”ہر رات مجھے 20سے زائد مردجنسی زیادتی کا نشانہ بناتے“ 19سال کی عمر میں برطانیہ سے اغواہونیوالی لڑکی کی ایسی داستان کہ ہرکوئی کانپ اٹھے

”ہر رات مجھے 20سے زائد مردجنسی زیادتی کا نشانہ بناتے“ 19سال کی عمر میں ...
”ہر رات مجھے 20سے زائد مردجنسی زیادتی کا نشانہ بناتے“ 19سال کی عمر میں برطانیہ سے اغواہونیوالی لڑکی کی ایسی داستان کہ ہرکوئی کانپ اٹھے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی معاشروں کی چکاچوند ہماری آنکھوں کو خیرہ تو کرتی ہے لیکن گاہے وہاں سے بربریت کی ایسی خبریں آتی ہیں کہ پسماندہ معاشروں کو شرما دیتی ہیں۔ ایسی ہی کہانی 42سالہ سارا فورسیتھ نامی اس خاتون کی ہے جسے 19سال کی عمر میں برطانوی شہر مانچسٹر میں اغواءکرکے جسم فروشی کے لیے فروخت کر دیا گیا اوراس کے بعد اس پر جو بیتی، سن کر ہی آدمی کانپ جائے۔ میل آن لائن کے مطابق اپنے ان اذیت ناک سالوں کے متعلق بتاتے ہوئے سارا فورسیتھ نے گزشتہ دنوں بتایا ہے کہ ”میں نرس کی نوکری حاصل کرنے کے لیے گیٹ شیڈ سے مانچسٹر آئی تھی جہاں مجھے اغواءکر لیا گیا اور اغواءکاروں نے مجھے مانچسٹر کے ’ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ‘ (مغربی ممالک کے شہروں کا وہ مخصوص علاقہ جہاں قحبہ خانے اور برہنہ ڈانس کے کلب ہوتے ہیں)میں لیجا کر ایک قحبہ خانے پر فروخت کر دیا۔ اس کے بعد کئی سال تک وہاں مجھ سے جسم فروشی کروائی جاتی رہی۔اس سارے عرصے میں ہر رات کو مجھے 20سے زائد مردجنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔“

سارا نے مزید بتایا کہ ”اس قید کے دوران مجھے ایک مغوی لڑکی کے قتل کی ویڈیو دکھائی گئی۔ اس لڑکی کا تعلق تھائی لینڈ سے تھا اور وہ جسم فروشی سے مناسب رقم کما کر دلالوں کو نہیں دے سکی تھی جس پر انہوں نے اسے سر میں گولی مار کر قتل کر دیا۔ اس ویڈیو میں دیکھے گئے ہولناک مناظر آج بھی میری راتوں کی نیند اڑا دیتے ہیں۔ ایک اور موقع پر مجھے ایک نائیکہ کا کٹا ہوا سر دکھایا گیا جو کمرے کے فرش پر رکھا ہوا تھا۔ اس نائیکہ کو جسم فروش لڑکیوں کے کنٹرول کے معاملے پر جھگڑا ہونے پر قتل کیا گیا تھا۔میرے سامنے کئی لڑکیوں کے ساتھ ’رشین رولیٹ‘ (وہ گیم جس میں ریوالور کے ایک خانے میں گولی ڈال دی جاتی ہے اور باری باری کئی لوگوں کی کنپٹی پر رکھ کر ٹرائیگر دبایا جاتا ہے، جس پر گولی آتی ہے وہ مارا جاتا ہے)کھیل کر انہیں قتل کیا گیا۔ اس موقع پر دلال قہقہے لگا کر ہنستے تھے اور جن لڑکیوں کے ساتھ یہ کھیل کھیلا جا رہا ہوتا تھا ان کے چہروں پر ایسا خوف ہوتا کہ میں آج تک وہ مناظر نہیں بھلا سکی۔“رپورٹ کے مطابق سارا 12سال تک اس قحبہ خانے میں رہی اور پھر ایک روز وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