2050تک خوراک کی فراہمی کیلئے طویل منصوبہ بندی کرنا ہوگی ، ماہرین

2050تک خوراک کی فراہمی کیلئے طویل منصوبہ بندی کرنا ہوگی ، ماہرین

 لاہور(کامرس رپورٹر)ماہرین خوراک وزراعت نے پائیدار پیداواریت و استعمال اور زندگی کیلئے مواقع کے حوالے سے بتایا کہ گذشتہ ساٹھ سالوں میں دنیا کی آبادی دوگنا ہو چکی ہے جبکہ 2050ء تک 9.3ارب انسانوں کیلئے خوراک کی فراہمی اور اس کے نتیجے میں زرعی پیداواریت پر پڑنے والے بوجھ کے بارے میں سائنسدانوں کو طویل المیعاد منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ ماہرین نے بتایا کہ آنے والے سالوں میں زرعی پیداوار کو بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے جہاں نئے بیج متعارف کرانا ہوں گے وہاں زمینی وسائل کی بڑھوتری کیلئے کھادوں کے استعمال اور زرعی ادویات کے چھڑکاؤ پر بھی توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں ماحولیاتی حوالے سے تبدیلیاں رونما ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں کیلئے بڑھتی ہوئی آبادی نے جو سوالات کھڑے کر دیئے ہیں ان میں غذائی استحکام کے ساتھ ساتھ پانی اور توانائی جیسے مسائل سرفہرست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زمین پر جنگلات کی موجودہ شرح کو برقرار رکھتے ہوئے دستیاب زرعی رقبے سے زیادہ سے زیادہ پیداوار کا حصول ماہرین کیلئے ایک چیلنج بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مشینی کاشت کے ساتھ ساتھ جی ایم فصلات پر توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی و دیگر شعبہ جات میں تحقیقی پیش رفت کو مؤثر بنانے کیلئے سوشل سائنسدانوں کا اشتراک اس تحقیق کے نتائج کو مزیدمؤثر بناسکتا ہے ۔

مزید : کامرس


loading...