حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے 2پارٹیاں بنانا پڑیں،بلاول بھٹو ہی چیئرمین ہیں۔اعتزاز احسن

حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے 2پارٹیاں بنانا پڑیں،بلاول بھٹو ہی چیئرمین ...
حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے 2پارٹیاں بنانا پڑیں،بلاول بھٹو ہی چیئرمین ہیں۔اعتزاز احسن

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)اپوزیشن لیڈر سینٹ اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ حالات کے باعث پارٹی کو 2حصوں میں تقسیم کیا گیاہے لیکن حقیقی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہی ہیں۔

عمران خان بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا شکار ،ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں:مریم اورنگزیب 

دنیا نیوزکے پروگرام”ٹو نائٹ ود معید پیرزادہ“میں گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن کاکہنا تھا کہ انٹراپارٹی الیکشن کا اعلان کیاگیا تھا،الیکشن ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے، پارٹیوں کے الیکشن ہوتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بے شک 2پارٹیاں قائم کی گئی ہیں لیکن اصل میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ہیں ،اور اس وقت اسلام آباد میں میٹنگز کررہے ہیں،جبکہ پارٹی کی تنظیم سازی بھی بلاول ہی کریں گے۔سابق صدر آصف زرداری سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے پارلیمنٹ میں آنے سے مثبت پہلو سامنے آئیں گے کیونکہ وہ پارٹی معاملات کو بہتر طریقے سے سمجھتے ہیں۔ ان کے پیچھے دہائیوں کی سیاسی زندگی کاتجربہ ہے۔ لیکن میری ذاتی رائے کے مطابق زرداری صاحب کو پارلیمنٹ میں نہیں آنا چاہیے تھا،میری ذاتی رائے پہلے بھی مختلف تھی اور آج بھی ۔

اعتزاز احسن نے 27 دسمبر کے جلسے کے اعلان سے متعلق اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ بلاو بھٹو نے 27 دسمبر سے متعلق کہا تھا کہ میں اس دن فیصلہ کروں گا کہ کیا کرنا ہے یہ ہرگز نہیں کہا تھا کہ ہم لوگ گاڑیاں پکڑیں گے اور سڑکوں پرآجائیں گے۔ہمارے 4مطالبات تاحال موجود ہیں اگر نہ مانے گئے تو ہم حرکت میں آئیں گے۔بلاول بھٹو نے عوام سے جووعدے کئے وہ پورے بھی کریں گے۔انہوں نے پانامہ لیکس پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا  کہ پانامہ کیس پر کیا فیصلہ ہوتا ہے سپریم کورٹ بہتر جانتی ہے۔لیکن اگر ثبوتوں کا بوجھ الزامات لگانے والوں پر ڈال دیا گیا تو یقینا اس کیس کا کچھ نہیں ہوسکتا۔

آخر میں اعتزاز احسن کاکہنا تھاکہ سپریم کورٹ بھی جانتی ہے کہ شریف خاندان نے اپنے اوپر ناجائز جائیداد کے لگنے والے الزامات کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے تاحال قطری شہزادے کے خط کے علاوہ کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔ لیکن اگر نواز شریف ، اور شہباز شریف کی کوئی جائیدادیں نہ ہوتی تو بینک انہیں قرضہ کیوں دیتے؟

مزید : اسلام آباد


loading...