صوابی کو گیس کی عدم فراہمی پا باقاعدہ احتجاجی تحریک شروع کی جائیگی :اسد قیصر

صوابی کو گیس کی عدم فراہمی پا باقاعدہ احتجاجی تحریک شروع کی جائیگی :اسد قیصر

صوابی( بیورورپورٹ)سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسدقیصر نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوابی کو سوئی گیس کی فراہمی نہ کر نے کے خلاف بہت جلد احتجاجی تحریک چلانے کا باضابطہ اعلان کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ گیس کی فراہمی کے لئے صوبائی حکومت نے نہ صرف مطلوبہ فنڈز فراہم کر دی ہے بلکہ حکومت کے اس عمل کے خلاف عدالت عالیہ نے دائر رٹ پر ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے لیکن اس کے باوجود وفاق ضلع صوابی کو گیس کی فراہمی نہ کر کے انتہائی نا انصافی و زیادتی کر رہی ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کے روز راحت آباد زیدہ میں پی ٹی آئی زیدہ تنظیم کی جانب سے عمران خان کے جلسہ عام کے شکریہ کے طور پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ بعد ازاں انہوں نے موضع ٹھنڈ کوئی میں ایک بڑے شمولیتی جلسہ عام سے خطاب بھی کیا۔ جس میں یو سی ٹھنڈ کوئی کے سابق کونسلر حاجی خلیل الرحمن ، حاجی حبیب لرحمن ، محمد فیاض اور دیگر نے خاندانوں سمیت پی ٹی آئی میں شمولیت کاا علان کیا جب کہ ضلعی صدر انور حقداد ، عبدالستار و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سپیکر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر نے زیدہ سٹی میں عمران خان کے کامیاب جلسہ عام پر پی ٹی آئی زیدہ اور ضلع صوابی کے کارکنوں کا شکریہ ادا کر تے ہوئے کہاکہ چین کی جانب سے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو چین کا دوہ کروانا ہماری تحریک اور رابطہ عوام مہم کی کامیابی کا آغاز ہے ۔تاہم سی پیک پر خیبر پختونخوا کے حقوق کے حوالے سے ہمارے تحفظات برقرار ہیں دہشتگردی کی جنگ سے متاثر ہ ملاکنڈ ڈویژن سمیت ہزارہ ڈویژن کوٹوراژم انڈسٹری کا درجہ دیتے ہوئے اسے سی پیک کا حصہ بنایا جائے ۔انہوں نے تاحال وفاقی حکومت کے طرز عمل کو جانبدارانہ قراردیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سی پیک کے حوالے سے ملک کے کسی خاص حصے پر ہی توجہ دینے کی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے اپنی مکمل غیر جانبداری کا مظاہر ہ کرے ۔ ہم تب ہی مطمئن ہوں گے جب وفاقی حکومت چھوٹے صوبوں سمیت چاروں صوبوں میں سی پیک کے حوالے سے برابری کی بنیاد پر منصوبوں کا اجراء ممکن بنائے انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کو سی پیک کا حصہ بناتے ہوئے یہاں پر مستقل روٹ کی تعمیر کو ممکن بنایا جائے خیبر پختونخوا اسمبلی کی قرارداد کے عین مطابق شانگلہ تا بشام بذریعہ خوازہ خیلہ ریلوے ٹریک اور ملاکنڈ کو درگئی ریلوے لائن سے ملایا جائے ۔اس کے علاوہ حویلیاں ایبٹ آباد ۔مانسہرہ تابشام ریلوے ٹریک بڑھایا جائے ۔وفاقی حکومت کا فرض بنتاتھا کہ وہ روزاول سے ہی سی پیک کے حوالے سے منعقد ہونے والی میٹنگز میں خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو شرکت کی دعوت دیتے تاکہ کسی قسم کے شکوک وابہام نہ پیدا ہوتے ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پر ویز خٹک کی چائنہ جائنٹ کو آپریشن کمیٹی میں شرکت کو بھی رابطہ عوام مہم کی کڑی قراردیا ۔ سپیکرنے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مکمل مطالبات پورے ہونے تک ہم اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے اور خیبر پختونخوا کے عوام کے حقوق کے حصول کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بنیادی مطالبات ہیں کہ مغربی رو ٹ کو مکمل لوازمات کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اور اس ضمن میں جلد ازجلد نوٹیفیکیشن کا اجراء کیا جائے ۔ آل پارٹیزکانفرنس بلاکر وفاقی حکومت واضح کرے کہ سی پیک کے حوالے سے ہر صوبے کو کتنا حصہ ملے گا اور صوبوں کی لیڈر شپ کو اعتماد میں لیا جائے ۔ حویلیاں میں مجوزہ تعمیر ہونے والے ڈرائی پوٹ کا دائرہ کا ر ایبٹ آباد ، مانسہرہ ، بشام اور گلگت تک بڑھایا جائے اور بعدازاں خوازہ خیلہ وسوات کو بھی اس سے منسلک کیا جائے ۔ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنوں میں بھی صنعتوں کا قیام عمل میں لایا جائے ۔نیز ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے انہیں ٹوراژم انڈسٹری کا درجہ دیتے ہوئے سی پیک کا حصہ بنایا جائے ۔آخر میں سپیکرنے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کسی مخصوص حصے کی بجائے ملک کے تمام صوبوں کی نمائندگی کا حق اداکریں تاکہ کسی صوبے کی حق تلفی نہ ہو#

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...