ایوارڈ 2016ء کے تحت بلدیاتی حکومتوں کو دیئے جانے والے وسائل میں، خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت بلدیاتی حکومتوں کو 391 ارب روپے دیئے گئے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں، رواں مالی برس میں ملنے والے فنڈز میں 44 فیصد اضافہ کیا گیا۔ ترقیاتی فنڈز کسی اور مد میں استعمال کرنے پر پابندی ہو گی اور یہ فنڈز صرف ترقیاتی مد میں ہی استعمال ہوں گے۔ جنوبی پنجاب اور پسماندہ اضلاع کی بلدیاتی حکومتوں کو پہلے سے زیادہ وسائل ملیں گے، شہری اور دیہی یونین کونسلوں میں فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے تفریق ختم کر دی گئی، اس اقدام سے دیہی یونین کونسلوں کو بھی شہری یونین کونسلوں کے برابر فنڈز ملیں گے۔صوبائی مالیاتی کمیشن ایوارڈ 2016ء کے تحت وسائل کی تقسیم کا انتہائی منصفانہ، شفاف اور جامع فارمولا مرتب کیا گیا، جو بلدیاتی حکومتیں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی، انہیں اضافی فنڈز دیئے جائیں گے، جبکہ فنڈز کے استعمال کے حوالے سے باقاعدہ آڈٹ کا میکانزم بھی تیار کر لیا گیا ہے۔

نئے نظام میں ضلع کی سطح پر امن و امان کی صورت حال اور عوام کے جان و مال کے لئے میئرز، چیئرمین ضلع کونسلز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز ذمہ دارہوں گے۔ اس حوالے سے ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل کی سطح پر کوآرڈینیشن کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی۔صوبے میں سیفٹی کمیشن اور پولیس کمپلینٹ اتھارٹیز قائم کی جائیں گی۔ جعلی اور غیر معیاری ادویات تیار اور فروخت کرنے والے انسانیت کے قاتل ہیں، انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ جعلی اور غیر معیاری ادویات کے کاروبار کے مؤثر خاتمے کے لئے صوبائی ڈرگ مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گے۔ معیاری ادویات عوام کا حق ہے، اس کے لئے مختلف شہروں میں سٹیٹ آف دی آرٹ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت سے متعلق غلط اطلاع دینے والے کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔ تلور کو پنجاب وائلڈ لائف پروٹیکشن پریزرویشن، نزرویشن اینڈ مینجمنٹ ترمیمی ایکٹ 2007ء کے شیڈول سے نکال کر شیڈول میں منتقل کیا گیا۔نئے نظام کے حوالے سے، پولیس اور ڈی ایم جی گروپ کا معاملہ اٹھایا گیا۔ پولیس ایکٹ 2002ء پر پوری طرح عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ ضلعی سطح پر سیفٹی کمیشن اور کمپلینٹ سیل بننا تھے،جو نہیں بنائے گئے۔ اب آئی جی پولیس اور وزیر قانون، افہام و تفہیم سے، اس معاملے کو سلجھائیں گے، جہاں ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر میں کوآرڈینیشن کا مسئلہ پیدا ہوا وہاں کمشنر اور آر پی او کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے گا۔سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس کی منظوری سے ڈی سی او کا عہدہ ختم ہو گیا، اب ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ہوگا۔ ای ڈی اوز اور ڈسٹرکٹ افسران کے عہدے ختم کر کے، تمام اختیارات ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز کو سونپ دیئے گئے۔ سیکشن 14 حذف کرنے سے اب ڈپٹی کمشنراور پولیس حکام اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں گے۔ پولیس حکام، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنرز کو جوابدہ نہیں ہوں گے۔

