برصغیر میں انسان کا معاشی مسئلہ موضوع سخن کیوں نہیں؟

برصغیر میں انسان کا معاشی مسئلہ موضوع سخن کیوں نہیں؟
 برصغیر میں انسان کا معاشی مسئلہ موضوع سخن کیوں نہیں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم میں اور سید نا رسول اللہؐ کے اپنے ارشادات میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ ساری مخلوق کی زندگی کے لئے خصوصی طور پر احکام و فرامین ہیں جن میں معاشی مسئلہ حل کرنے کی جانب خصوصی توجہ دی گئی ہے۔۔۔ قرون اولیٰ اور بعد کے مختلف ادوار میں دیگر مسائل کے ساتھ انسان کے اقتصادی اور معاشی مسئلے کے زیر عنوان تحریکیں سرگرم عمل اور تحقیقی کتب بھی اشاعت پذیر رہی ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں اس مسئلے کی جانب جس نے صحیح توجہ مبذول کی، وہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی ذات گرامی ہے، بعد ازاں علمائے دیوبند نے ان کے افکار و نظریات کی تشریح اور تبلیغ کے سلسلے میں جو خدمات انجام دی ہیں۔ وہ ہماری تاریخ کا زریں باب ہیں۔

انسان کے معاشی مسئلے کو مقصود بنانے کے سلسلے میں شیخ الہند مولانا محمود حسن، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا مناظر احسن گیلانی، چودھری افضل حقؒ اور دیگر شخصیات کے نام خصوصاً قابل ذکر ہیں۔

مجلس احرار کے بانی چودھری افضل حقؒ کی زندگی میں مجلس احرار اسلام کا طرۂ امتیاز تحریک آزادئ ہند، تحریک تحفظ ختم نبوت اور انسان کی روٹی کا مسئلہ ، زیر فکر و نظر رہے، سابق حکمران ذوالفقار علی بھٹو شہید نے بھی الیکشن سے پہلے روٹی، کپڑے اور مکان کا نعرہ لگایا تھا۔ بعد ازاں ان جماعتوں کی ترجیحات نے دوسرے رخ اختیار کر لئے۔

اب اگر اس عنوان پر لٹریچر کا جائزہ لیا جائے تو مولانا مودودی کی تصنیف معاشی مسئلہ اور مسئلہ ملکیت زمین لائق توجہ ہے۔ اسی عنوان کے تحت قادیانی لیڈر مرزا بشیر الدین محمود کی تصنیف بھی ہے، ان دونوں کا نظریہ جاگیردارانہ نظام کی تائید و حمایت ہے اور سار ازورقلم اس میں لگا دیا گیا ہے کہ جس کے قبضے میں زمین یا دولت و سرمایہ آ گیا ہے، شخصی حقوق اور آزادی کا تقاضا یہ ہے کہ کسی کاحق ملکیت، خواہ سینکڑوں مربع زمین پر مشتمل ہو، ان سے جبراً چھینا نہیں جا سکتا۔

جبکہ پاکستان میں اس وقت باقاعدہ نظریاتی تحریک کے سلسلے میں معاشیات کے موضوع پر حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خلفا میں سے حضرت مولانا سعید احمد رائے پوریؒ نے مولانا سندھیؒ کے معاشی افکار ونظریات کو موضوع سخن بنا کر باقاعدہ تحریک کی شکل دی ہے اور اس سلسلے میں نہایت علمی و تحقیقی کتب شائع کرنے کا بھی اعزاز پایا ہے اور حضرت مولانا سعید احمد رائے پوریؒ کے بعد ان کے فرزند نسبتی، محقق و مصنف مولانا عبدالخاق آزاد نے انسان کے معاشی مسئلے کو اہمیت دے کر اسلاف کی روایات زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے جو لائق تحسین ہے۔

حیرت ہے کہ ہمارے وہ مذہبی و سیاسی رہنما جو خود تو اس مسئلے کو قصۂ پارینہ قرار دینے پر کمر بستہ ہیں، وہ اس مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر سرگرم عمل حضرات کے خلاف کفر کے فتوے جاری کرنے کو کار ثواب سمجھتے اور ان کی راہ میں کانٹے بکھیرنے کو ذریعۂ نجات قرار دیتے ہیں،لیکن خود کسی کام پر آمادہ نہیں ہیں۔

