وزیر ریلوےنے ٹرین حادثے کی تحقیقات کیلئے 48گھنٹے کا وقت دیدیا

وزیر ریلوےنے ٹرین حادثے کی تحقیقات کیلئے 48گھنٹے کا وقت دیدیا

 بہاولپور(آن لائن)وفاقی وزیررریلوے خواجہ سعد رفیق نے ٹرین حادثے کی تحقیقات کیلئے 48گھنٹے کا وقت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں گیٹ کیپر اور دونوں ڈرائیور کیساتھ اسسٹنٹ ڈرائیورکوبھی حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ وفاقی وزیر نیحادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے فی کس 15,15 لاکھ روپے دینے کا بھی اعلان کیاہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ریلو ے خواجہ سعد رفیق بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال آئے جہاں پر حادثے میں زخمی ہونیوالوں کی انہوں نے عیادت کی ، وکٹوریہ ہسپتال میں 4بچے زیر علاج ہیں جن میں سے 2کی حالت تشویشناک ہے اس موقع پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ساڑھے تین سال میں ریلوے نے بہت کام کیا ہے۔ ریلوے کے ہر حادثے کی تحقیقات کی ہیں اور منظرعام پر لائے ہیں،ایکسپریس ٹرین چلانے کیلئے ایک دہائی کا تجربہ چاہیے ہوتا ہے۔وزیرریلوے نے لودھراں ٹرین حادثے میں زخمی مریضوں کی عیادت کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت میں تحقیقات کی کوشش کررہے ہیں،ریلوے کا کام ہم نے بہت ایمانداری سے کیا ہے۔اس محکمے پر 60 سال سے کسی نے توجہ نہیں دی،بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئی ، اپنے وسائل سے نظام میں بہتری کی ہے۔دھندکی وجہ سے بور ڈ نظرنہ آنے کے پہلوپر بھی تحقیقات کررہے ہیں۔خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ غلطی کرنے والے کو معاف نہیں کیا جائیگا ،دن رات کام کرتے ہیں ،اس طرح کے واقعات سے ہمارے کام پرپانی پھرجاتا ہے۔انہوں نے لواحقین کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ہرحالت میں انصاف ہوگا اور سچ سامنے آئیگا۔وزیرریلوے نے کہا کہ بہت سے سوالات کے جوابات تلاش کررہاہوں،سگنل ڈاؤن نہیں تھا تو ٹرین کیوں گزری؟جب ٹرین گزری وسل دی گئی یا نہیں؟440 میٹر دور سگنل تھا، سگنل ڈاون تھا تو ٹرین کیوں نہیں رکی۔سعدرفیق نے مزید کہا کہ پولیس اور ریلوے پولیس مل کر تفتیش کررہی ہے،واقعے کی ابتدائی رپورٹ جلد مل جائے گی۔وفاقی وزیر ریلوے نے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ تحقیقات جلد مکمل ہونگی۔ وفاقی وزیر نیحادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے فی کس 15,15 لاکھ روپے دینے کا بھی اعلان کیاہے۔

وزیر ریلوے

مزید : صفحہ اول


loading...