پرنٹ میڈیا کے محدود ہوتے کردار کو ابھارنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے: ضیاء شاہد

پرنٹ میڈیا کے محدود ہوتے کردار کو ابھارنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے: ضیاء ...

ملتان (نیوز رپورٹر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای )کے صدر ضیاء شاہد نے کہا ہے کہ الیکٹرانک و سوشل میڈیا کی موجودگی میں پرنٹ میڈیا کا کردار محدود ہوتا جا رہا ہے ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اقدام بروئے کار لائے جائیں جس کے تحت نہ صرف پرنٹ میڈیا ایک مرتبہ پھر ابھر کر سامنے آئے بلکہ ایڈیٹرز کے کردار کو بھی نمایاں مقام حاصل ہو۔ ترقی یافتہ ممالک میں الیکٹرانک و سوشل میڈیا کی بھرمار کے باوجود پرنٹ میڈیا کا اپنا ایک مقام ہے اور ایک وسیع پیمانے پر ان کا ایک ریڈر شپ ہے جبکہ یہاں یہ صورتحال بالکل برعکس ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں ملتان‘ بہاولپور اور رحیم یار خان سے سی پی این ای کے رکن اخبارات و دیگر اخبارات اور جرائد کے ایڈیٹرز کے منعقدہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں سی پی این ای اپنا کردار نبھانے کیلئے بالکل تیار ہے اور آج کا اجلاس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد اخبارات کے ایڈیٹرز کے رابطے کو مربوط بنانا ہے اور مل بیٹھ کر ایسی تجاویز پر عملدرآمد کرنا ہے جس میں اخبارات کا مرکزی کردار ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایڈیٹرز کی اہمیت حکمرانوں‘ پروفیشنل و کمرشل اداروں سے کہیں زیادہ ہے لیکن اس ملک میں ایڈیٹرز کا انسٹی ٹیوشن کمزور ہوتا جا رہا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومتی و دیگر اداروں نے اپنے میڈیا سیل بنا کر براہ راست رابطے استوار کر لئے ہیں اس لئے کوشش کر رہے ہیں کہ ایڈیٹرز کو وہ مقام دلایا جائے جس کے وہ حقدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پی این ای اخبارات کے ایڈیٹرز سے رابطے کو موثر بنا رہی ہے۔ لاہور‘ اسلام آباد اور کراچی کے بعد ملتان میڈیا کا اہم مرکز ہے یہاں سے بڑی تعداد میں اخبارات شائع ہوتے ہیں اور سی پی این ای کی کوشش ہے کہ اپنا آئندہ اجلاس ملتان میں رکھے جس میں ملتان و گرد و نواح کے علاقوں کے تمام اخبارات کے ایڈیٹرز کو مدعو کیا جائے اور پرنٹ میڈیا کو درپیش مسائل کو حل کرنے کیلئے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کے ایڈیٹرز کا کردار جو کبھی مرکزی تھا اب پس منظر میں جاتا نظر آ رہا ہے۔ سی پی این ای اس کی بحالی کیلئے جدوجہد کر رہی ہے مگر اس میں مختلف اخبارات میں کام کرنے والے ایڈیٹرز کی آراء کو جاننا اور ان کی تجاویز کو زیر بحث لانا بھی ایک ضروری امر سمجھتی ہے اور اپنے آئندہ اجلاس میں اس چیز کو مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 26 سال کے عرصہ میں جس قدر تعلیم اور تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اس مناسبت سے اخبارات کی سرکولیشن میں اضافہ نہیں ہوا جو ایک المیہ سے کم نہیں۔ ہمیں اس جانب بھی توجہ دینی ہو گی اور ایسے اقدام اٹھانے ہوں گے کہ تعلیم یافتہ لوگوں کو اخبارات کے مطالعہ کی جانب راغب کیا جا سکے۔ اجلاس میں ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ ایکسپریس ملتان آصف علی فرخ، ریذیڈنٹ ایڈیٹر جنگ ظفر آہیر، ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ دنیا امجد بخاری، ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ پاکستان شوکت اشفاق، ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ اوصاف مہر محمد عزیز، ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ خبریں امتیاز احمد گھمن، ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ آفتاب اسد ممتاز، چیف ایڈیٹر نیادور چوہدری محمد یونس، چیف ایڈیٹر روزنامہ حیرت شیخ محمد امین، چیف ایڈیٹر روزنامہ سفیر پنجاب سعید اللہ خان، چیف ایڈیٹر روزنامہ کائنات بہاولپور احمد علی بلوچ، چیف ایڈیٹر روزنامہ حرف لازم ملتان اصغر انصاری، ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ اسلام حافظ محمد رمضان، ایڈیٹر روزنامہ سنگ میل ظفراللہ خان اور ایڈیٹر روزنامہ قومی آواز بخت آثار نے شرکت کی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...