بریں عقل و دانش بباید گریست

پاکستان میں جتنی بھی مذہبی و سیاسی جماعتیں سرگرم عمل ہیں، ان کی جزوی افادیت سے انکار ممکن نہیں، وہ اپنے طریق کار کو اگر عصر حاضر کے تقاضے کے مطابق سمجھتے ہیں تو اس میں لگے رہیں، لیکن انہیں یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ امت مسلمہ کے افراد اگر فاقہ کشی ا ور قحط کا شکار ہوں گے (نعوذ باللہ) تو وہ نہ تو آپ کے جلسے جلوس کی رونق بن سکتے ہیں اور نہ ہی اللہ کے راستے میں نکلنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔

سب سے پہلے ان کی روزی ا ور پیٹ کا مسئلہ ہے پھر یہ بھی نہیں کہ بہلا پھسلا کر مردوں کو تو تبلیغ اسلام کے لئے اللہ کی راہ میں لے جائیں اور پیچھے ان کی آل اولاد اور اہل خانہ بھوک سے نڈھال زندگی کی تلخیاں برداشت کرنے پر مجبور ہو جائیں، ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہوگا تو مجبوراً غلط راستوں پر پڑنے کا خدشہ ضرور دامن گیر رہے گا۔

بہر حال اہل فکر و دانش کو انسان کے اقتصادی اور معاشی مسئلے کی جانب توجہ مبذول کر کے کوئی اجتماعی اور مؤثر اقدام ضرور کرنا چاہئے۔ قبل ازیں لوگوں کی توجہ روسی کمیونزم کی جانب مبذول تھی، روسی کمیونزم کے خاتمے کے بعد اب چین کا کمیونزم دھیرے دھیرے قدم بڑھا رہا ہے، اگرچہ چینی کمیونزم روسی نظریات کا آئینہ دار نہیں لیکن دنیا کے سرمایہ دارانہ نظام کے دوش بدوش صرف چینی کمیونزم ہی دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کا توڑ ہے۔

روسی کمیونزم کی تشریح اور اس کی افادیت کے موضوع پر باقاعدہ لٹریچر شائع ہوتا تھا، وہ مفت تقسیم بھی کیا جاتا یا برائے نام قیمت پر فروخت ہوتا تھا، آپ سن کر حیران ہوں گے کہ روس کے خلاف جب اس کی مذہبی دشمنی کی تحریک ہمہ گیر ہو گئی تو مذہبی حلقے کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے روس نے قرآن کریم کے علاوہ دیگر مذہبی اسلامی کتب کی اشاعت کا اہتمام کیا تھا، لیکن یہ ٹیکنیک بھی روس کے کام نہ آئی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کمیونزم کے خاتمے کے بعد متبادل نظریہ کہاں سے نمودار ہوتا ہے؟ جبکہ دنیا کی بساط سیاست پر نگاہ ڈالنے سے اس حقیقت کا ادراک ہوتا ہے کہ دین و مذہب کے نام سے منصۂ شہود پر آنے والی تحریکوں کو بڑی طاقتیں پہلے اپنے مقصد کے لئے ہر قسم کے وسائل فراہم کرکے خوب استعمال کرتی ہیں، مطلب پورا ہونے پر انہیں دہشت گرد قرار دے کر نیست و نابود کر دیتی ہیں، جیساکہ افغانستان و پاکستان میں جہاد کے مقدس نام سے تحریک جہاد اسلامی کو اسلحہ فراہم کر کے اسے چلانے کی تربیت دی گئی دولت و سرمائے کی تجوریوں کے منہ کھول کر مجاہدین اسلام کی خوب پرورش کی گئی، جب روس کو اسلامی جہاد کے مقدس نام سے شکست دے دی گئی تو انہیں دہشت گرد اور ملک دشمن قرار دے کر نفرت کی گہری کھائی میں دھکیل کر امریکہ نے اپنے سر پر واحد سپر پاور ہونے کا تاج سجا لیا۔ امریکی پالیسی کی وجہ سے اب دین اسلام کے مقدس نام سے کسی تحریک کا اٹھنا مشکل نظر آتا ہے۔

بایں ہمہ ایک حقیقت ہے کہ دین اسلام ہمہ گیر اور اس کی مقبولیت میں قطعاً کمی نہیں آ سکتی، نہ اسلامی چراغ بجھایا جا سکتا ہے۔ مولانا ظفر علی خاںؒ نے کیا خوب کہا ہے،

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

مزید : رائے /کالم