ملک میں عدل و انصاف پر مبنی نظام کی ضرورت ہے ،افشاں ملک

ملک میں عدل و انصاف پر مبنی نظام کی ضرورت ہے ،افشاں ملک

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نیا سال 2017ء کے آغاز پر افشاں ملک نے ایک انٹرویو میں قوم کیلئے اپنا پیغام دیتے ہوئے کہاکہ ’’ملک میں ایسا نظام متعارف کروانے کی ضرورت ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو۔‘‘موجودہ زمانے میں انسان کا بنایا ہوا کوئی بھی سیاسی نظام ایسا نہیں ہے جو بہترین ہو۔ پاکستان میں پارلیمنٹ سسٹم پنپ نہیں سکا۔ جمہوریت اکثریت کی رائے کے فیصلے کو کہتے ہیں مگر ملک میں سادہ لوح عوام جو مسائل کی دلدل میں پھنستے ہوئے ہیں اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے درست فیصلہ اور صحیح لیڈر کا چناؤ ممکن ہی نہیں ہے۔ موروثی خاندانی نظام رائج ہے جس نے ملک میں قبضہ کررکھا ہے اور ان کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ ان مشکل حالات میں پاکستان میں نہ صرف نوجوان اور باصلاحیت قیادت کو آگے آنے کی ضرورت ہے بلکہ ایسانیا نظام رائج کرنے کی ضرورت ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو جس میں عوام کو کشکول لے کر عدل کے پیچھے نہ جانا پڑے۔ بلکہ انصاف خود چل کر ان کی طرف آئے اور اس میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے پہلے اداروں کی سمت کو درست کرنا ضروری ہے۔ قابل اور دیانتدار لوگوں کو اداروں میں آگے آنے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ نئے صاف ستھرے نظام کے نفاذ میں مددگار ثابت ہوں۔ جس سے ملک میں ترقی و استحکام آئے اور انصاف کو فروغ ملے۔ ملک اس وقت جن مشکلات سے گزررہا ہے جبکہ تمام ادارے غلط سمت میں چلے گئے ہیں اور حق کی آواز کو دبادیا جاتا ہے۔ وہاں الیکشن کروانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ الیکشن شفاف نہیں ہوسکتے۔ جمہوریت کی ناکامی کو مانتے ہوئے سب سے پہلے ہمیں اپنے ملک کے اداروں کی سمت درست کرنی ہوگی اور تب نیا نظام لانا ممکن ہوگا۔ یہی وقت ہے جب ہم انصاف پر مبنی معاشرے کیلئے فیصلہ کن سخت رویہ اختیار کریں اور ملک کی تقدیرکوبدل دیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...