طیبہ یا ثناء، بچیوں کے اغوا کا المیہ، گہری تحقیق کی ضرورت!

طیبہ یا ثناء، بچیوں کے اغوا کا المیہ، گہری تحقیق کی ضرورت!
 طیبہ یا ثناء، بچیوں کے اغوا کا المیہ، گہری تحقیق کی ضرورت!

  


اسلام آباد میں حاضر سروس ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی گھریلو ملازمہ پر شدید نوعیت کے تشدد نے حیرت انگیز رخ اختیار کرلیا اور تفتیشی و تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارکردگی کا بھی سوال سامنے آگیا ہے، اس کیس نے اب ایک معاشرتی المیئے کا روپ دھار لیا اور تفتیش ٹھیک طرح سے ہو گئی تو انتہائی المناک کہانی سامنے آئے گی،یہ کوئی معمولی واقع نہیں اور نہ ہی تشدد اور ظلم کا سیدھا سادا معاملہ ہے اس کے پس پردہ بردہ فروشی اور اغوا کے معاملات ہیں، جہاں تحقیقات غربت اور جہالت کے پرت کھولے گی وہاں یہ بھی پتہ چلے گا کہ کس کس ماں کی گود سے اس کی بچی کوچھین کر آگے فروخت کیا گیا اور پھر وہ بچی اس کے بعد کتنے ہاتھوں میں بکی اور اس سے کیا کام لیا گیا طیبہ یا ثناء تو ایک اشارہ ہے ، کسی کہانی کا آغاز ہے ورنہ یہ سب تو معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے جس میں غربت اور جہالت باپ سے اس کا خون بکوا دیتی اور پھر جرم پر آمادہ کرتی ہے، طیبہ کے ساتھ ہی لاہور سے بھی ایک خبر موصول ہوئی کہ نواب ٹاؤن کے اسلم نے اپنی بیٹی صبا اور ندیم کو ساہیوال کے کسی شخص کے پاس پچاس ہزار روپے کے عوض فروخت کردیا اور پھر ان کے اغوا کا مقدمہ اس علاقے کے کراست شیخ کے خلاف درج کرادیا جن کے گھر یہ بچے کام کرتے تھے، اسلم ان کو باقاعدہ بلیک میل کرتا رہا اور وہ پیشیاں بھگتتے رہے، یہ معاملہ بچوں کی بازیابی پر ختم ہوا اور راز کھل گیا یہ تفتیش مقامی پولیس نے نہیں، اعلیٰ حکام کی ہدائت پر ایس،پی کی نگرانی میں ایک دوسری ٹیم نے کی تھی۔

ہر دو کہانیوں سے یہ خوفناک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ معاشرہ کس نہج پر ہے اور یہاں کیا ہو رہا ہے، ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کا بھی پرپیگنڈہ اور پروگرام چل رہا ہے لیکن اس کے اثرات بھی تو پڑھے لکھے( عقل مند) حضرات تک ہی ہیں اور وہ لوگ عمل کرتے ہیں جن کو اللہ نے دیا اور وہ اولاد کو پڑھاتے بھی ہیں لیکن جس طبقے کو معاشرے کا نچلے درجہ کا کہا جاتا ہے وہ تو گھر میں بچے پیدا کرنے کی مشین لگا لیتا ہے کہ نہ تو اس نے بچوں کو پڑھانا اور سکول بھیجنا ہوتا ہے اور نہ ہی ان کو کوئی ہنر سکھایا جاتا ہے بلکہ یہ لوگ غربت کا رونا روتے ہوئے کمسنی میں ہی ان بچوں کو گھریلو کام کاج کے لئے مختص کرکے کمائی شروع کردیتے ہیں۔

اب ذرا اغوا کی وارداتوں پر غور کریں تو ہسپتالوں سے نومولو اغوا کرلئے جاتے ہیں اور اس جرم میں بھی باقاعدہ گروہ ملوث ہیں جو ان بچوں سے کئی قسم کی کمائی کرتے ہیں ایک گروہ یہ بچے لاولد حضرات کے ہاتھ بیچ دیتا ہے ، دوسرا اگروہ بھکاریوں کے گروہ کے لئے یہ اغوا کراتا اور کرتا ہے یہ گینگ بچے کو معذور بنادیتا اور پھر اس ’’مشین‘‘ کو بھیک پر لگاتا ہے، یہ ’’مشین‘‘ بکتی بھی رہتی ہے اور اسے جس شہر سے اغوا کیا جائے وہاں نہیں رکھا جاتا، اسی دھندے میں ایسا گروہ بھی ملوث ہے جو بچے اغوا کرا کے جسم فروشی کا دھندا کراتا ہے ، لڑکے کو خواجہ سرا اور لڑکی کو باقاعدہ طوائف بنایا جاتا ہے اور کارکردگی کی عمر تک ان کو پرورش کیا جاتا ہے ان کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔

