لاوا پھٹ نہ جائے؟

لاوا پھٹ نہ جائے؟
 لاوا پھٹ نہ جائے؟

  


یہ سوال تو بعد کا ہے کہ طیبہ پر تشدد کس نے کیا۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ ایک جج کے گھر میں چائلڈ لیبر قانون کی خلاف ورزی ہو رہی تھی اور وہ خاموش تھا۔ اگر بالفرض اس جج کی عدالت میں چائلڈ لیبر کی خلاف ورزی کا کوئی کیس آ جاتا تو وہ کیسے اپنے ضمیر کے مطابق اس کا فیصلہ کرتا، وہ تو خود اس قانون شکنی کا ارتکاب کر رہا تھا۔ سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس کا از خود نوٹس لیا ہے تو ہر طرف اس کے تذکرے ہو رہے ہیں سب اس بات پر اظہار رنج و غم کر رہے ہیں کہ ایک معصوم بچی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مگر بات اگر قانون و انصاف کی ہو رہی ہے تو سپریم کورٹ کو چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو طلب کر کے یہ پوچھنا چاہئے کہ ملک میں چائلڈ لیبر قانون کی خلاف ورزی کیوں ہو رہی ہے او راس کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومتوں کی تو مجبوری ہے کہ انہوں نے اس سامنے کی برائی کو بھی دیکھ کر آنکھیں بند کئے رکھنی ہیں کیونکہ سب حکومتیں یہ جانتی ہیں کہ ملک میں غربت کی کیا شرح ہے اور بے روزگاری کتنی ہے، اگر غریبوں کو مجبور کر دیا جائے کہ وہ اپنے بچوں سے محنت مزدوری نہ کرائیں تو شاید بھوک اور افلاس کی صورتحال ناقابل بیان ہو جائے۔ جہاں ریاست کوئی بھی ذمہ داری لینے سے قاصر ہو، وہاں قانون شکنی کے واقعات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ شہریوں کو روزگار اور زندہ رہنے کے اسباب فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر ہمارے ہاں ریاست کو صرف حکومت کے اللے تللوں تک محدود کر دیا گیا ہے ، اس لئے ہر غریب آدمی اپنے بچوں کو ہی کمائی کا ذریعہ سمجھتا ہے اور جو عمر ان کے کھیلنے کی ہوتی ہے، اس عمر میں انہیں کام کرنے پر لگا دیا جاتا ہے۔

یہ تو خیر اس سارے معاملے کا ایک پہلو ہے۔ یہ معاملہ اس لئے سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے کہ ہمارے ہاں ہر با اختیار نے انسانوں کو گاجر مولی سمجھ رکھا ہے۔ وہ جیسے چاہتا ہے انہیں روند کر چلا جاتا ہے۔ چائلڈ لیبر کو دنیا بھر میں مزدوری کی بدترین شکل قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں بھی اسے قانونی طور پر ایک جرم سمجھا جاتا ہے۔ مگر منافقت کا عنصر اس قانون میں اس طرح شامل رکھا گیا ہے کہ اسے لیبر لاء کے خانے میں رکھ دیا گیا ہے، قابل دست اندازی پولیس قرار نہیں دیا گیا۔ اس لئے ہر گھر میں آپ کو بچے اور بچیاں مزدوری کرتے نظر آئیں گے۔ اگر ایک دفعہ کسی طور پر کسی بچے کو اپنے گھر میں جگہ دے دی جائے تو یہ ایک اچھی بات ہے، اس کی تعلیم اور صحت کے فرائض بھی پورے کئے جائیں۔ مگر یہاں تو صورتحال بالکل الٹ ثابت ہوتی ہے۔ ان بچوں کو جانوروں کے بچے سمجھ لیا جاتا ہے۔ ان سے غیر انسانی حد تک کام لئے جاتے ہیں اور مالکن کو غصہ آ جائے تو وہ طیبہ جیسا حشر کرتی ہے نجانے روزانہ کتنے بچے اسی طرح ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتتے ہیں، ان کی داد فریاد سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ایک ایسے بے اماں معاشرے میں کہ جہاں اچھے بھلے انسانوں کے بنیادی حقوق نہیں وہاں ایسے بچوں کے حقوق کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حقوق کا خیال کیسے ہو سکتا ہے کہ جب کسی با اثر کو قانون کا خوف ہی نہیں ایک منصف کے گھر میں تو بچے کو بالکل محفوظ ہونا چاہئے لیکن اسلام آباد کے منصف نے اپنے ہی گھر میں ایک معصوم کو تشدد کا نشانہ بنتے دیکھا اور کچھ نہیں کیا۔

