جرمانہ 50لاکھ روپے کرنے، سزاکی حد 10سال برقرار رکھنے پر اتفاق

جرمانہ 50لاکھ روپے کرنے، سزاکی حد 10سال برقرار رکھنے پر اتفاق

  



اسلام آباد (این این آئی)وزارت خزانہ نے فیٹف ایکشن پلان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو فراہم کر دیا۔ منگل کو سینیٹر فاروق نائیک کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں ڈی جی ایف آئی اے واحد ضیاء بھی شریک ہوئے۔ کمیٹی چیئر مین فاروق ایچ نا ئیک نے کہاوزارت خزانہ نے فیٹف ایکشن پلان کمیٹی کو فراہم کر دیا ہے۔ اجلاس کے دور ان ڈی جی فنانشل مانیٹرنگ یونٹ منصور صدیقی نے کمیٹی کو اینٹی منی لانڈرنگ قانون پر بریفنگ دی اور کہاجرمانہ اور سزاؤں میں اضافہ کیا ہے۔ ڈی جی ایف ایم یو نے کہاترامیم کے تحت جرمانہ 50 لاکھ اور سزا 10 سال قید تک دی جا سکتی ہے۔ سینیٹر عائشہ رضا فا روق نے کہا سزائیں سخت کرنے سے کیا مقاصد حاصل ہو جائیں گے۔ ڈی جی ایف ایم یو نے کہا سزائیں سخت کرنے کیلئے بھارت، سعودی عرب اور ملائیشیا کی سزاؤں کا جائزہ لیا،تکنیکی طور پر سزا میں اضا فہ قانون کی خلاف ورزی روکنے میں معاون ہوتا ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا فیٹف کی طرف سے سزا بڑھانے کیلئے نہیں کہا گیا،انہوں نے فنانشل معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ڈی جی ایف آئی اے نے کہا اگر قید کی سزا تین سال سے کم ہو تو یہ قابل ضمانت ہوتی ہے،نا قابل ضمانت کیلئے ا سکو دس سال کیا۔چیئر مین کمیٹی نے کہا اہم چیز گورننس ہے صرف سزا سخت کرنے سے جرم ختم نہیں ہوتے، پہلے ہی دس لاکھ روپے کی رقم پر ایک سے دس سال تک قید ہے۔ جرمانہ پچاس لاکھ روپے تک کر دیں، تاہم سزا کی حد برقرار رکھتے ہیں۔

سینیٹ خزانہ کمیٹی

مزید : پشاورصفحہ آخر