محکمہ خزانہ نے پنجاب میں ڈی سی اوز کے عہدے ختم کرنے سے متعلق نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ پنجاب کے تمام ڈی سی اوز، ای ڈی اوز سمیت 299 عہدے ختم کر دیئے گئیہیں، جبکہ ڈپٹی کمشنرز اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز سمیت 153 عہدے بحال کر دیئے گئیہیں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2002ء میں ہم آہنگی پائی جاتی تھی، تاہم موجودہ حالات میں حکومت پولیس کی فنکشنل کمانڈ پر سوالیہ نشان نہیں اٹھانا چاہتی تھی، لہٰذا سول ایڈمنسٹریشن میں اس بات کا اہتمام کیا جائے گا کہ ڈسٹرکٹ چیئرمین اور پولیس میں مخاصمت پیدا نہ ہو۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو جسٹس آف پیس (Justice of peace) کے اختیارات دیئے جانے سمیت بہت سی قیاس آرائیوں کو غلط قرار دیا۔ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی) اور پنجاب پولیس کے درمیان اختیارات کی جنگ میں پنجاب پولیس کا پلڑا بھاری رہا۔ پنجاب حکومت نے لوکل گورنمنٹ کے مجوزہ سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس 2016ء میں سیکشن 14 حذف کر دیا جس کے تحت اب پولیس حکام ڈپٹی کمشنر کو جوابدہ نہیں ہوں گے، بلکہ دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں گے۔ پولیس حکام اس تمام معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے تھے۔ پولیس سروس کے افسران کی جانب سے اپنائے گئے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے، نئے آرڈیننس میں واضح طور پر اس شق کو شامل کر لیاگیا کہ پولیس ڈپٹی کمشنر کے ماتحت نہیں ہو گی، بلکہ حسب سابق پولیس آرڈر 2012ء کے تحت ہی کام کرے گی۔صحت اور تعلیم کے حوالے سے خود مختار اتھارٹیز کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا اور چیف ایگزیکٹو افسران اتھارٹی کے سربراہ ہوں گے۔ ڈپٹی کمشنرز ریونیو سے متعلقہ امور کی حسب سابق نگرانی کرتے رہیں گے تاکہ لینڈ ریکارڈ کی کمپوٹرائزیشن کا کام بدستور اسی انداز سے جاری رہے جس طرح سے ہو رہا تھا اور مجاز ادارہ خود مختار حیثیت میں اس کی نگرانی کرے گا۔

سول بیورو کریسی اور پولیس سروس کے افسروں میں جاری، سرد جنگ کا خاتمہ بھی ہوگا، لیکن منتخب بلدیاتی نمائندوں کے حوالے سے، کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آئی۔ ان کے اختیارات کیا ہوں گے اور وہ گلی محلوں کے متعلق عوامی مسائل کے حل میں، اپنا کردار کس طرح ادا کر سکیں گے؟ فنڈز مختص کرنے اور ان کے استعمال کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ یہ بھی تا حال واضح نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس آرڈیننس کے تمام فریقین سے مشاورت جاری رہنی چاہئے اور جس طرح سول بیورو کریسی اور پولیس افسروں کی شکایات کا ازالہ کیا گیا ہے، اسی طرز پر منتخب بلدیاتی نمائندوں کے تحفظات بھی دور ہونے چاہئیں، تاکہ نہ تو کسی فریق کو اپنے جائز اختیارات کے استعمال میں کوئی رکاوٹ محسوس ہو اور نہ فرائض کی ادائیگی کے لئے فنڈز کے استعمال میں مسائل در پیش ہوں۔ اس فارمولے کے تحت کام کیا جائے تو عوامی سطح پر بھی، اسے پذیرائی ملے گی اور متعلقہ فریقین بھی اس پر کوئی شکایت کرتے دکھائی نہیں دیں گے۔ یاد رہے! نظام کوئی بھی ہو، فی نفسیہ اس میں کوئی زیادہ خرابیاں نہیں ہوتیں، اگر ہوں بھی اور سامنے آتی رہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ ان میں اصلاح کی گنجائش ہوتی ہے، اگر ساتھ ساتھ اصلاحات ہوتی رہیں تو نظام درست طور پر چلتا رہتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد، اس نظامِ حکومت کو ایک آزاد مملکت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت تھی، لیکن بد قسمتی سے ہم اسی نظام کے تحت چلتے رہے۔ فرق صرف یہ پڑا کہ گورے صاحب کی جگہ، گندمی اور دیسی صاحب آگئے اور باقی سب کچھ اس طرح رہا۔آزاد مملکت کے کسی بھی حکمران نے اس نظام کو بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ پولیس سسٹم کے لئے بھی کئی کمیشن قائم کئے گئے۔۔۔ لیکن یہ بھی اسی ڈگر پر چلتا رہا، جس پر چل رہا تھا۔ انگریز کا دیا ہوایہ قانون اور نظام ان کو تو یقیناً سوٹ (Suit) کرتا تھا، کیونکہ وہ حاکم تھے اور ہم محکوم۔ یہ نظام ہی اس طور پر مرتب کیا گیا ہے کہ محکوم کو کس طرح محکوم رکھنا ہے، جس میں یہ صحیح معنوں میں ممدو معاون ثابت ہوتا ؟جنرل(ر) پرویز مشرف نے اگر اسے بدلنے کی ضرورت محسوس کی اور اس کا کریڈٹ بھی لیا تو ضرورت اس بات کی تھی کہ ان کے جانے کے بعد، اسے بہتر بنایا جاتا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً اس نئے نظام میں وقت کے تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی سکت نہ رہی اور 2008ء کے بعد پرانے نظام کی جانب مراجعت کے لئے اقدامات کئے جانے لگے۔اب بھی جس قدر اختیارات نچلی سطح پرمنتقل کئے جا سکتے ہیں، کئے جائیں تاکہ عوام الناس زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین! یا رب العالمین!

مزید : کالم


loading...