اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 108

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 108

  

جونہی میں جھونپڑیوں کے درمیان پہنچا۔ ایک نوجوان جوگی جھونپڑی سے نکل کر دونوں بازو پھیلائے خوشی سے چلاتا ہوا میری طرف بڑھا’’سوامی وشال آگئے۔ سوامی وشال دیو آگئے۔‘‘

اس کی آواز پر تقریباً سب ہی جھونپڑیوں سے جوگی باہر نکل آئے اور انہوں نے مجھے گھیرے میں لے لیا۔ یہ سب کے سب نوجوان تھے اور گیروے لبادوں میں ملبوس تھے۔ ماتھے پر سرخ تلک لگے تھے۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ یہاں میری حیثیت کا پہلے ہی سے تعین ہوچکا ہے اور میں یہاں کسی سوامی وشال دیو کے روپ میں داخل ہوا ہوں۔ میں گھوڑے سے نیچے اتر آیا۔ وہ لوگ پراکرتی ہندی زبان بول رہے تھے جس میں سنسکرت کے علاوہ اس علاقے کی زبان کے الفاظ بھی شامل تھے۔ میرے لئے اس زبان کو سمجھنا اور بولنا کوئی مشکل نہیں تھا۔ میں اب یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ جس وشال دیو نامی سوامی جی کی شکل میں وہاں ظاہر ہوا ہوں وہ کون تھا اور یہاں کیا کرتا تھا؟ کیا وہ ان لوگوں کا سب سے بڑا گرودیو تھا یا خود ایک جوگی تھا۔ نوجوان جوگی مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ میں کہاں چلا گیا تھا۔ اتنا عرصہ کہاں رہا۔ 

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 107 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک جوگی نے کہا’’گرو دیو! کمار گری! آپ کو بہت یاد کرتے تھے۔ آؤ ان سے ملیں۔ وہ اپنی گپھا میں گیان دھیان کررہے ہیں۔‘‘

ایک بات واضح ہوگئی تھی کہ جوگیوں کے اس اجتماع یا گروہ کا میں سربراہ نہیں تھا۔ اس گروہ کا سربراہ کوئی گرو دیو کمار گری تھا اور میں اس کا معتمد چیلا تھا اور میرا نام وشال دیو تھا۔ 

جوگی مجھے اپنے ساتھ لے کر درمیان والی سب سے نمایاں جھونپڑی کی طرف بڑھے۔ جھونپڑی کا بانس کا دروازہ بند تھا اور اس کے باہر چبوترے پر جوگیوں نے عقیدت کے طور پر کنول کے پھول ڈال رکھے تھے۔ جوگی جھونپڑی کے سامنے جاکر نیم دائرے کی شکل میں زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ تھوڑی دیر بعد جھونپڑی کا دروازہ کھلا اور ا کے اندر سے ایک دہرے بدن کا جوگی باہر نکلا۔ اس کے چہرے کا رنگ گلابی تھا۔ سر کے بال، بھنویں اور مونچھیں منڈی ہوئی تھیں۔ جسم پر صرف ایک ہی گیروے رنگ کا لبادہ لپٹا تھا۔ آنکھوں میں بے حد کشش تھی۔ چہرے پر ایک ملامت اور محبت کا احساس تھا۔ اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور ہاتھ آگے بڑھا کر کہا

’’وشال دیو! میں جانتا تھا تم ایک روز میرے پاس واپس آؤ گے۔ میں تمہیں گاؤں گاؤں جاکر غریبوں بیماروں کی خدمت کرتے اور کیلاش پربت کی چوٹیوں پر ریاضتیں کرتا دیکھ لیا کرتا تھا۔‘‘

میں نے بھی ادب سے سینے پر ہاتھ باندھ لئے تھے۔ میری زندگی کا مشن وقت اور تاریخ کے ساتھ ساتھ سفر کرنا تھا۔ اس لئے مجھے ہر قسم کے ماحول میں رہ کر زندگی کی بوقلمونیوں کو قریب سے دیکھنے میں لذت حاصل ہوتی تھی۔ میری شکل و شال دیو سے ملتی تھی یا قدرت نے اصلی و شال دیو کو کچھ عرصے کے لئے گم کر کے اس کی جگہ مجھے گرو دیو کمار گری کے پاس بھیج دیا تھا کیونکہ وہ کہہ رھا تھا کہ اس نے اپنے دھیان میں یا مراقبے میں مجھے بیماروں کی خدمت کرتے اور کیلاش پربت پر عبادت و ریاضت کرتے دیکھا ہے تو وہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا کیونکہ اس زمانے کے رشی منی اور جوگی شدید ترین اور اذیت بخش ریاضتوں کے بعد گیان دھیان کا وہ مقام حاصل کرلیا کرتے تھے۔ گرو دیو کمار گری نے ضرور اپنے خاص چیلے وشال دیو کو عالم دھیان میں کیلاش پربت پر دیکھا ہوگا۔ مگر قدرت کی ستم ظریفی سے اصلی وشال دیو کچھ مدت کے لئے غائب ہوگیا تھا اور اس کی جگہ میں وہاں اس کی شکل میں نمودار ہوگیا تھا۔

