رفتید ولے نہ از دلِ ما (1)

رفتید ولے نہ از دلِ ما (1)
 رفتید ولے نہ از دلِ ما (1)

  


منفرد استاد صوفی غلام مصطفے تبسم دنیا سے رخصت ہوئے تو ’آنندی ‘ جیسے شاہکار افسانے کے خالق غلام عباس نے اِس ذاتی نقصان کے ایک عجیب پہلو کی نشاندہی کی تھی ۔ کہنے لگے ’ صوفی صاحب ہم سے چند سال بڑے تھے ، اس لئے ہمیشہ حوصلہ رہا کہ جب تک وہ ہیں ، ہم بھی ہیں ، لیکن اب اُن کے چلے جانے سے یہ اعتماد جاتا رہا ہے ‘ ۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی کے سابق صدرِ شعبہ پروفیسر رفیق محمود کے جنازے سے واپسی پر ہمدمِ دیرینہ اور ایم اے کالج کے حال ہی میں ریتائر ہونے والے پرنسپل طاہر بخاری نے بھی اسی طرح کا جملہ کہا کہ ہمارے ایم اے کے استادوں میں سے آج آخری آدمی بھی چل بسا ۔ میری اور بخاری کی عمر میں اتنا ہی فرق ہے جتنا صوفی تبسم اور غلام عباس میں تھا ، اس لئے یہ بات سُن کر اُس کرکٹ میچ کا خیال ضرور آیا جس میں گرتی ہوئی وکٹوں کو دیکھ کر کپتان بار بار پکار اٹھتا ہے ’نیکسٹ مین ، پیڈ اپ پلیز‘ ۔

اِس مرحلے پر چند ہفتے پہلے اپنے ہی کالم میں بیان کی گئی ایک کہانی کو دہرانا اچھا تو نہیں لگتا ۔ پر اِس کا کیا علاج کہ میرے ذہن میں پروفیسر رفیق محمود سے وابستہ کوئی بھی یاد ، ٹیلی ویژن کی اصطلاح میں ، قہقہوں کے ’وائس اوور‘ کے بغیر مزا ہی نہیں دیتی اور جو کہانی مَیں دوبارہ بلکہ سہ بارہ سنانے لگا ہوں ، اُس میں مرحوم کے قہقہے کی گونج سب سے اونچی ہے ۔ اشارہ اُسی قصہ کی طرف ہے جب کالج کے سکالرز گارڈن کے پاس کھڑے ہمارے اِس دیومالائی پروفیسر سے ایک پی ایچ ڈی زدہ نوجوان نے کسی رسمی تمہید کے بغیر اچانک پوچھ لیا تھا کہ رفیق صاحب ، کیا آپ ڈاکٹر ہیں ؟ مَیں نے نوجوان کے گستاخانہ لہجے کی شدت کم کرنے کے لئے کہا ’ رفیق صاحب ڈاکٹر سے ذرا ہی کم ہیں‘ ۔ ’جی ہاں ، مَیں لٹریچر کا کمپاؤنڈر ہوں‘ ۔ یہ کہتے ہوئے پرو فیسر رفیق محمود خود بھی خوب کھلکھلا کر ہنسے تھے ۔

اسی نوعیت کے کئی اور وا قعات کی طرح اِس واقعہ پر ایک مخصوص حسِ مزاح کی مہر تو صاف دکھائی دیتی ہے ۔ ہاں ، اِس بات کا پورا شعور صرف اُن کے شاگردوں اور قریبی ساتھیوں ہی کو ہے کہ مضحک بصیرت کی یہ لہریں کسی مسخرے پن کی پیداوار نہیں بلکہ ایک ایسے ورلڈ ویو کا بہاؤ تھیں جو بے پایاں انسان دوستی کے جھرنوں سے پھوٹتا ہے ۔ ذاتی حوالے سے مجھے اِس کا احساس ایم اے میں داخلہ لیتے وقت ہی ہو گیا تھا کہ مَیں ہاتھ میں ایڈمشن فارم اور رزلٹ کارڈ تھامے ایسے مرحلے پر ڈپارٹمنٹ میں پہنچا جب تحریری ٹیسٹ ہو جانے کے بعد امیدواروں کے انٹرویو ہو رہے تھے ۔ تاخیر کا سبب میرا یہ بچگانہ زعم کہ بی اے کے نتیجے کی بنیاد پر داخلہ تو کسی بھی ادارے میں ہو سکتا ہے ۔ کوئی اندازہ نہیں تھا کہ یہ عمل ایک اوقات نامہ کا پابند ہوتا ہے اور مقررہ تاریخ گزر جانے پہ داخلہ نہیں ملا کرتا ۔ تو پھر ہوا کیا ؟

