خدمت کاریا ڈھونگی؟

خدمت کاریا ڈھونگی؟
 خدمت کاریا ڈھونگی؟

  


تحریر: میاں عمران احمد

مسلم لیگ ن پنجاب میں پچھلے آٹھ سال اور وفاق میں ساڑھے تین سال سے حکومت کر رہی ہے۔ اپنی نااہلیوں ،غلطیوں ،کرپشن کے الزامات اور فوج پر تنقید کرنے کے باوجود عمران خان ان کا کچھ بھی بگاڑ نہیں پا رہا ۔حکومت آج بھی قائم ہے اور پہلے سے زیادہ مضبوط اور توانا ہے۔ لاتعداد مسائل اور کرپشن کے الزامات کے باوجود مسلم لیگ ن کس طرح اپنی حکومت قائم کئے ہوئے ہے؟ اس سوال کا جواب دلچسپ بھی ہے اور حیران کن بھی ۔کامیاب حکومت کرنے کیلئے مسلم لیگ ن مظلوم حکمران اور مظلوم حکومت کے فلسفے کی قائل ہے اور یہ فلسفہ انہیں راس بھی آگیا ہے آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ مظلوم حکمران اور حکومت کا مسلم لیگ ن سے کیا تعلق ہے۔؟مجھے یقین ہے کہ کالم کے اختتام تک آپ میری بات سے اتفاق کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔

آپ اکتوبر 2016کی مثال لے لیجئے۔ میاں محمد نواز شریف نے اکتوبر 2016میں رحیم یار خان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’مفاد کیلئے اقتدار میں آنے والے امانت میں خیانت کر رہے ہیں ۔عوام کے خون پسینے کی کمائی کا ضیا ع کیا جا رہا ہے ۔عوام کواُن کا حق نہ دینے والے اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں ۔لوگوں کی خدمت کرنا ارباب اختیار کا فرض ہے‘‘ اوریہ بیانات دیتے ہوئے میاں صاحب کی آنکھوں میں آنسو بھی آگئے۔میاں صاحب کی اس تقریر کے بعد عوام کے دلوں میں ان کیلئے ہمدردیاں بڑھ گئیں اور ہر دوسرے شخص کی زبان پر یہی الفاظ تھے کہ مسلم لیگ ن کو عوام کا بہت احساس ہے اور یہ عوام کیلئے درد بھی رکھتی ہے ۔آپ ان بیانات کا بغورجائزہ لیں تو آپ کو یقیناً اس بات کا احساس ہوگا کہ یہ بیانات اپوزیشن پارٹی کے کسی رہنماء کے ہیں جو حکومت کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت اپنی ذمہ د اریاں پورے طریقے سے ادا نہیں کر رہی ۔حکومت ظالم ہے اور وہ لوگوں کے پیسے کاغلط استعمال کر کے اپنی عاقبت خراب کر رہی ہے ۔اب آپ تصویر کے دوسرے رخ کی جانب دیکھیں اور سوچیں کہ میاں محمد نواز شریف یہ تمام بیانات کسے سنا رہے تھے اور وہ ان بیانات سے کیا ثابت کرنا چاہ رہے تھے؟آپ اب ایک دلچسپ حقیقت سے آشنا ہو سکیں گے ۔ میاں صاحب ان بیانا ت سے خود کو مظلوم اور لاچار ثابت کرنا چاہ رہے تھے ۔میاں صاحب یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ میں بے بس ہوں ،میں عوام کی بھلائی اور بہتری کرنا چاہتا ہوں لیکن نہ جانے کیوں کر نہیں پا رہا ہوں اور اس کا ذمہ دار خود کو ٹھرانے کی بجائے کسی اور کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۔میاں صاحب آپ صیح فرما رہے ہیں کہ لوگوں کی خدمت کرنا ارباب اختیار کا فرض ہے لیکن آپ اس بات کا احساس بھی کریں کہ عوام نے آپ کو دو تہائی اکثریت سے بلا شرکت غیر ملک پاکستان کا حکمران منتخب کیا ہے ۔اور اگر عوام آپ کو پاکستانی تاریخ کا مظبوط ترین وزیر اعظم منتخب کرنے کے باوجود بھی ان تکالیف سے دو چار ہے تو ذمے داری آپ ہی کے کندھوں پر ہی عائد ہوتی ہے کیونکہ حاکم وقت تو آپ ہی ہیں ۔

