قصور ، خفیہ نکاح پڑھنے والی لڑکی کے قتل میں نامزد ملزم خاوند کی مدعی مقدمہ بننے کی کوششیں

قصور ، خفیہ نکاح پڑھنے والی لڑکی کے قتل میں نامزد ملزم خاوند کی مدعی مقدمہ ...

قصور(بیورورپورٹ)پولیس تھانہ کنگن پور نے خفیہ شادی کرنے والی لڑکی کو دن دیہاڑے قتل کرنے والے اس کے حقیقی ماموں کے خلاف مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے اسے حراست میں لے لیاہے۔جبکہ دوسرا نامزد ملزم خاوندمدعی بننے کے لیے کوشش کر رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق کنگن پور کے نواحی گاؤں لنڈیانوالہ میں ماموں کے گھر رہنے والی25سالہ نازیہ بی بی نے ساہیوال کے رہائشی اعجاز احمد سے خفیہ شادی کر رکھی تھی ساہیوال کا رہائشی مقتولہ کا والد محمدمنشاء نے بتایا کہ میری بیٹی25سال سے لنڈیانوالہ میں اپنے ماموں یوسف کے گھر رہ رہی تھی اب میں نے اپنی بیٹی کا رشتہ اپنے بھتیجا کے ساتھ کرنے کا ارادہ کیا تو میری بیٹی نازیہ بی بی نے تمام بات اپنے خاوند اعجاز احمد کو بتائی تو اس نے اس بات کا برا بنایا اور لنڈیانوالہ میں یوسف کے گھر پنچایت اکھٹی کر لی۔جس میں اعجاز احمد کے ساتھ چار لوگ جبکہ یوسف کے ساتھ 9 رشتہ دار تھے۔ اعجاز احمد نے پنچایت میں بتایا کہ نازیہ بی بی نے میرے ساتھ نکاح کیا ہوا ہے یہ میری بیوی ہے میں اس کی کہیں اور شادی نہیں کرنے دونگا۔ جس پر یوسف وغیرہ طیش میں آگئے تلخ کلامی کے بعد یوسف اپنی موٹرسائیکل پر اپنی بھانجی نازیہ بی بی کو اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے لینے گیاتو راستہ میں محمدیوسف نے اپنی بھانجی کو چھریوں کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔مقتولہ نازیہ بی بی کے والد محمدمنشاء کی مدعیت میں پولیس تھانہ کنگن پور نے مقتولہ کے ماموں یوسف اور خاوند اعجاز احمد کے خلاف مقدمہ درج کرکے ماموں یوسف کو حراست میں لے لیا جبکہ اعجاز احمد کا دعویٰ ہے کہ وہ نازیہ کا خاوند ہے اس کیس میں وہ خود مدعی بن کر ملزم کو کیفر کردار تک پہنچائے گا۔کیونکہ مقتولہ کا والد محمدمنشاء اور یوسف وغیرہ کی آپس میں رشتہ داری ہے وہ میری بیوی نازیہ بی بی کے قتل کے ملزم کو بہت جلد معاف کر دے گا حالانکہ میں اپنی بیوی کے قاتلوں کو کبھی معاف نہیں کرونگا۔ ان کیخلاف قانونی کاrروائی جاری رکھوں گا ڈی ایس پی چونیاں سید اشفاق حسین کاظمی سے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ اعجاز احمد اگر مدعی بننا چاہتا ہے تو ہمارے پاس آئے بے شک وہ FIRمیں نامزد ملزم ہے اسے گرفتار نہیں کیا جائے گا اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے تمام تر صلاحیت بروئے کار لائیں گے۔ ڈی پی او قصور سید علی ناصر رضوی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی ملزم کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ خفیہ شادی کو پنچایت کے سامنے ظاہر کرنے پر ایسا خوفناک واقعہ پیش آیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر لڑکی کا خاوند مدعی بننا چاہتا ہے تو شامل تفتیش ہو کر اصل حقائق بتائے۔حالات واقعات کے مطابق اگر وہ مدعی بن سکا تو اسے ضرور بنائیں گے۔ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق اعجاز احمد پہلے بھی شادی شدہ ہے اور اس کے چار بچے ہیں۔

خفیہ نکاح

مزید : علاقائی


loading...