ہوا یہ کہ اپنی ازلی سستی پہ قابو پا کر مَیں سڑک کے اُس پار پنجاب یونیورسٹی میں فارم جمع کروا آیا ۔ واپسی پر گورنمنٹ کالج کے برآمدے میں پروفیسر شعیب بن حسن دکھائی دے گئے ، جن سے سیالکوٹ کے دنوں میں ابا کی جان پہچان تھی ۔ پہلے تو میری لاپروائی پہ حیران ہوئے ، پھر پوچھنے لگے کہ اگر یہاں داخل ہونے کا بہت شوق ہے تو تمہارے لئے کوشش کروں ؟ بطور امیدوار میرا جواب اثبات میں ہونا چاہئیے تھا ، مگر خدا جانتا ہے کہ یہ ’بہت شوق‘ والی بات مجھے پسند نہ آئی ۔ اِس لئے منہ سے نکلا ’کوئی خاص شوق نہیں‘ ۔ شعیب مرحوم نے ، جو بہت وسیع المطالعہ اور ہنس مکھ آدمی تھے ، مجھے غور سے دیکھا اور کہا ’یار ، ہم تو اپنے استادوں سے اِس طرح بات نہیں کرتے تھے ‘ ۔ یہ کہہ کر مجھے فارم سمیت صدر شعبہ کے پاس لے گئے ۔ یہیں میری کہانی نے ایک خوشگوار ٹرن لے لیا ۔

پرو فیسر رفیق محمود دو اور استادوں کے درمیان تشریف فرما تھے ۔ کسی ناخوشی کے اظہار کے بغیر رزلٹ کارڈ دیکھ کر کہنے لگے ’انگلش کے علاوہ اکنامکس میں بھی آپ کے مارکس بہت اچھے ہیں ، اکنامکس میں ایڈمشن کیوں نہیں لے لیتے ؟‘ ۔ لہجہ خوب پر جوش تھا جو بعد میں پتا چلا کہ رفیق صاحب کا انتخابی نشان ہے ۔ میں کیا بتاتا کہ مجھے میکرو اکنامکس بالکل نہیں آتی ، سو میری کامیابی محض ریاضیاتی معاشیات کے سر پہ ہے ۔ چنانچہ اتنا کہہ دیا کہ سر ‘ لٹریچر میں زیادہ دلچسپی ہے‘ ۔ انٹرویو میں واحد سوال پروفیسر عبدالرؤف انجم نے کیا ، جن کی آواز بہت بھلی اور مشفقانہ تھی اور انہوں نے خود ہی ایک ایسا اشارہ دے دیا تھا جس سے مجھے جواب دینے میں مدد ملی ۔ پروفیسر رفیق محمود نے تائید میں سر ہلایا اور ایک امتحانی پرچہ پکڑا کر کہنے لگے ’ایڈمشن ٹیسٹ ہو چکا ہے ، آپ ان میں سے کسی ایک سوال کا جواب لکھ لائیں‘ ۔

داخلہ مل جانے کے بعد گورنمنٹ کالج میں ایم اے انگریزی کی کلاس میں شامل ہو گئے ، مگر یوں سمجھ لیں کہ بطور طالب علم تو نصابی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ہماری سرگرمیوں کا دائرہ انٹرکالجئیٹ مشاعروں کے انعامات ، سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی میں پیش کئے گئے تراجم اور ان نظموں یا نثرپاروں تک محدود رہا جنہیں کالج کی مطبوعات اور بعض مستند ادبی جرائد میں جگہ ملی ۔ یہاں مَیں نیو ہاسٹل کے میگزین ’پطرس‘ کی تعریف میں کچھ نہیں کہوں گا جس کے تخلیقی معیار کو مجلسِ ادارت میں میری شمولیت نے اُتنا مشکوک نہ بنایا جتنا سنگین تنازعہ ہمارے ایڈیٹر نواز چودھری کی آزاد خیالی کے باعث اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ اگر ہم میاں ثنا اللہ کا ’حافظ جی‘ ، مشتاق صوفی کی ’اک ہاسٹلر دا مونولاگ ‘ اور عبدالرشید کی ایک نظم کے اوراق طبع شدہ شمارے سے اکھیڑ نہ لیتے تو یہ تینوں احباب اُسی وقت سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی کی سی شہرت پا چکے ہوتے ۔