آپ چھوٹے میاں صاحب کی مثال لے لیجئے ۔ دسمبر 2016میں میاں محمد شہباز شریف نے ارفع کریم ٹاور میں ای سٹیٹمنٹ پیپر کے اجراء کی تقریب میں فرمایا کہ.’’. نیب کا پلی بارگین قانون ڈھکوسلہ ہے ،فراڈ ہے جسے ختم کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے چند کوڑیاں واپس دے کر غبن کرنے والے پاک دامن ثابت ہو جاتے ہیں ‘‘۔میاں صاحب کی زبان سے یہ الفاظ حیران کن بھی ہیں اور مضحکہ خیز بھی۔میاں صاحب اگر پلی بارگین کا قانون ڈھکوسلہ اور فراڈ ہے اور آپ دل سے اس قانون کیخلاف ہیں تو پھر آپ نے این آر او سائن کیوں کیا؟

۔آپ ایک اور مثال ملاحظہ کریں کہ دسمبر2016میں میاں شہباز شریف صاحب نے تقریب سے خطاب کے دوران فرمایا کہ’’ پنجاب میں تھانے اور کچہریاں دونو ں بکتے ہیں سرکاری ہسپتالوں میں مریض تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں‘‘ ۔میاں صاحب اگر پنجاب میں تھانے کچہریاں بکتے ہیں تو اس کے ذمے دار بھی آپ ہی ہیں یہ ظلم آپ عوام پر کر رہے ہیں آپ پنجاب میں پچھلے آٹھ سال سے حکمران ہیں یہ کچہریاں اور تھانے آپ کے آشیر باد کے بغیر نہیں بک سکتے۔لیکن آپ عوام کے سامنے یہ حقیقت نہیں رکھ رہے اورنہ ہی عوام میں یہ پوچھنے کی ہمت ہے کہ آپ حاکم ہیں یا محکوم۔میاں صاحب اگر آپ مظلوم ہیں آپ تھانوں کو بکنے سے نہیں روک سکتے آپ کچہریوں میں کرپشن پر قابو نہیں پا سکتے ،آپ ہسپتالوں میں مریضوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کر سکتے ،آپ نیب کے قانون میں تبدیلی لاکر بھی اسکو فعال نہیں بناتے تو آپ سے گزارش ہے کہ آپ عوام کی خدمت کا ڈھونگ رچانا چھوڑ دیں ۔آپ حکومتی بنچوں پر بیٹھنے کی بجائے اپوزشن بنچوں پر بیٹھنا شروع کر دیں اور کسی ایسے مرد مومن کو حکومت سونپ دیں جو مظلوم حکمران بننے کی بجائے ایماندا ر ،با عمل اورباا ختیار حاکم وقت کا کردار ادا کر سکے۔ جو خود کو معاشرے میں ہونے والی برائیوں کا ذمہ دار سمجھے جو عوام کو دھوکے میں رکھنے کی بجائے ان کی خدمت کو عبادت کا درجہ دے سکے۔اور اگر آپ نے آج یہ فیصلہ نہ کیا اور اپنی ساری کوششیں خود کو مظلوم حکمران ثابت کرنے میں صرف کر دیں تو وہ وقت دور نہیں جب عوام آپ کو اقتدار کے ایوانوں سے نکال کر باہر پھینک دیں گے اور اللہ کا عذاب آپ پر واجب ہو جائے گا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...