پاناما کیس سماعت، نئے نکات، مریم نواز کا تحریری جواب، اب تحقیق کی ضرورت ہوگی؟

پاناما کیس سماعت، نئے نکات، مریم نواز کا تحریری جواب، اب تحقیق کی ضرورت ہوگی؟
پاناما کیس سماعت، نئے نکات، مریم نواز کا تحریری جواب، اب تحقیق کی ضرورت ہوگی؟

  


تجزیہ:چودھری خادم حسین:

عدالت عظمیٰ کے بڑے بنچ کے روبرو پاناماکیس کی سماعت کے دوران ایک نیا رخ سامنے آیا ہے، جس کی وجہ سے سماعت کی تکمیل میں تاخیر بھی ممکن ہے اوریہ سارے کا سارا کیس بھی دھڑام سے گرسکتا ہے، ہمیں اپنے عدالتی رپورٹنگ کے تجربے کی بنا پر اندازہ ہو گیا ہے کہ بات تحقیق کی طرف مڑ گئی اور فاضل جج صاحبان نے جن نکات کی تشریح مانگی وہ بھی بہت واضح ہے، افسوس تو یہ ہے کہ آج( ہفتہ) اخبارات میں شائع ہونے والی خبر سے زیادہ ترمعاصرین نے جو لیڈ بنائی وہ یکطرفہ ہو گئی ہے کہ فاضل عدالت نے یکطرفہ استفسار نہیں کیا بلکہ فریقین سے سوال کئے اور کہا کہ جو بھی اپنے موقف کے حق میں دستاویزی شہادت اور ثبوت پیش نہ کرسکا تو دوسرے فریق کا موقف تسلیم کرنا پڑے گا، یہ سوال دودھاری تلوار کے مترادف ہے اور فریقین کو بہر حال اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہے، ہمارے نزدیک جو تبدیلی آئی وہ یہ ہے کہ مریم نواز کی طرف سے دیئے گئے تحریری جواب میں نیسکول دستاویز پر دستخطوں سے انکار کر کے کہا گیا کہ ان کے دستخط جعلی ہیں اور ساتھ ہی ای ، میلز کو بھی جعلی قرار دے دیا اس جواب کے بعداب فاضل عدالت اس امر کی تحقیق کرائے گی کہ جواب میں جو کہا گیا وہ کس طرح درست ہے، یہ اسی طرح ممکن ہے کہ ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ دستخطوں کے نمونوں کی تحقیق و تصدیق کرے، اسی طرح ای میلز کوبھی ثابت کرنا ہوگا فاضل جج پہلے ہی بتا چکے کہ ای میلز کی فوٹو کاپی سے کام نہیں چلے گا، اور اب تو مریم نواز نے چیلنج بھی کردیا ہے، یوں ہر دوامور تحقیق طلب ہو گئے ہیں۔

ہم زیر سماعت معاملے پر تبصرے اور تجزیئے سے گریز کرتے ہیں کہ ’’سب جو ڈیس میٹر‘‘ پر ایسا نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کیا جانا چاہئے لیکن الیکٹرونک میڈیا میں مسلسل ایسا ہو رہا ہے ہم نہیں کہہ سکتے کہ عدالت نوٹس کیوں نہیں لیتی؟یہ تو عدالتی صوابدید ہے کہ نوٹس نہ لے تو نہ لے اور اگر لے ہی لے تو پھر وزیر اعظم نا اہل ہو جاتے ہیں۔

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے سیاست کے کھیل میں دوسرے انداز سے دخل دے دیا ہے، بلاول گزشتہ روز نوڈیرو سے لاڑکانہ شہر پہنچے جو اب ان کا حلقہ انتخاب ہوگا کہ ان کو ضمنی انتخاب اسی حلقہ سے لڑنا ہے جو ایاز سومرو کے پاس ہے اور انہوں نے قیادت کی خواہش پر اپنا استعفیٰ جمع کرادیا جو قیادت ہی کے پاس ہے بلاول بھٹو کا لاڑکانہ میں زبر دست استقبال کیا گیا، آصف علی زرداری نواب شاہ کے حلقہ سے قومی اسمبلی میں آنا چاہتے ہیں انہوں نے کئی دن وہاں گزارے اور کئی ترقیاتی کام بھی شروع کرائے ہیں یوں معنوی اعتبار سے دونوں نے انتخابی مہم کا آغاز تو کردیا ہے، بلاول کا کہنا ہے کہ جب باپ بیٹا اسمبلی میں آئیں گے تو حکومت کے لئے مشکل ہوگی، سید خورشید بضد ہیں کہ بلاول بھٹو ان کی جگہ اپوزیشن لیڈر ہوں گے اور وہ ان کے مشیر کی حیثیت اختیار کرلیں گے، اس سلسلے میں بعض حضرات نے غیر محسوس مہم شروع کررکھی ہے کہ باپ بیٹے میں سیاسی اختلاف پیدا کیا جائے۔ تاریخ تو بتاتی ہے کہ ایسا ہوا، لیکن یہاں آثار نہیں حتیٰ کہ پیپلز پارٹی میں یہ نظریہ ہے کہ بلاول کو آزادانہ سیاست کرنے دی جائے ، ضرورت کے وقت مشورہ دیا جاسکتا ہے تاہم یہ حضرات بھی زرداری مخالف موقف کا اظہار نہیں کرسکے۔

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے لئے میدان خالی نہیں ہوگا، تحریک انصاف پہلے امیدوار لانے کا اعلان کرچکی اور ٹیلینٹڈ کزن سردار ممتاز بھٹو نے بھی عمران خان سے ملاقات کے بعد مخالفت کا اعلان کیا تھا، اسی طرح ترقی پسند پارٹیوں والے بھی اپنا حصہ ڈالیں گے اور اب غنویٰ بھٹو نے لاہور پریس کلب میں سوشلزم ہماری معیشت ہے کے عنوان سے مجلس مذاکرہ میں اپنا امیدوار پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کے ٹکٹ پر میدان میں اتارنے کی بات کی ہے اور ساتھ ہی یہ کہا کہ بلاول بھٹو نہیں زرداری ہے، مطلب یہ کہ کنیت والدکی طرف سے ہوتی ہے۔

ویسے کیا حرج ہے اگر دونوں خاندان (مرتضی+بے نظیر) مفاہمت کرلیں اور مل کر سیاست کریں تو ان کا وزن اور بھی بڑھ جائے گا لیکن لوگ پوچھتے ہیں کیا غنویٰ بھٹو اور آصف علی زرداری کے ہوتے ہوئے یہ ہو سکے گا؟ خود ہی جو اب نفی میں دے دیتے ہیں اب بھی غنویٰ نے ایسی کسی بات یا کوشش سے انکار کیا ہے، حالانکہ کزن چاہیں تو ناممکن کو ممکن بناسکتے ہیں کہ فاطمہ بھٹو+ ذوالفقار علی بھٹو (جونیئر) بلاول بھٹو زرداری، بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بالغ اور تعلیم یافتہ ہیں جو اپنے والدین کو مجبور کر سکتے ہیں، اسی طرح ممکن ہے کہ شاہ نواز بھٹو کی صاحبزادی سسی بھٹو کوبھی ’’حق‘‘ مل جائے ۔

مزید : تجزیہ


loading...