سرجری

سرجری
 سرجری

  


باسکٹ بال کے کھلاڑی کی طرح چھریرے بدن کے مالک شجاع آباد کی تاریخ میں پہلی بار میونسپل کمیٹی کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہونے والے ڈاکٹر رفیق قریشی لگی لپٹی کے بغیر صاف صاف کہہ رہے تھے، ان کا لہجہ ان کے نپے تلے الفاظ کو مکمل سپورٹ کررہا تھا، جس کے سبب سامعین میں سے کچھ بے چینی سے پہلو بدلنے پر مجبور ہورہے تھے ۔ چیئرمین بلدیہ ڈاکٹر رفیق قریشی کہہ رہے تھے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے نئے سال سے نیا نظام نافذ کرکے ایک اچھا اقدام کیا ہے اور وسائل کی تقسیم میں دیہی اور شہری کا فرق بھی ختم کردیا ہے۔جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں کی بلدیاتی حکومتوں کو خصوصی طورپر زیادہ وسائل فراہم کرنے کے فیصلے سے توقع ہے کہ کمشنری سسٹم کی بحالی کے باوجود نئے بلدیاتی نظام کی کارکردگی اچھی رہے گی۔ بے داغ اور صاف ستھرے لباس میں ملبوس ڈاکٹر رفیق قریشی نے شجاع آباد کی سیاست کا نام لئے بغیر اس کے دامن پرلگے نااہلی کے بدنام داغوں کا ذکر کیا تو تقریب حلف برداری میں سناٹا چھاگیا ۔ چیئرمین بلدیہ کی آواز پنڈال میں لگے سپیکروں کی مددسے بلند ہوئی ۔ ’’ہم شجاع آباد کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ہم گلی محلوں کی سطح تک اپنے مسائل حل کرنے کے قابل ہیں۔ ہم بلدیہ کے وسائل کو بڑھائیں گے‘‘۔ میں سن رہا تھا، میری انگلیوں میں دبا قلم اسے تیزی سے سفید کاغذ پر منتقل کررہا تھا ۔ میرے ساتھ میڈیا کے ساتھی بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایک جمہوریت پسند دوست کو چیئرمین صاحب کی یہ بات اچھی نہ لگی، منہ بنا کر کہنے لگا’’جب سب کچھ اس نے ہی کرنا ہے تو ایم این اے اور ایم پی اے صاحبان کیا کریں گے‘‘؟ میں نے خاموش نظروں سے اپنے دوست کو دیکھا اور سرگوشی کے اندا ز میں کہا، یہ حالات آپ کی اسی حکومت کا تحفہ ہیں کہ انیسویں صدی کے برطانوی دور غلامی کا نظام واپس لانا کیوں ضروری سمجھا گیا ؟ ایک جدید اور ترقی یافتہ نظام کے بجائے نوکر شاہی کے اس صدیوں پرانے نظام کی بحالی کیا واقعی ہماری مجبوری ہے؟ جبکہ اس نظام کو پوری ترقی یافتہ دنیا ترک کر چکی ہے ۔ شیر مارکہ نمائندوں نے کیا دیا ہے اس شہر کو ’’اور اب چپ رہو ذراسننے دو ‘‘۔