جب طیبہ پر تشدد کا کیس سامنے آیا تو میڈیا نے طیبہ کی زبان سے یہ سب واقعہ لوگوں تک پہنچایا کہ اُسے کیسے مالکن نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ مگر دو دن بعد وہی طیبہ اپنے زخموں سے چور منہ کے ساتھ یہ بیان دے رہی تھی کہ وہ خود گر گئی تھی جس سے اسے چوٹیں آئیں۔ یہ کیسے ہوا؟ اس کا کھوج لگانا چاہئے۔ وہ کون سا جبر تھا جس نے معصوم طیبہ تک کو بیان بدلنے پر مجبور کر دیا پھر وہ کون سی طاقت تھی جس نے طیبہ کے ورثاء اور جج صاحب کے درمیان صلح نامہ لکھوا کر پولیس کو دیا۔ یہ کیا شرمناک حرکت ہے کہ ایک طاقتور کے خلاف کارروائی کی بجائے اس کے ساتھ صرف صلح کا راستہ ہی کھلا رکھا جاتا ہے۔ غریب آدمی سے امیر آدمی کی صلح بنتی ہی نہیں، اب جبکہ طیبہ کی وراثت کا جھگڑا بھی شروع ہو چکا ہے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جن سے صلح کی گئی وہ کون تھے؟ کیا اس سلسلے میں بھی تو کوئی جعلسازی روا نہیں رکھی گئی۔ یاد رہے کہ ملزم فریق انصاف کی مسند پر بیٹھا ہوا ایک شخص ہے اگر وہ اپنے ذاتی معاملے میں ہر قانون کو روند دیتا ہے تو اس سے کسی دوسرے کے لئے بھی انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ طیبہ کیس میں ایک نہیں کئی قانون توڑے گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کا چیف جسٹس ثاقب نثار کو نوٹس لینا پڑا۔

