مقبوضہ کشمیر: مظفر احمد نائیکو سپردخاک، نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

مقبوضہ کشمیر: مظفر احمد نائیکو سپردخاک، نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف عوامی احتجاج کے سلسلے میں 182ویں دن بھی مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ مجاہد کمانڈرمظفر احمد نائیکو عرف مظفر مولوی کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ لوگوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی ۔مجاہد کمانڈرمظفر احمد نائیکو عرف مظفر مولوی کو گزشتہ روز بھارتی فوج نے سرینگر کے مضافات میں گلزار پورہ ماچھو میں دوران حراست گولی مار کر شہید کر دیا تھا عسکریت پسند کی نعش جو نہی اس کے آبائی علاقے سوپور پہنچائی گئی تو وہاں پر بھاری برف باری کے باوجود لوگ گھروں سے باہر آئے اور مظفر احمد نائیکو کو جلوس کی صورت میں اپنے آبائی گھر بٹہ پورہ پہنچایا گیا۔ اس دوران برستی برفباری کے بیچ سینکڑوں لوگوں نے اس کے نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ مظفر احمد کی تدفین کے بعد لوگوں نے ایک جلوس نکالا اور اسلام اور آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی ۔سوپور میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور جلوس میں شامل نو جوانوں نے پولیس اور فورسز پر سنگ باری بھی کی جس کے جواب میں پولیس اور فورسز نے ان کو منتشر کر نے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے ۔قصبے کے کئی علاقوں میں مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیں ہوتی رہیں جس کے دوران شلنگ اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ ادھر آزادی پسند جماعتوں کی کال پر سال نو کی پہلی ہڑتال سے زندگی کا پہیہ جام ہونے میں شدید برفباری نے اہم رول ادا کیا۔سڑکوں پر اگرچہ نجی گاڑیوں کی آمدرفت جاری رہی تاہم برفباری کے بعد پھسلن کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک جام ہوا۔ سرینگر کے سویہ ٹینگ اور سوپورمیں برستی برفباری کے بیچ احتجاجی مظاہرہ ہوا جبکہ سوپور میں جلوس برآمد کئے گئے۔ نئے سال کا ہڑتال مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے جاری15روزہ مزاحمتی کلینڈر کے مطابق جمعہ کو ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ صبح سویرے ہی وادی کے طول و عرض میں شدید برفباری کا آغاز ہوا جس سے جنوب و شمال میں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ سڑکوں پر بہت کم ٹریفک دکھائی دیا اور دوکانداروں نے دوکانیں بند رکھنے میں ہی عافیت سمجھی۔برفباری کی وجہ سے سڑکوں پر پھسلن سے جام کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے دی گئی ہڑتال کے182ویں دن شہر خاص کے علاوہ سیول لائنز میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی۔جنوبی کشمیر کیپلوامہ ، اننت ناگ ، اور کولگام کے کیموہ ،کولگام ،کھڈونی اور دیگر علاقوں میں دکانیں بند تھیں اور ٹرانسپوٹ سروس معطل رہی۔

لوگوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی ۔ادھرسنگرامہ، امر گڑھ،پتوہ کھاہ، چھورو وغیرہ میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔

مزید : عالمی منظر


loading...