میرا دوست منہ بناکر دوسری طرف دیکھنے لگا اور میں ایک بار پھر کو رفائیو لیبارٹری کے بیمار شجاع آباد کے بارے میں تشخیصی رپورٹ سننے لگا ۔ مجھے چیئرمین صاحب کی بہت سی باتوں سے اتفاق تھا۔ وہ وہی کچھ کہہ رہے تھے جو شہر کا ہر فرد ایک عرصے سے کہتا چلا آیا ہے ۔ انہوں نے شجاع آباد کو لاحق امراض کی طویل فہرست گِنوادی اور یہ بھی بتایا کہ بہت سے امراض اب آخری سٹیج پر ہیں۔ سٹریٹ لائٹس ، سیوریج ، گٹروں کے ڈھکن ، کوڑاکرکٹ ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی ، صحت عامہ کی سہولتیں، ٹرانسپورٹ سسٹم میں بہتری، ناجائز تجاوزات، گلیوں میں قبضہ اور غیر قانونی تعمیرات ایسی کسوٹی ہے جس پر شہر کی ترقی کا معیار پرکھا جاتا ہے ۔ ساتھ ہی تعلیم اور پبلک پارک اشارہ دیتے ہیں کہ یہ شہر ترقی کی قطار میں کس نمبر پر کھڑا ہے؟ چوریوں اور ڈکیتیوں کی تعداد بتادیتیہے کہ امن وامان کی صورت حال کنٹرول میں ہے یا صرف نعرے لگ رہے ہیں؟ دعوے ہوتے رہے ہیں اور سورج کو انگلی کے پیچھے چھپا یا جارہاہے؟ گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہر شہری بلا تامل کہہ سکتا ہے کہ شجاع آبادترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے ہے ۔ ہم اپنی قیادت کے ذریعے ان مسائل پر قابو پائیں گے،کیونکہ اگر صرف بلدیہ پر ہی بھروسہ کیا جائے تو سوائے افسوس کرنے کے کوئی دوسری راہ نہیں ہے، جس ادارے میں اشرف المخلوقات اعلیٰ پائے کے افسران، ناجائز تجاوزات اور ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی مرمت اورپانی کی فراہمی پر بھی رشوت اور کمیشن کھاتے ہوں ،اس نے ترقیاتی کام کیا خاک کرنے ہیں ؟خاک دھول ، گرد اور مٹی اڑانی ہو تو بلدیہ شجاع آباد کی کارکردگی شہر کی سڑکوں پر ملاحظہ فرمالیجیے ۔آپ کو میری بات کا یقین آجائے گا۔ ادارے کو رشوت سے پاک کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔

چیئرمین بلدیہ ایک بار پھر شجاع آباد کی ترقی او ر قانون کی بالادستی کی بات کررہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ ایسی سوچ کے حامل چیئرمین کا مورال کیا ہوگا، وہ کیا بڑے فیصلے کرے گا اورکیاوہ سیاسی پریشر برداشت کرے گا؟۔۔۔وہ ادارے کو غیر سیاسی کرنے کی بات کررہے تھے ۔اگر ایسا ہوا تو اس کی نفری سکڑ کر ٹریفک پولیس سے بھی کم رہ جائے گی ۔ سید اور نون گروپوں نے تو ساٹھ اور چالیس فیصد کے تناسب سے باقاعدہ بھرتیاں کروائی ہوئی ہیں ۔ بعض لوگ تو گھر بیٹھ کر اس ادارے سے تنخواہ لے رہے ہیں۔ اب ان گروپوں کی طرف سے بھرتی ہونے والوں سے غیر جانبدارانہ،ایماندارانہ فرائض انجام دینے کی توقع رکھنا چیل کے گھونسلے میں ماس تلاش کرنے سے کم نہیں۔ ہمار ے ادارے اتنے سیاست زدہ ہوچکے ہیں کہ اگر چھلنی لگائی جائے تو سب ظاہر ہوجائے ۔ اداروں میں میرٹ فلش میں بہا کر جو ہونا تھا وہ توہو ہی چکا، مگر زیادتی یہ ہے کہ اب بھی میاں صاحبان کی تھپکیوں والے افسران کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔ بہر حال چیئرمین بلدیہ کا خطاب غیر معمولی تھا اور ان کی باتوں کو ان کے گروپ کے سربراہ سید جاوید علی شاہ ایم این اے بڑی توجہ سے سماعت فرمارہے تھے۔یہ ان کی قیادت کے لئے واضح اشارہ تھا، لیکن ایسے اشارے پہلے بھی دیئے جاچکے ہیں ۔ شجاع آباد کو پہلے بھی مثالی شہر بنانے کے دعوے ہوتے رہے ہیں، جبکہ اس ادارے کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا ہے، جس کے نتائج یہ بیمار شہر آج تک بھگت رہا ہے ۔ خدا کرے کہ اس بار سرجن اپنا کام نامکمل نہ چھوڑے۔میں یہ دعا مانگتا ہوا سامنے تالیوں کی گونج میں تقریر ختم کرکے ڈائس سے ہٹنے والے بیمار شہر کے سرجن کو دیکھتا رہا ۔

مزید : کالم


loading...