نوازشریف سے راحیل شریف تک۔۔۔!

نوازشریف سے راحیل شریف تک۔۔۔!
نوازشریف سے راحیل شریف تک۔۔۔!

  


سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کی شخصیت کے اثرات پاکستانی سیاست ، آرمی کے ادارے ، پاکستانی معاشرے اور قوم پر ایک عرصہ تک محسوس کئے جاتے رہیں گے۔ ان کے چلنے پھرنے کے سٹائل سے لیکر بولنے تک اور پھر ذاتی زندگی میں انتہائی محتاط رویے اور خاندانی پس منظر کی وجہ سے انکے قد کاٹھ میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ وہ جب پارلیمنٹ میں سیاستدانوں کے درمیان گئے تو حکومتی وزراء اور ممبران اسمبلی وزیر اعظم کی بجائے ان کے ساتھ تصویریں بنانے کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کی بطور آرمی چیف گرومنگ میں یقیناًان کے ادارے کا بھی کردار تھا مگر ذاتی شخصیت ، خاندانی پس منظر اور خون کے بھی اثرات ہر انسان کی شخصیت پر نمایاں ہوتے ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے قد کاٹھ میں اضافہ کا باعث بننے والے چند اقدامات تھے یا ان اقدامات پر ان کی گرومنگ کو پلان کیا گیا تھا اس میں سر فہرست ضرب عضب آپریشن تھا جس کے بارے میں پوری طرح یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ضرب عضب پاکستان آرمی کا فیصلہ تھا اس کے بارے میں عسکری قیادت نے ضرب عضب کا آغاز کرنے کے بعد حکومت پاکستان کو آگاہ کیا تھا جبکہ حکومت اس حوالے سے آج تک تردید کرتی آرہی ہے اور حکومت اس کا کریڈٹ بھی لینے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہی ہے لیکن میڈیا کا ایک سیکشن آج تک ضرب عضب اور دہشتگردی کے خاتمے کا کریڈٹ پاک آرمی کو دیتا ہے۔ عوام کی اکثریت بھی اسی تاثر کی حامی محسوس ہوتی ہے لہٰذا ضرب عضب کے ایشو پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں راحیل شریف کو بے پناہ مقبولیت ملی۔

اسی طرح جنرل راحیل شریف کے دور میں (ن) لیگ کی حکومت تقریباً بحران کا شکار رہی بلکہ 2014 ء کے دھرنے میں تو ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب ہر شخص کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ اب حکومت کسی صورت قائم نہیں رہ سکتی تو فوج کا ان تمام سیاسی بحرانوں میں مجموعی طور پر بظاہر تاثر یہی رہا کہ ٹیک اوور کے بہترین مواقع موجود تھے مگر راحیل شریف نے جمہوریت اور سسٹم کو سپورٹ کیا، ٹیک اوور نہیں کیا اور وقتاً فوقتاً آرمی کی طرف سے بھی سسٹم اور جمہوریت کی حمایت میں بیانات آتے رہے۔ طرح طرح کے حکومتی بحرانوں اور عسکری سول قیادت کے شدید اختلافات کی بڑی بڑی خبروں کے باوجود راحیل شریف نے سیاسی قیادت کے ساتھ الجھنے سے گریز کیا۔

یہ کریڈٹ بھی جنرل راحیل شریف کے کھاتے میں ڈالنے کیلئے بھرپور پلاننگ کی گئی کہ مواقع موجود تھے ، غلطیاں ہو رہی تھیں مگر سپہ سالار نے جمہوریت کو سپورٹ کیا ، اس طرح جنرل راحیل شریف کے دور میں آئی ایس پی آر نے بھی آرمی اور اپنے سپہ سالار کو اٹھانے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر پاکستان میں سیلاب ہر سال آتا ہے اور آرمی عوام کی خدمت کرنے اور سیلاب سے عوام کو جانی و مالی نقصان سے محفوظ بنانے کیلئے ہر مرتبہ کردار ادا کرتی ہے مگر چند سالوں سے آرمی کے ہر ایکشن کو بھرپور انداز میں میڈیا میں کور کروایا گیا، اس میں برائی کی بات بھی نہیں ہے کیونکہ جنرل راحیل شریف کو جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بعد آرمی کا ادارہ بہت بری حالت میں ملا تھا جنرل راحیل شریف نے آتے ہی آرمی کے ادارے کو نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑا کیا بلکہ اس کی عزت و تکریم میں جو فرق آیا تھا اس کو پوری عزت و احترام کے ساتھ ایک بار پھر بحال کیا۔ ظاہر ہے یہ کام جنرل راحیل شریف اکیلے نہیں بلکہ انکی پوری ٹیم کر رہی تھی اور اس کے پیچھے ایک پوری پلاننگ تھی اسی طرح جنرل راحیل شریف کی شخصیت کو سوسائٹی میں مزید اجاگر کرنے کیلئے ان کے بارے میں اس طرح کے حقائق بھی سامنے آئے یا لائے گئے کہ جنرل راحیل شریف کا کوئی رشتہ دار کسی سرکاری دفتر نہ جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کا کام کروا سکتا ہے اور اس حوالے سے جنرل راحیل شریف نے اپنے پورے خاندان کو اعتماد میں لے رکھا ہے اسی طرح جنرل راحیل شریف کی پوری سروس میں کسی قسم کا مالی سکینڈل بھی سامنے نہ آیا بلکہ جنرل راحیل شریف نے آرمی کے اندر سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کیلئے کئی سینئر جرنیلوں کو نہ صرف نوکری سے برطرف کیا بلکہ ان سے لوٹی گئی دولت کو ریکور بھی کرنے کے احکامات جاری کئے۔

جنرل راحیل شریف کے بارے میں یہ خبر بھی سامنے آئی کہ ان کو آرمی کی طرف سے جو قیمتی پلاٹ ملا تھا وہ انہوں نے آرمی کے شہداء کیلئے وقف کر دیایہ وہ اقدامات تھے جس کی وجہ سے جنرل راحیل شریف کی شخصیت اور قد کاٹھ میں بے پناہ اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بعض اوقات جنرل راحیل شریف کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت سے حکومت وقت کے اکابرین شاکی نظر آئے مگر دونوں جانب سے بگڑتے معاملات کو سلجھانے کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری رہا۔ وہ راحیل شریف جو 20 کروڑ عوام کی آنکھوں کا تارا بنا رہا تو اس کو مسیحا سمجھ کر ’’جانے کی باتیں جانے دو اور مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے ‘‘ کے نعرے بھی لگائے جاتے رہے، جگہ جگہ اسی نوعیت کے نعروں پر مشتمل پوسٹر اور بینرز بھی دیکھے گئے۔ کئی بار حکومت کے بعض ذمہ داران اور میڈیا پرسنز کی جانب سے اس طرح کی بھی اطلاعات آتی رہی کہ جنرل راحیل شریف (ن) لیگ کی حکومت کو گھر بھیج کر خود حکومت پر قبضہ کر لیں گے پھر فیلڈ مارشل بنائے جانے کی آئینی آپشن کا بھی ڈھنڈورا پیٹا گیا مدت ملازمت میں توسیع کا بھی پرچار ہوتا رہا۔ سابق آرمی چیف اور آرمی کے ادارے کی جانب سے بس اتنا کہا گیا کہ مدت ملازمت میں توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ان تمام خبروں اور افواہوں میں ایک افواہ نما خبر یہ بھی تھی کہ سعودی عرب نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی وساطت سے یا پھر میاں نواز شریف کی درخواست پر جنرل راحیل شریف کو اسلامی ممالک کی افواج کا سپہ سالار بنانے کی پرکشش پیشکش کی ہے اس حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ جنرل راحیل شریف کو 20 کروڑ کے لگ بھگ پیکیج کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کا اعلیٰ ترین ایوارڈ اور نیشنلٹی کی بھی آفر کی گئی ہے اس حوالے سے یہ بھی کہا جاتا رہا کہ سعودی حکومت نے باقاعدہ تحریری ڈرافٹ بھیجا تھا جس کو کور کمانڈر میٹنگ میں بھی پیش کیا گیا مگر اس حوالے سے کسی بھی طرح کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اب جبکہ یہ افواہ حقیقت کا روپ دھار چکی ہے اور جنرل راحیل شریف 39 اسلامی ممالک کی افواج کے سربراہ بن چکے ہیں اور پاکستان میں عوامی سطح پر ، میڈیا میں اور اقتدار کے ایوانوں میں اس کے بارے طرح طرح کے تبصرے اور تجزیئے کئے جا رہے ہیں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جنرل راحیل شریف کو یہ پیشکش قبول نہیں کرنی چاہئے تھی جبکہ کچھ لوگ اس پر بے حد خوش نظر آ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جنرل راحیل شریف کو حجاز مقدس کی حفاظت کا فریقہ سونپا ہے یہ ان کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ واضح رہے کہ جب میاں نواز شریف سعودی عرب جلا وطن ہو کر گئے تھے تب بھی یہاں اسی طرح کے تبصرے ہوتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں شریف کو اپنے گھر بلا لیا ہے۔ میاں نواز شریف کسی اور شکل میں گئے تھے جنرل راحیل شریف کسی اور طریقے سے سعودی عرب گئے ہیں۔ اب آنے والا وقت ثابت کرے گا کہ جنرل راحیل شریف اپنی ذاتی ، اپنے ادارے کی مرضی سے اس نئی ذمہ داری کو سنبھالنے گئے ہیں یا پھر میاں نواز شریف اور سعودی عرب کی خواہش پر 39 ممالک کی فوجوں کے سپہ سالار بنے ہیں۔ اس فیصلے کے آرمی کے ادارے پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہونگے اور سب سے اہم سوال کہ مقبول ترین جرنیل اپنے نئے فیصلے کے بعد اپنی مقبولیت قائم رکھ سکے گا اور خاص کر ان حالات میں جبکہ سعودی عرب میں آئی ایس پی آر کا محکمہ بھی نہیں ہوگا۔

مزید : کالم


loading...