گرد دیو کمار گری کے سینے پر زمرد و عقیق کی مالائیں چمک رہی تھیں۔ کانوں میں بھی قیمتی پتھروں کی بالیاں تھیں۔ وہ بہت صحت مند جوگی تھا۔ مگر اس کا چہرہ بہت نرم اور دنیا کی ہر شے سے محبت کرنے کے لطیف جذبے سے چمک رہا تھا۔ وہ مجھے بڑے پیار سے اپنی جھونپڑی میں لے گیا۔ اس کی جھونپڑی میں عود سلگ رہا تھا۔ فرش پر ہرن کی کھالیں بچھی تھیں۔ وسط میں ایک استھان بنا تھا جس پر صندل کی چوکی پڑی تھی۔ گرد دیو کمار گری چوکی پر پالتی مار کر بیٹھ گیا اور قریب ہی پڑی کانسی کی ایک لٹیا کی طرف اشارہ کیا۔

’’وشال بیٹا!! اس میں گنگا میا کا جل ہے اس کا ایک گھونٹ پی لو۔ تم نے بڑی تپسیا کی ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے جسم میں ریاضت اور تپسیا کی آگ دہک رہی ہے۔‘‘

خدا جانے اسے میرے جسم میں کونسی آگ نظر آرہی تھی۔ بہر حال میں نے بڑے آرام سے لٹیا میں سے گنگا کے جل کا ایک گھونٹ پی لیا۔کمار گری نے کہا ’’بچہ وشال! اب تم یہ کپڑے بدل کر جوگیوں کا لباس پہن لو۔‘‘

’’جوآگیا مہاراج!‘‘

میں گرودیو کمار گری کا خاص چیلا وشال دیو بن کر جوگیوں کی اس کٹیا میں رہنے لگا جہاں دور دور سے آئے ہوئے جوگی نوجوانوں کو یوگا کی تعلیم دی جاتی تھی۔ مجھے بہت جلد معلوم ہوگیا کہ گرودیو کمار گری کو نچلے طبقے کے ساتھ ساتھ امراء اور شرفاء کے طبقے میں بھی بڑی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ راجہ بکراجیت بھی کمار گری کا بڑا احترام کرتا تھا۔ یہ محض اس لئے تھا کہ کمار گری کا کردار بے داغ تھا۔ میں نے اس کے قریب رہ کو دیکھا کہ وہ انتہائی نیک دل اور پاکباز انسان تھا۔ دن میں کسی وقت وہ اجین شہر کے گلی کوچوں میں جاتا اور بیماروں کی خبر گیری کرتا۔ ان کی خدمت کرتا۔ ان کے حق میں دعا کرتا۔ عورتوں کے قریب سے گزرتے ہوئے آنکھیں نیچی کرلیتا۔ کبھی کسی کے ساتھ اونچی آواز میں ہم کلام نہ ہوتا۔ جو کوئی اس کے پاس آتا اسے نیکی اور پاکیزگی کردار کی تلقین کرتا۔ اس کی باتوں کا لوگوں پر فوری اثر ہوتا تھا کیونکہ گرودیو کمار گری خود ایک پاکباز اور سچا انسان تھا۔ مجھے اس کی معیث میں رہتے ہوئے ایک روحانی خوشی مل رہی تھی۔ صبح سورج نکلنے کے بعد وہ اپنے چیلوں کے ساتھ ندی پر جاکر اشنان کرتا۔ بکری کے دودھ کا ایک پیالہ پیتا اور چبوترے پر پالتی مار کر بیٹھ جاتا۔ اس کے سارے چیلے اس کے سامنے نیم دائرے کی صورت میں ادب سے بیٹھ جاتے۔ میں ان سب سے آگے ہوتا کیونکہ میں گرودیو کمار گری کا خاص چیلا تھا۔ پھر وہ اپنا اپدیش شروع کردیتا۔ میں نے دیکھا کہ اس کو انپشدوں اور ویدوں کا بڑا گہرا علم تھا۔ والمیکی کی سنسکرت کی برانائین اسے زبانی یاد تھی۔ ایک پہر دن چڑھے اس کا اپدیش ختم ہوجاتا۔ چیلے صفائی ستھرائی میں لگ جاتے۔ کمار گری اپنی جھونپڑی میں بیٹھ کر گیان دھیان میں مشغول ہوجاتا اور میں کچھ چیلوں کو ساتھ لے کر کھیتوں او رباغ میں پھل پھول اور ترکاریاں چننے چل دیتا۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 109 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار