جنرل راحیل شریف اور اسلامی فوجی اتحاد

جنرل راحیل شریف اور اسلامی فوجی اتحاد
 جنرل راحیل شریف اور اسلامی فوجی اتحاد

  


پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو 39مسلم ملکوں کے فوجی اتحاد کی قیادت سونپ دی گئی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند دن قبل اس حوالے سے باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا تھا۔ایسی تعیناتیوں کے لئے حکومت اور جی ایچ کیو کی کلیئرنس کی ضرورت ہوتی ہے چنانچہ یہ تعیناتی حکومتی مشاورت اور جی ایچ کیو کی کلیئرنس کے بعدہی عمل میں لائی گئی ہے ۔ جنرل (ر) راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بنائے جانے کی خبربین الاقوامی میڈیا نے بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کی اور اسے بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے جب اسلامی فوجی اتحاد سے متعلق مزید پوچھا گیا توان کا کہنا تھا کہ اس وقت انہیں اس معاہدے کی تفصیلات کا علم نہیں ،تاہم یہ بات ضرور ہے کہ اس فیصلے میں حکومت کی رضامندی شامل ہے اور اسے اعتمادمیں لے کر ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔میڈیا میں اس خبر کے نشر ہونے پر سعودی عرب اور پاکستان سمیت اتحاد میں شامل دوسرے اسلامی ملکوں میں زبردست خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف ان دنوں سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔یہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ وہ 28 دسمبر کو سعودی عرب کی خصوصی دعوت پر سپیشل طیارے کے ذریعے شاہی مہمان کی حیثیت سے ریاض پہنچے، جہاں ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔سعودی عرب میں ان کی خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سمیت دیگراہم شخصیات اور عسکری ذمہ داران سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔جنرل (ر) راحیل شریف کی ابھی ریٹائرمنٹ کی باتیں چل رہی تھیں کہ اسی دوران سعودی عرب کی طرف سے انہیں دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے فوجی اتحاد کی سربراہی کی پیشکش کر دی گئی تھی۔

جنرل (ر) راحیل شریفنے آرمی چیف کی حیثیت سے سعودی عرب کے کئی دورے کئے، تکفیری گروہوں کی دہشت گردی کچلنے کے لئے مفید مشورے دیئے اور عملی تعاون بھی کیا، جس سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نہ صرف مزید مستحکم ہوئے، بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون بڑھا اس دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی فوجوں کی طرف سے مشترکہ مشقیں بھی کی جاتی رہی ہیں ۔جنرل (ر) راحیل شریف 9جنوری کو واپس پاکستان آئیں گے اور کہاجارہا ہے کہ وطن عزیز پاکستان واپسی پر وہ دو سے تین سابق آرمی لیفٹیننٹ جنرل، متعدد ریٹائرڈ بریگیڈیئر اور کئی دیگر سابق فوجی افسران کو اپنی کمان میں بھرتی کریں گے۔اسی طرح اگلے تین ماہ کے دوران پاکستان سے کم و بیش ایک بریگیڈ کے لگ بھگ سابق فوجی افسران جمع کر کے رواں ماہ اور فروری میں انہیں سعودی عرب بھیجنے کا کام شروع کیا جائے گا، مارچ کے آخر تک اس مرحلے کو مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اسلامی فوجی اتحاد کا کمانڈ سنٹر سعودی دارالحکومت ریاض میں ہو گا۔ اتحاد میں شامل مسلمان ملکوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں وہ مسلم ممالک ہوں گے ،جن کے پاس باقاعدہ فوجی سٹرکچر موجود ہے۔ جیسے سعودی عرب،پاکستان، ترکی، بحرین، بنگلہ دیش، مصر، اردن، نائیجریا، عمان اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ دوسری صف میں وہ ممالک شامل کئے جائیں گے جن کی باقاعدہ تربیت یافتہ فوج اور کمان ابھی مکمل نہیں ہے، جیسے اریٹیریا، گیبون، کینیا، کویت، لبنان، مالدیپ، مالی، موریطانیہ، مراکش، نائیجیریا، سینیگال، سری لیون، صومالیہ، سوڈان، ٹوگو، یمن اور تیونس وغیرہ ۔۔۔ تیسری صف میں وہ ممالک ہوں گے جن کی رکنیت زیر غوراور زیر تکمیل ہے۔ ان ملکوں میں افغانستان آذر بائیجان، انڈونیشیااور تاجکستان وغیرہ شامل ہیں۔ ان ممالک کی شمولیت یا عدم شمولیت کا فیصلہ اگلے چند ہفتے میں ہو جائے گا۔دہشت گردی کے خلاف مسلم ممالک کے جوائنٹ کمانڈ سنٹر کو پاکستان کے جی ایچ کیو کے رول ماڈل پر بنایا جائے گا۔

دہشت گردی کے خلاف اسلامی فوجی اتحاد کے قیام کا اعلان پندرہ دسمبر 2015ء کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کی جانب سے کیا گیا،اس اعلان میں پاکستان، سعودی عرب اور بعض دیگر اہم ملکوں کی مسلسل مشاورت شامل تھی۔امریکہ، یورپ اور ان کے اتحادی ملکوں کی جانب سے پچھلے کچھ عرصے میں مسلم ملکوں کے خلاف جنگ کا انداز تبدیل کرتے ہوئے تکفیری گروہوں کو پروان چڑھایا گیا، فرقہ واریت میں تشدد او ر شیعہ سنی لڑائی جھگڑے کھڑے کئے گئے ،تاکہ مسلمان باہم ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان رہیں اور آپس میں لڑ کر ہی اپنے وسائل برباد کرتے رہیں۔ ان کی اس تخریب کاری کے باعث سارا مشرق وسطیٰ لپیٹ میں آگیا، جس طرح پاکستان میں خودکش حملوں اور کفرکے فتوے لگا کر قتل و غارت گری سے دشمن قوتوں نے ملک کو بے پناہ نقصان پہنچایا تھا، اسی طرح سعودی عرب ، ترکی اور دوسرے اسلامی ملکوں میں بھی تکفیری گروہوں کی آبیاری کی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں بھی ایسی کارروائیوں کا آغاز ہو گیا۔

