سعودی شہری نے پاکستانی سے 60 لاکھ روپے کی گاڑی خرید لی، لیکن لے کر گھر پہنچا تو ایسا انکشاف کہ پیروں تلے زمین نکل گئی، پاکستانی شہری نے کیسے بے وقوف بنایا؟ جان کر آپ بھی چکرا جائیں

سعودی شہری نے پاکستانی سے 60 لاکھ روپے کی گاڑی خرید لی، لیکن لے کر گھر پہنچا تو ...
سعودی شہری نے پاکستانی سے 60 لاکھ روپے کی گاڑی خرید لی، لیکن لے کر گھر پہنچا تو ایسا انکشاف کہ پیروں تلے زمین نکل گئی، پاکستانی شہری نے کیسے بے وقوف بنایا؟ جان کر آپ بھی چکرا جائیں

  


دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک) ہم اکثر اس بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ دنیا ہمیں برا کہتی ہے لیکن کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ غیروں کے سامنے ہمیں رسوا کرنے والے بھی ہم میں سے ہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک پاکستانی مینجر کا ’کارنامہ‘ بھی ایسی ہی شرمناک مثال ہے، جس نے 50 ہزار درہم (تقریباً 1426000 پاکستانی روپے) کی کار ایک سعودی شہری کو پورے ایک لاکھ 95ہزار درہم (تقریباً 60 لاکھ پاکستانی روپے) میں بیچ ڈالی۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 58 سالہ سعودی شخص کو ایک یمنی شخص نے بتایا تھا کہ وہ اسے 20100ءماڈل کی مرسیڈیز بینز GL500 گاڑی ارزاں قیمت پر فروخت کر سکتا ہے۔ یمنی نے بتایا کہ یہ گاڑی جاپان سے درآمد کی گئی ہے اور اس پر سعودی عرب میں کوئی کسٹمز ڈیوٹی بھی نہیں لی جائے گی۔ سعودی شخص جب گاڑی خرید کر اپنے ملک پہنچا تو کسٹمز ڈیوٹی کے متعلق بتائی گئی بات جھوٹ پر مبنی نکلی۔ یہ فراڈ سامنے آنے کے بعد وہ گاڑی کو کمپنی کے ایک مقامی ڈیلر کے پاس لے کر گیا اور اس کی جانچ پڑتال کرنے کو کہا۔ کمپنی کے ماہرین نے جب گاڑی کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ یہ بتائے گئے مائلیج سے کہیں زیادہ چلی ہوئی تھی جبکہ اس کا ماڈل بھی 2010ءکی بجائے 2001ءتھا۔

جب معاملہ پولیس کے پہنچا اور تفتیش کی گئی تو پتا چلا کہ یمنی باشندے کے پیچھے اصل مجرم ایک پاکستانی مینجر تھا، جس نے گاڑی کی جعلی کسٹمز دستاویزات تیارکروائیں اور بعدازاں اس جعلی دستاویز کی بنیاد پر روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے ملکیتی دستاویز حاصل کی۔ فراڈ کا نشانہ بننے والے عربی نے ملزمان کے خلاف دبئی کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

مزید : عرب دنیا


loading...