نئے ہسپتالوں اور طبی سہولتوں کی فراہمی خوش آئند مگر؟

نئے ہسپتالوں اور طبی سہولتوں کی فراہمی خوش آئند مگر؟

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت صحت کے شعبے کی ترقی کے لئے پُر عزم ہے صحت کا شعبہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اس لئے حکومت غریب اور نادار مریضوں کو طبی سہولتوں کی بہتر فراہمی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے، صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم گنجان آباد علاقوں میں 50،سٹیٹ آف دی آرٹ (جدید ترین)ہسپتالوں کی تعمیر جلد شروع کی جائے گی، ملک کی پہلی نرسنگ یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ یونیورسٹی پاکستان میں صحت کے پورے شعبہ کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور یہ منصوبہ صحت کے شعبہ میں اصلاحات کے عمل میں اہم کردار ادا کرے گا یہ یونیورسٹی بحرین کے فرمانروا شیخ محمد بن یحییٰ الخلیفہ کا تحفہ ہے اور انہی کے نام سے موسوم کر کے چک شہزاد (اسلام آباد) کے قریب 237کنال رقبے پر تعمیر کی جائے گی۔

ملک میں نرسنگ کے شعبے میں یونیورسٹی کا قیام اپنی جگہ ایک اہم پیش رفت ہے اور تکمیل کے بعد یہ شعبۂ صحت میں ایک اچھا اضافہ بھی ثابت ہو سکتی ہے، ملک بھر میں 50نئے ہسپتالوں کی تعمیر کا جو منصوبہ وفاقی حکومت نے بنایا ہے وہ بھی قابلِ تعریف ہے، لاہور میں بھی کڈنی اور لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ بنائی جارہی ہے، یہ بھی ایک نیا اضافہ ہے کیونکہ اب تک جگر کی پیوند کاری پاکستان میں بڑے محدود پیمانے پر ہو رہی ہے اور انسٹی ٹیوٹ کی تکمیل کے بعد یہ آگے کی طرف ایک بڑی زقند ثابت ہوگی، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ملک میں پہلے سے موجود ہسپتالوں کی حالت بھی اگر یکمشت نہیں تو مرحلہ وار پروگرام کے تحت بہتر بنائی جائے۔

اس وقت لاہور جیسے شہر میں جو ملک کے سب سے بڑے صوبے کا دارالحکومت ہے، حالت یہ ہے کہ ہسپتالوں میں سہولتیں ناکافی ہیں گزشتہ دنوں جناح ہسپتال میں ایک مریضہ انتقال کرگئی جس کے لئے بستر دستیاب نہیں تھا اور ایمر جنسی میں اسے ٹھنڈے فرش پر لٹاکر علاج کیا جارہا تھا، اس بات سے قطع نظر کہ ہسپتال کی انتظامیہ نے کس مجبوری کے عالم میں ایسا کیا، یہ واقعہ بجائے خود اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ ہسپتالوں میں ضرورت کے مطابق طبی سہولتیں ناکافی ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جس رفتار سے شہر کی آبادی بڑھی ہے اس تناسب کیساتھ طبی سہولتوں میں اضافہ نہیں ہو سکا،لاہور میں ایشیا میں سب سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ اربنائزیشن ( شہر کی جانب آبادی کی منتقلی) ہو رہی ہے اس حساب سے کسی بھی شعبے میں سہولتیں دستیاب نہیں، حتیٰ کہ بھاری اخراجات کے ساتھ جن سڑکوں کو کشادہ کیا جاتا ہے ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث یہ سڑکیں بھی جلد ہی تنگئ داماں کی شاکی ہو جاتی ہیں یہ اس شعبے کا حال ہے جس پر تیز رفتاری کے ساتھ ساتھ نئے نئے اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن جدھر بھرپور توجہ نہیں وہاں تو حالت بہت پتلی ہے۔

شہر کے ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ ایک ایک بستر پر دو دو مریض پڑے ہوئے ہیں، ڈاکٹر حضرات بہتر جانتے ہوں گے کہ دو مختلف امراض میں مبتلا مریضوں کو ایک ہی بستر پر لٹاکر علاج کرنے سے کیا دونوں انفکیشن کا شکارنہیں ہو سکتے؟ انتظامیہ بھی مجبوراً ہی ایسا کرتی ہوگی اگر ہسپتالوں میں ضرورت کے مطابق بستر دستیاب ہوں تو پھر ایسا نہ کرنا پڑے،لیکن جس پہلو کی جانب ہم یہاں توجہ دلانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہسپتالوں میں جو سہولتیں دستیاب نہیں ان کا رونا تو بہت رویا جاتا ہے لیکن جو سہولتیں فراہم کرنے پر حکومت نے کروڑوں اربوں روپے خرچ کر رکھے ہیں، اور مسلسل اخراجات بھی ہو رہے ہیں کیا وہ سہولتیں پوری دیانتداری کے ساتھ مریضوں کو پہنچائی جارہی ہیں؟ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے جو ادویات خریدی جاتی ہیں اور جس کے لئے بھاری بجٹ مختص کیا جاتا ہے وہ مستحق مریضوں تک بلا تفریق پہنچ رہی ہیں اور ضرورت مندوں کو مل رہی ہیں؟افسوس اس سوال کا جواب بھی اثبات میں نہیں مل رہا، دوائیاں خوردبرد ہوتی ہیں یا ہسپتال کے میڈیکل سٹور سے چوری کر کے بازار میں فروخت کردی جاتی ہیں، متعدد بار ایسا ہو چکا ہے کہ بعض سٹوروں سے ایسی ادویات پکڑی گئیں جو کھلے عام فروخت ہو رہی تھیں اور ان پر سرکاری مہریں صاف پڑھی جاسکتی تھیں اب ظاہر ہے یہ ادویات سرکاری ہسپتالوں یا سرکاری سٹوروں ہی سے کسی نہ کسی طرح چوری ہوئی ہوں گی، ہسپتالوں میں یہ شکایات بھی ہیں کہ ادویات چوری کرکے ان کی جگہ تعداد پوری کرنے کے لئے جعلی ادویات رکھ دی جاتی ہیں، خاص طور پر جو ادویات بہت مہنگی ہیں ان کے جعلی ہونے کے امکانات ہیں اسی طرح طبی تشخیص کے لئے استعمال ہونے والے آلات کے بارے میں بھی اکثر یہ شکایت سننے اور دیکھنے میں آتی ہے کہ مشین ایک دفعہ خراب ہو جائے تو اس کی مرمت کی طرف توجہ نہیں دی جاتی، الٹراساؤنڈ سکیننگ وغیرہ کی مشینیں اکثر خراب ہوتی رہتی ہیں اور پھر کاٹھ کباڑ ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ ایکسرے مشینوں کے بارے میں بھی ایسی ہی شکایات ملتی ہیں۔