اس وقت مسلمان ملکوں کو جہاں بیرونی قوتوں کی جارحیت کا سامناکرنا پڑ رہا ہے، وہیں اندرونی طور پر بھی سخت خطرات درپیش ہیں۔ یہ جنگ کی ایک نئی شکل ہے جو مسلمانوں پر مسلط کی گئی ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے جب کبھی میدانوں میں اسلام دشمن قوتوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں، صلیبیوں اور یہودیوں کی جانب سے ہمیشہ مسلم معاشروں ا ور خطوں میں فتنہ تکفیر کو ہوا دی گئی اور کفر کے فتوے لگا کر قتل و غارت کے راستے ہموارکئے گئے۔ آج بھی یہی کھیل کھیلا جارہا ہے۔مسلم معاشروں میں ایسے گروہ کھڑے کر دیئے گئے ہیں جن میں شامل درندے مسجد نبویﷺ پر خودکش حملہ اور بیت اللہ شریف پرمیزائل حملوں کی مذموم سازشوں سے بھی بازنہیں آتے اور سرزمین حرمین شریفین پر حملوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

موجودہ صورت حال یہ ہے کہ دشمنان اسلام کی پروردہ شدت پسند تنظیمیں، چاہے وہ کسی بھی ملک میں ہوں، انہیں بڑے پیمانے پر اسلحہ فراہم کیا جارہا ہے، کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں، لیکن دوسری جانب انہی بیرونی قوتوں کی طرف سے دنیا بھر میں یہ ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے کہ وہ تکفیری گروہوں کے خاتمے کے لئے کردارا دا کر رہے ہیں،جبکہ یہ بہت بڑا جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ مغربی ملکوں کے اعلیٰ عہدیدار خود ایسی شدت پسند تنظیموں کے قیام کا جرم تسلیم کر چکے ہیں ،جبکہ دوسری جانب کشمیر، فلسطین، برما ، شام اور دیگر خطوں میں مظلوم مسلمانوں پر بدترین ظلم و ستم کیا جارہا ہے، لیکن انسانی حقوق کے نام نہاد دعویدار ملکوں اور اداروں نے اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے، اگر کوئی ان کے آنسو پونچھنے اور اس ظلم کے آگے بند باندھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے یہ تجویز دی گئی تھی کہ مسلمان ملکوں کو نیٹو طرز پر اسلامی ملکوں کا فوجی اتحاد بنانا چاہیے، بنیادی مقصد یہ ہو کہ مشترکہ طور پر پالیسیاں ترتیب دے کرمسلمان ملکوں سے فتنہ تکفیر اور خارجیت کی بیخ کنی کی جائے اور اسی طرح مظلوم مسلمانوں کی بھی داد رسی کی جاسکے۔ سعودی عرب کی زیر قیادت فوجی اتحاد میں شامل ملکوں کی دلی خواہش تھی کہ مسلم امہ کا دفاعی مرکز پاکستان ہو ،جس نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے ملک میں تکفیری گروہوں اور بیرونی ایجنسیوں کے پھیلائے گئے نیٹ ورک کو ختم کرنے میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، اگر اس کی فوج اس اتحاد کی سربراہی کرتی ہے تو اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو حوصلہ ملے گا اور افواج پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے اسلامی ملکوں کو بھی اپنے معاشروں سے فتنہ تکفیر اور خارجیت کے خاتمے میں کامیابی حاصل ہوگی۔

اسلامی اتحاد کے قیام کے بعد سے ہی بعض ملکوں کی جانب سے اسے متنازعہ بنانے کے لئے جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیاجاتا رہا ہے ،تاہم حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ملکوں کا یہ فوجی اتحاد کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں، بلکہ مسلمان ملکوں میں پھیلائی جانے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہے اور اس کا واضح اظہار کئی مرتبہ اتحاد کی اعلیٰ کمان کی جانب سے کیا جاچکا ہے۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کی قیادت سنبھالنے سے سرزمین حرمین شریفین کے تحفظ کی طرح مسلمان ملکوں میں سازش کے تحت پھیلائی جانے والی دہشت گردی کے خاتمے میں ان شاء اللہ بہت مددملے گی۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل(ر) راحیل شریف پاکستان واپسی پر اسلامی فوجی اتحاد میں خدمات انجام دینے کے لئے ایسے ریٹائرڈ فوجی افسران کا انتخاب کریں گے جو سوات اور وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب میں نمایاں کردار ادا کر چکے ہیں۔جنرل (ر) راحیل شریف کی تعیناتی کے حوالے سے یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت کی باہم مشاورت سے انہیں یہ عہدہ سنبھالنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے بھی ان شاء اللہ دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور اس پروپیگنڈے کو ہوا نہیں دی جاسکے گی کہ اس سلسلے میں سیاسی و عسکری قیادت کا موقف ایک نہیں ہے۔

مزید : کالم


loading...