بلوچستان اور فاٹا میں بہتر حکومت اور پالیسیوں کے لئے ایم او یو سائن

بلوچستان اور فاٹا میں بہتر حکومت اور پالیسیوں کے لئے ایم او یو سائن

اسلام آباد( پ ر ) چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستا ن (ACCA) اورآڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP)کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دئیے گئے ۔ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ادارے بلوچستان کیلئے گورننس اینڈ پالیسی پراجیکٹ (GPP Blochistan)،گورننس اینڈ پالیسی پراجیکٹ فاٹا ( وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات)اور گورننس اینڈ پالیسی پراجیکٹ برائے خیبر پختونخوا(GPP KP)کیلئے مل کر کام کریں گے۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد دونوں ادارے اے سی سی اے اور اے جی پی مل تمام مندرجہ بالا اداروں کے درمیان فنانشل مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور صوبائی حکومتی اداروں کی مالی کارکردگی کو فعال بنانے کیلئے مشترکہ تعاون فراہم کریں گے ۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور فاٹا کی حکومتوں کے نمائندگان بھی موجود تھے اس کے علاوہ جن اعلیٰ حکومتی شخصیات نے تقریب میں شرکت کی ان میں پاکستان کے ایڈیشنل آڈیٹر جنرل مسٹر عمران اقبال ، کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس محترمہ شگفتہ خانم ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلوچستان مسٹر داؤد بریچ( Barech )، سیکرٹری خزانہ بلوچستان مسٹر اکبر درانی ، سیکرٹری خزانہ خیبر پختونخوا مسٹر علی رضا بھٹہ، سیکرٹری پلاننگ خیبر پختونخوا مسٹر سید ظفر علی شاہ اور سیکرٹری خزانہ فاٹا مسٹر حضرت مسعود میاں کے نام شامل ہیں ۔ عالمی بینک نے ملٹی ڈونرز ٹرسٹ فنڈ پاکستان کے مالی تعاون سے بلوچستان ، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں پبلک فنانشل مینجمنٹ اور پالیسیوں میں اصلاحات اور نظام کو بہتر بنانے کیلئے منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔ان منصوبہ جات کے آغاز سے پبلک سیکٹر میں اعلیٰ معیار کی مالیاتی معلومات مالیاتی اور مانیٹری پالیسی کو فعال کیا جائیگا جبکہ اس سے ٹیکس دہندگان، سرمایہ کاروں ،بجٹ پلاننگ ،مالی منصوبہ بندی ، نگرانی کے مسائل کم کرنے اور مانیٹرنگ میں مدد ملے گی ۔ دوسری جانب آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP) کا ادارہ ملک مین عوامی سرمائے کی حفاظت اور احتساب کے عمل کو مضبوط بنانا چاہتا ہے اس ادارے کی یہ کوشش ہے کہ عوام کا پیسہ عوام کی فلاح و بہبود اور درست سمت میں خرچ ہو اور اس میں کسی بھی قسم کی غلطی یا کوتاہی کے امکانات کم سے کم ہوں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ACCA پاکستان کے سربراہ فیصل عظیم نے کہا کہ ’’مشکلات کے انبار کے باوجود ہماری مشترکہ کوشش ہو گی کہ ایسی اصلاحات متعارف کرائی جا سکیں جن سے عوام بلا تفریق استفادہ کر سکیں اور ترقی کے اصل ثمرات ان تک پہنچ سکیں ۔

مزید : کامرس


loading...