یہ مشینیں کیوں خراب ہوتی ہیں؟ اور ان کی مرمت بروقت کیوں نہیں ہو پاتی یہ ایک طویل داستان ہے اور اس میں ہسپتال کے متعلقہ عملے کے مالی مفادات کا بھی دخل ہوتا ہے ہسپتالوں کے باہر نجی شعبے میں اس طرح کی سروسز کے لئے جن لوگوں نے ڈائگناسٹک سنٹر بنا رکھے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ’’گاہک‘‘ ان کی جانب آئیں چنانچہ وہ مل ملا کر ایسا انتظام کرتے ہیں کہ ہسپتالوں کی مشینیں بار بار خراب ہوتی رہیں یہ شکایات زیادہ تر قصباتی ہسپتالوں کے باہر ہوتی ہیں، سندھ کے بڑے شہروں میں بھی ایسی شکایات عام ہیں اور اندرونِ سندھ کسی بھی شہر میں جاکر یہ سب کچھ ملا حظہ کیا جاسکتا ہے، یہ ایک پورا نیٹ ورک ہے جس نے اپنے پنجے دور دور تک پھیلا رکھے ہیں۔

یہ تو رہا ادویات اور مشینوں کا معاملہ، خود ڈاکٹروں کا طرزِ عمل گزشتہ چند برس سے مریضوں کے ساتھ بڑا معاندانہ ہوگیا ہے ہر دوسرے چوتھے روز کسی نہ کسی ہسپتال میں ڈاکٹروں، مریضوں یا ان کے لواحقین میں جھگڑا ہوتا رہتا ہے اور نوبت لڑائی مارکٹائی تک پہنچ جاتی ہے ہسپتالوں میں جو نیئر ڈاکٹر سینئر ڈاکٹروں سے بد تمیزی پر اُتر آتے ہیں اور جب کسی کے خلاف کوئی ایکشن لیا جاتا ہے تو ہڑتالوں پر اُتر آتے ہیں سروس سٹرکچر اور دوسرے مطالبات کے لئے کی جانے والے ہڑتالیں اس کے علاوہ ہیں پھر ان کا احتجاج ہسپتالوں کی چار دیواری تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ وہ کام چھوڑ کر کسی نہ کسی سڑک پر بیٹھ جاتے ہیں اور چند سو ڈاکٹر مل کر لاکھوں لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں اور انتظامیہ منہ دیکھتی رہ جاتی ہے، سڑکوں پر ٹریفک کا اژدہام ہو جاتا ہے لاہور شہرمیں تو یہ منظر اکثر و بیشتر دیکھنے کو ملتا ہے، گویا بعض ڈاکٹروں کا رویہ ہسپتالوں کے اندر مریضوں اور ہسپتالوں سے باہر شہریوں کے لئے عذاب بنا ہوا ہے، حیرت ہوتی ہے کہ مسیحا کہلانے والے اس سطح پر بھی اتر سکتے ہیں کہ وارڈ کے اندر کسی مریض یا اس کے لواحقین پر پل پڑیں اور جو مریض صحت کے لئے ہسپتال آیا ہوا ہے وہ مزید بیمار اور خوار ہو کر گھر جائے ۔

یہ درست ہے کہ حکومت صحت پر اربوں روپے خرچ کررہی ہے 50شہروں میں نئے جدید ہسپتال بھی بنائے جارہے ہیں، اب نرسنگ یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد بھی رکھ دیا گیا ہے لیکن جب یہ نئے ہسپتال کام شروع کریں گے تو اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ ان کا حال بھی کچھ عرصے بعد عملے کی ملی بھگت سے پہلے والے ہسپتالوں کی طرح نہیں ہوجائے گا، کیا یہاں سے ادویات چوری ہو کر بازار میں فروخت نہیں ہوں گی؟ اور کیا یہاں طبی آلات دانستہ اور جان بوجھ کر خراب نہیں کئے جائیں گے؟ اور اگر یہ خراب ہوں گے تو اس کے ذمہ داروں کے خلاف بھی کوئی کا رروائی ہوگی؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب ملنا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر ہسپتالوں کا نظام مستقل طور پر درست نہیں ہوسکتا اور نہ اس مقصد کے لئے کی جانے والی بھاگ دوڑ نتیجہ خیز ہو سکتی ہے ایک ہسپتال کے ایم ایس یا کسی ڈاکٹر کو معطل کرکے کیا پورے نظام کی اصلاح ہو سکتی ہے جو میجر آپریشن کا محتاج ہے؟ وقتی علاج سے اس مریض کو افاقہ نہیں ہوگا۔

مزید : اداریہ


loading...