جہاں تک طیبہ کا تعلق ہے تو اس میں اب تک کے حالات سے تو یہی ظاہر ہوا کہ اس بچی کو بھی کہیں سے اغوا ہی کیا گیا کہ اب تک تین دعویدار سامنے آچکے ہیں اور یہ ایسے شخص کے پاس تھی جو گھروں میں کام کاج کے لئے رکھوا کر مستقل آمدنی کا ذریعہ بناتا ہے ، اس گروہ کا کام یہ ہے کہ بچوں کو چوبیس گھنٹوں کے لئے مالکان کے پاس رہنے کے لئے پیشگی رقم لے کر ماہانہ، تنخواہ بھی خود وصول کرتا ہے۔

یہ تو حسن اتفاق ہے کہ اس بچی پر تشدد ہوا تو اس کی ویڈیو وائرل ہوگئی اور میڈیا نے نوٹس لے کر اسے ’’بریکنگ نیوز‘‘ بنالیا جس کے بعد ریٹنگ نے کام دکھایا اور چیف جسٹس کو نوٹس لینا پڑا، پہلی پیشی پر عوام کو یہ یقین تھا کہ بچی اور اس کا باپ عدالت میں پیش ہوں گے تو بڑے گھر میں ملازمت کی داستان ہوگی لیکن میڈیا کی بدولت تو یہ بات کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے اور اب تک تین خاندان بچی کے دعویدار ہو کر سامنے آگئے ہیں، یہ تشدد شدہ بچی کسی کی بھی ہو دو باتیں بہت واضح ہیں ایک تو یہ کہ بچی پر تشدد ہوا دوسرے بچی اغوا کی گئی تھی اور یہ سلسلہ پورے ملک میں جاری ہے۔

اس کیس میں بھی عجیب بات ہوئی کہ جس گھر میں بچی ملازم تھی اس گھر کی مالکن نے پولیس کے روبرو یہ موقف اختیار کیا کہ طیبہ ان کے پاس اپنے بچوں کی طرح تھی وہ وقوعہ سے ایک روز قبل ہمسایوں کے گھر جانے کا کہہ کر گئی اور پھر واپس نہیں آئی بلکہ تشدد کی خبر سامنے آئی، اس مسئلہ میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تردید تاخیر سے اس وقت کیوں کی گئی جب عدالت عظمیٰ کی مداخلت ہوئی اور پھر اس سے پہلے صلح کس کھاتے اور اصول کے تحت ہوئی ؟عدلیہ نے یہ سارا ریکارڈ بھی منگوا لیا ہے۔

ہم نے ان گزارشات میں کئی پہلوؤں پر بات کی لیکن سب میں ایک ہی بات مشترک ہے کہ اغوا کا یہ دھندا بہت عروج پر ہے، یہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں سے بھی زیادہ سنگین ہے کہ کسی کے لخت جگر کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پرپہنچا دیا جائے اور پھر اس کا مستقبل تباہ کر کے کمائی کی جائے، اس حوالے سے یہ اطمینان ہے کہ اب چیف جسٹس نے نوٹس لیا ہے اور ان کے مطابق بچوں کے انسانی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا عدالت نے صلح نامہ کا بھی تمام ریکارڈ منگوالیا ہے، عدلیہ کی توجہ ہو چکی اور رہی تو پھر سب انکشافات ہوتے چلے جائیں گے اور یہ معاشرتی المیہ کئی پہلوؤں سے ابھرے گا، ہمیں یقین ہے کہ چیف جسٹس ان تمام پہلوؤں سے بھی کیس سنیں گے اور پھر بہت واضح حکم بھی دیا جائے گا کہ ایسے گھناؤنے جرائم کے مرتکب گروہوں کو ختم کیا جائے، میڈیا والوں کو بھی اس طرف پوری توجہ دینا ہوگی، اللہ کرے اسی طرح ایسے جرائم کا خاتمہ یا اس میں شدید کمی ممکن ہوسکے، انتظامیہ اور حکومت سو رہی ہے تو اسے جاگ جانا چاہیے۔

مزید : کالم


loading...