وزیر اعلیٰ کی دسمبر 2017ء تک سوات موٹروے کی تکمیل یقیبی بنانے کی ہدایت

وزیر اعلیٰ کی دسمبر 2017ء تک سوات موٹروے کی تکمیل یقیبی بنانے کی ہدایت

پشاور( سٹاف رپورٹر )وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے دسمبر 2017تک سوات موٹر وے منصوبے کی تکمیل یقینی بنانے کی ہدایات کی ہے۔ سوات موٹروے صوبائی حکومت کا ایک منفرد اور اہم ترین منصوبہ ہے جو سی پیک کے تناظر میں بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم نے قومی جذبے کے ساتھ اس منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنانی ہے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس کو سوات موٹر وے منصوبے کی تعمیری پیش رفت سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ منصوبے کی تعمیر پر مختلف مقامات پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اجلاس کو منصوبے کی تکمیل کیلئے مختلف کاموں کیلئے ٹائم لائن پر بھی بریفننگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مستقبل کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے منصوبے کی معیاری تعمیر ناگزیر ہے۔ دریں اثناء وزیرعلیٰ نے رپیڈ بس ٹرانزٹ منصوبے پر تعمیراتی کام بر وقت شروع کرنے کیلئے زمین کے حصول ، متابدل ٹریک نظام سمیت دیگر تمام لوازمات جلد پورا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس موقع پر اجلاس کو منصوبے کے پیکجز پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پہلا پیکج چمکنی سے قلعہ با لاحصار، دوسرا پیکج قلعہ بالا حصار سے امن چوک اور تیسرا پیکج امن چوک سے حیات آباد تک ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس منصوبے کو بروقت مکمل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس پر کام کا آغاز جلد کیا جائے۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے سے پشاور میں ٹریفک کا مسئلہ کل وقتی طور پر حل ہو جائے گا۔

پشاور( سٹاف رپورٹر )وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر ویز خٹک نے خیبر پختونخوا اکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کی استعداد کار میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کو مکمل بااختیار بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کمپنی کے قیام کے پس پردہ مقاصد کا حصول یقینی بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں گے۔ ہم صوبے میں صنعتوں کو فروغ دیگر صوبے کی معاشی بنیاد مضبوط اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس صوبے کا مستقبل تابناک ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے کے مسائل سے استفادہ کرنے کیلئے مربوط جدجہد یقینی بنائی جائے۔ دریں اثناء وزیراعلی ٰنے صوبے میں لکڑی کی نیلامی ہفتہ وار کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ لکڑی کی مد میں آئندہ جون تک دس سے بارہ بلین روپے کی آمدنی متوقع ہے۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم ،مشیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں ازمک اور بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے چیف ایگزیکٹیو افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

پشاور( سٹاف رپورٹر )وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے مقامی حکومتوں کو مختلف شعبوں میں منصوبوں کیلئے اخراجات طے شدہ فارمولے کے مطابق مختص کرنے اور غیر قانونی اور غلط کاموں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے صفائی کے نظام کو آؤٹ سورس کرنے کی ہدایت کی اور کہا ہے کہ اس سے آدھے اخراجات پر بہتر صفائی ممکن ہو سکے گی۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں محکمہ بلدیات اور خزانہ پر سٹاک ٹیک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان، چیف سیکرٹری عابد سعید، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے مقامی حکومتوں کو مکمل اختیارات دیئے ہیں اور ریکارڈ مسائل بھی فراہم کئے ہیں۔ اب مقامی حکومتوں کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی توقعات کے مطابق کارکردگی دکھائیں اور فنڈ اور اختیارات کا عوامی مفاد میں شفاف استعمال یقینی بنائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کسی صورت میں بھی برداشت نہیں ہو گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ناظمین کا اجلاس بلا کر انہیں اختیارات سے آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے ضلعی سطح پر مقامی نمائندوں کی تربیت کا اہتمام کرنے اور کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ دینے کی ہدایت کی اور کہا ہے کہ پولیس کی ذمہ داری کمیونٹی کی مدد کرنا ہے۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ نے آمدنی میں اضافہ کا موجب بننے والے منصوبوں پر اخراجات کرنے کا بھی حکم دیا اور کہا کہ ہم نے صوبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ حکومت نے وسائل فراہم کئے ہیں اب ترقی بھی نظر آنی چاہیے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...