دنیا کشمیریوں کی حالت زار اور تباہی پر چپ سادھے ہوئے ہے‘ محمد یاسین ملک

دنیا کشمیریوں کی حالت زار اور تباہی پر چپ سادھے ہوئے ہے‘ محمد یاسین ملک

اسلام آباد، سری نگر(کے پی آئی) جموں و کشمیرلبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے پاکستان کی ینگ پارلیمنٹرین فورم کے تحت مسلہ کشمیر پر عالمی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مظلوم و مقہور کشمیری قوم کا ایک فرد اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا ایک ممبر ہونے کی حیثیت سے میں بھارت اور پاکستان کے دررمیان بہتر اور خوش گوار تعلقات کے لئے دعا گو ہوں کیونکہ ان دونوں ممالک کے درمیانخوش گوارتعلقات تنازعہ کشمیر جس کا حل جنوبی ایشیامیں پائدار امن کے لئے ضروری ہے کے لئے انتہا ئی لازمی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی پارلیمان کے نوجوان اور متحرک ممبران جو پاکستان کے لئے مستقبل کی تعمیر و ترقی کے اصل معمار ہیں جنوبی ایشیاکے امن واستحکام اور اس حوالے سے خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے پائید ار کاوشوں کے ضمن میں میرے جذبات کا اشتراک کریں گے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان سر حدی مخاصمت کا ملبہ خونی سرخ لیکر LOC کے آرپار رہنے والے دونوں اطراف کے کشمیریوں کو برادشت کرنا پڑتاہے اسلئے قدرتی طور پر دونوں اطراف رہنے والے کشمیری امن کے سب سے بڑے داعی اور خواہش مند ہیں۔

یاسین ملک نے کہاکہ درست طور پراس عالمی سمینارر کا مرکزی خیال کشمیر تنازعے کا انسانی پہلو رکھا گیاہے جب کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری عوامی انقلاب کو بھارت بد ترین فوجی و نیم فوجی طاقت کے بل پر دبانے میں مصروف ہے۔ پانچ ماہ سے جاری اس عوامی انقلاب کو بد ترین اور بے لگام طاقت کا استعمال کرکے دبایا جا رہا ہے۔ بھارت کی مرکزی فورس نے خود اس بات کوتسلیم کیا ہے کہ اس نے کشمیریوں کے موجودہ عوامی انقلاب کے پہلے ماہ میں قریب 13لاکھ پیلٹ گولیاں فائر کی ہیں جن سے کشمیریوں کو قتل و غارت کی وبااور تباہ شدہ آنکھیں ہی ملی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم اقوام متحدہ سے انسانی تحفظ اور سیکورٹی کے بارے میں بہت کچھ سنتے ہیں ۔ کشمیریوں نے خاص طور پر پچھلے دس برس کے دواران اس عالمی فہمائش کے مطابق اپنی آزادی و خود مختاری کی مانگ کو پرامن آواز کے ذریعے جاری رکھا ہوا ہے لیکن بھارتی حکومت نے اس پرامن رویے کا جواب بڑھتے ہوئے فوجی طاقت کے استعمال سے دیا ہے اور ہماری پرامن عوامی جدوجہد کو فوجی طاقت سے دبایا ہے نیز جموں کشمیر میں ہر قسم کی سیاسی مکانیت اور پرامن مزاحمت کے راستوں کو مسدود کر دیا ہے۔ 2008اور 2010کی عوامی مزاحمت کو بھی اسی طرح سے سخت بدترین فوجی طاقت کے بل پر دبا دیا گیا جبکہ 2016کی عوامی مزاحمت نے بھی یہی سب کچھ دیکھا ہے۔حیران کن طور پر دنیا بالعموم کشمیریوں کی حالت زار اور تباہی پر چپ سادھے ہوئے ہے۔ بڑی عالمی جمہوریتوں کے ڈپلومیٹ صاحبان نے تو اب کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر زبانی جمع خرچ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ جب اِن میں سے کوئی بھارتی زیر انتظام کشمیر کا دورہ کرتا ہے تو وہ آکر ہمیں بھارتی شراکتی جمہوریت کے اوصاف اور بھارتی جمہوریت کی ترقی کے گن گیت سناتے ہیں ۔ یہ گویا مظلوموں او رمقہوروں کو ہی موردالزم ٹھہرانے کا عمل ہے۔ جمہوریت چاہے آپ اس کو اس کے عمومی معنی میں لیں یا کہ مادی معنی میں نے 1947عیسوی سے بھارتی مڈل کلاس سے وابستہ ہندوں اور اعلی طبقات کے لئے کچھ کیا ہو گا لیکن جموں کشمیر کے عوام نے اس کا بد ترین چہرہ ہی دیکھا ہے اور ہم نے اس کاکڑواپھل ہی کا ٹا ہے ۔ میری اس بات کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی جمہوریت کی غلط گورننس (Mis-Governance)یا جمہوری اداروں کی تباہ حالی کا کوئی نتیجہ ہے ۔نہیں بلکہ یہ ایک قوم و ملت کو اسکی خواہشات و مرضی کے بر عکس نا جا یز تسلط میں لانے اور رکھنے کے خلاف جاری عوامی جدوجہد ہے ۔

مزید : عالمی منظر


loading...