یہ بات بذاتِ خود کس قدر شرمناک ہے کہ ملک میں قانون کبھی اپنا راستہ خود نہیں اپناتا۔ ہر ادارہ دوسرے کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ جب قانون شکنی سامنے آئی تھی تو پولیس کو خود کارروائی کرنی چاہئے تھی مگر درمیان میں چونکہ ایک حاضر سروس جج صاحب آگئے تھے، اس لئے پولیس کے پر جلنے لگے۔ ہم آئے روز یہ سنتے ہیں کہ ایف آئی اے اور نیب اگر پانامہ کیس میں از خود کارروائی کرتے تو معاملہ سپریم کورٹ تک نہ جاتا لیکن یہ تو ایک بہت بڑا کیس ہے جس میں وزیراعظم اور ان کا خاندان کٹہرے میں کھڑا ہے یہاں تو ایک معمولی درجے کا پولیس افسر، کوئی ادنیٰ سا جج اور چھوٹا سا بیورو کریٹ بھی کسی کیس میں ملوث ہو جائے تو مدعی کو انصاف کے لئے دیواروں سے سر ٹکرانا پڑتا ہے۔ قومی ادارے بالکل بے دست و پا ہو چکے ہیں۔ ان کے اندر ایک بے بسی اور بے چارگی کی کیفیت در آئی ہے۔ میں کل ہی ایک خبر پڑھ رہا تھا کہ جنوبی پنجاب کے ایک شہر میں بجلی کمپنی نے نادہندگی پر میونسپل کمیٹی کی بجلی منقطع کی تو کارپوریشن کے عملے نے پورے شہر کا کوڑا اٹھا کر بجلی کمپنی کے دفاتر کے سامنے لا پھینکا اس پر متعلقہ محکمے کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہئے تھی لیکن اس حمام میں چونکہ سب ننگے ہیں، جس کی وجہ سے کوئی دوسرے کا سامنا نہیں کر سکتا اس لئے خبر میں بتایا گیا کہ کمپنی نے بجلی بحال کر کے اپنی جان چھڑائی۔ یہی حال پولیس کا ہے وہ کسی با اثر کے خلاف اس لئے کارروائی نہیں کرتی، جوابی کارروائی میں وہ اپنا دفاع ہی نہیں کر سکتی۔ اگر اسلام آباد پولیس حاضر سروس جج صاحب کے خلاف کارروائی کرتی تو پولیس افسران کو ڈر تھا کہ وہ آئے روز جو لوگوں کے ساتھ ظلم کرتی ہے اور انہی عدالتوں سے ان کا ریمانڈ لیتی ہے وہ کیسے ملے گا۔ سو پہلے تو پولیس نے یہ کہا کہ طیبہ کو چوٹیں تشدد سے نہیں گرنے سے آئی ہیں، پھر دباؤ ڈال کر صلح نامہ بھی لکھوا لیا۔ اگر سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن نہ لیتی تو اب تک یہ معاملہ قصہ ماضی بن چکا ہوتا، اس معاملے پر سوائے سپریم کورٹ کے کوئی دوسرا ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا، یہاں تو کسی ایک وکیل کے خلاف کوئی بات کرے تو کوئی دوسرا وکیل اس کا مقدمہ لڑنے کو تیار نہیں ہوتا۔ کسی جج کے خلاف کارروائی کر کے کوئی کسی دوسرے جج سے ریلیف کیسے لے سکتا ہے؟ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بروقت ایکشن لیتے ہوئے اس کیس کو اپنے ہاتھ میں لیا اور معاشرے کو کم از کم یہ پیغام ضرور مل گیا کہ ملک میں مکمل اندھیر نگری چوپٹ راج کی صورتحال موجود نہیں۔

طیبہ تشدد کیس بھی شاید وقت کے ساتھ ساتھ ماضی کی مٹی میں دفن ہو جائے۔ مگر اس نے معاشرے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ ہم آج بھی پتھر کے زمانے کی سوچ رکھتے ہیں اور مہذب و جدید معاشرے کی صفات ہم میں پیدا نہیں ہو سکیں۔ یہ صفات ہوتیں تو ہمارے ہاں ظلم اس طرح نہ دندناتا پھرتا اور قانون کی بے بسی ایسی شرمناک نہ ہوتی جیسی دکھائی دے رہی ہے۔ ممکن ہے اس کیس کو سپریم کورٹ منطقی انجام تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائے۔ لیکن یہ تو صرف ایک کیس ہے۔ ظاہر ہے اس کی مثال سے معاشرے میں ظلم کم ہونے والا نہیں، اصل ظلم تو اس وقت ختم ہو گا جب معاشرے میں قانون کی مکمل عملداری ہو گی، جب قانون طاقتوروں کے سامنے بھیگی بلی نہیں بنے گا اور کمزوروں پر ظلم نہیں ڈھائے گا یہ دن کب آئے گا؟ اس کا تو علم نہیں البتہ اس کا علم ضرور ہے کہ اس ظلم کے خلاف لوگوں میں ایک لاوا ضرور پک رہا ہے، جو طیبہ کیس جیسے واقعات سے پھٹ بھی سکتا ہے۔

مزید : کالم


loading...