یہاں جید ادبی رسالے ’راوی‘ کا تذکرہ کئے بغیر پروفیسر رفیق محمود کی کہانی آگے نہیں بڑھے گی ۔ یہ بات رفیق صاحب کے ’راوی‘ کا باضابطہ مینجرہونے کے ناطے سے نہیں بلکہ اپنے ایک ذاتی حوالے سے کہہ رہا ہوں ۔ وہ حوالہ ہے میرا نہایت قریبی دوست وحید رضا بھٹی جس نے طالب علمی ہی کے زمانے سے لکھاری ، مترجم اور دانشور کے طور پہ نام کمایا اور ’راوی‘ کا ایڈیٹر مقرر ہوا ۔ یہ اسی کی بدولت تھا کہ ایم اے کا پہلا سال ختم ہوتے ہی گورڈن کالج راولپنڈی فرار ہو جانے پر بھی اِس بندہ عاجز کی نظمیں اور غزلیں ’شاہد ملک ، سال ششم‘ کے نام سے ’راوی ‘ میں جگہ پاتی رہیں بلکہ اگلے برس یارِ عزیز ، باصر کاظمی کی زیرِ ادارت بھی اِس اعزاز کے تسلسل میں رخنہ نہ آیا ۔ یہ حقائق اپنی جگہ ، مگر اصل بات ہے رفیق صاحب والی کہانی میں میرے پنڈی فرار ہونے کے باب میں وحید رضا کی ’اعانتِ جرم‘ ۔

آپ وجہ پوچھیں تو دماغ پہ زور ڈال کر بھی ٹھیک سے بتا نہیں سکوں گا کہ مجھے ایم اے کے پہلے سال کے دوران گورنمنٹ کالج میں قیام خوشگوار کیوں نہ لگا ۔ لاہور میرا ننہالی شہر ہے اور شہر سے واقعی شہر مراد ہے ، یعنی بارہ دروازے اور ایک موری ۔ انگریزی کے مضمون کا انتخاب بھی اپنی مرضی سے کیا اور پڑھنے لکھنے کا شوق بھی تھا ۔ نئے دوستوں سے بے تکلفی کا رشتہ بھی استوار ہوا جو آج تک بر قرار ہے ۔ پھر بھی دل نے کہا چلو ، راولپنڈی چلتے ہیں ، والدین کے پاس رہیں گے ۔ ممکن ہے کالج کی اس غیر تحریری پالیسی سے حوصلہ ٹوٹا ہو کہ غیر نصابی سرگرمیوں میں دوسرے شہر والے کے مقابلے میں اولڈ راوین کو ترجیح دی جائے گی ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی استاد کی بے رخی راہ کا پتھر بن گئی ہو ، مگر ایسا کوئی واقعہ مجھے یاد نہیں ۔ بس وہی حال کہ ’نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی ، آتش ‘ ۔

اسی دوران سال پنجم سے سال ششم میں جانے کے لئے پرو موشن ٹیسٹ کی نوبت آئی جو یونیورسٹی کا امتحان نہیں تھا ، ہمارے ڈپارٹمنٹ کا اپنا معاملہ تھا ، مگر میں نے کہا نا ’عالمِ برگشتہ طالعی‘ ۔ یہ عجیب کیفیت ہوا کرتی ہے ۔ چنانچہ جب کچھ شرارتی لڑکوں نے ہڑتال کی اور امتحان کا بائیکاٹ کر دیا تو ، اب کیا کہوں ، آپ کا بھائی بھی اُن میں شامل تھا ۔ اُدھر انٹر کالجئیٹ مائیگریشن کے لئے لازمی تھا کہ پروموشن ٹیسٹ پاس کر لینے کا ثبوت فراہم کیا جاتا ۔ میں نے وحید رضا سے کہا ’بھٹی صاحب ، ہم تو مارے گئے ۔ سنا ہے ہڑتالیوں کے لئے کوئی الگ امتحان ہو گا ، لیکن خدا جانے کب؟‘ کہنے لگے ’میرے ساتھ پرو فیسر رفیق محمود کے گھر چلو اور کوئی فالتو بات نہ کرنا‘ ۔ رفیق صاحب نے صرف اتنا پو چھا ’ٹیسٹ دیا تھا؟‘ ’جی ہاں‘ ، میرے منہ سے اضطراری طور پہ نکلا ۔ رفیق صاحب نے پیڈ اٹھایا اور پاس ہونے کا سرٹیفکیٹ لکھ دیا‘ ۔ یہ تو صرف ابتدا ہے ۔ بعد کی داستان اگلی قسط میں (جاری ہے)

مزید : کالم


loading...